عسکریت پسند، مولانا اشرف علی تھانوی ؒ کی نگاہ میں

ڈاکٹر فاروق عادل  پير 7 اگست 2023
farooq.adilbhuta@gmail.com

[email protected]

موضوعات بہت سے ہیں۔ ان میں کچھ لذیز ہیں اور کچھ لذیز تر۔ خود نگران وزیراعظم کے انتخاب کا معاملہ ہی ایساہے جس پر پہروں گفتگو کی جاسکتی ہے اور وہ بھی تھکے بغیر لیکن میری نگاہ میں باجوڑ کے واقعے کی اہمیت اس سے بڑھ کر ہے۔

جمعیت علمائے اسلام کے کنونشن پر حملہ آور درجنوں کارکنوں کی شہادت ہماری نگاہ میں دہشت گردی ہے اور ایک گروہ کے خیال کے مطابق نیکی۔ نیکی کے لفظ پر اگر کوئی چونک اٹھے تو اس میں بھی کوئی ہرج نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم جو گزشتہ تین چار دہائیوں سے خاک اور خون میں لوٹنیاں لے رہے ہیں، اس کا جواز بعض لوگ دین سے ہی پیش کرتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ اس تکلیف دہ عمل کو جہاد کا نام دیا جاتاہے۔

اس انداز میں سوچنے والوں میں سے بیشتر بلکہ تمام تر کے نزدیک حضرت مولانا اشرف علی تھانوی علیہ رحمہ منبع رشد و ہدایت ہیں۔

حضرت تھانویؒ اس قسم کے ‘ جہاد’ کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں، ان کے جہادی معتقد یہ جانتے تو صورت کچھ اس قسم کی ہوتی جس کی طرف حضرت امیر خسرو ؒنے اپنے ایک بیت میں اشارہ کیا ہے  ؎

جو میں جانتی بچھڑت ہیں سیاں گھونگٹا میں آگ لگا دیتی

میں لاج کے بندھن توڑ سکھی پیا پیار کو اپنے منا لیتی

ایک ڈیڑھ برس ہوتا ہے، کراچی جانا ہوا۔ کراچی جائیں تو کہ ممکن نہیں کہ اتوار کی صبح صدر میں پرانی کتابوں کے بازار کا چکر نہ لگے۔ اس بار گیا تو ملفوظات نامی کتاب کی چند جلدیں دکھائی دیں۔

جلد کی رنگت گو اُڑی ہوئی تھی، صفحات بھی وقت کی مار کھائے ہوئے تھے اور ان سے اُن پرانی کتابوں کی وہ خوشبو اٹھتی تھی جو کرم خوردہ ہونے سے قبل اپنے قدر دان کے ہاتھ لگ جائیں تو وہ انھیں اپنے سر آنکھوں پر رکھے۔ کتاب کا مختصر نام تو یہی یعنی ‘ ملفوظات’ ہے لیکن ہمارے دینی لٹریچر کی روایت کے مطابق نسبتاً طویل، دلچسپ اور برمحل نام ہے:

‘ الافاضات الیومیہ من الافادات القومیہ’۔

یہ کتاب حضرت تھانویؒ کی روزانہ منعقد ہونے والی ان مجالس کے احوال پر مبنی ہے جس میں دور و نزدیک سے آنے والے عقیدت مند اور سائلین ان سے سوال کرتے اور مدعا پاتے۔

پرانی کتابوں کے بازار سے مجھے اس کتاب کی تین جلدیں میسر آئیں، تیسری، سولہویں اور سترھویں۔ کئی ماہ ہوتے ہیں، میں ابھی تک تیسری جلد کے مطالعے میں ہی مصروف ہوں۔ حضرت تھانویؒ کے بہشتی زیور’ کی نثر پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔

نہیں معلوم کہ وہ کتاب حضرت کے اپنے قلم سے نکلی ہے یا ان کے کسی عقیدت مند نے ان کے ملفوظات کو اپنی زبان دی ہے لیکن اِن ملفوظات کی زبان و بیان اس قدر جاذب، دلچسپ اور پڑھنے والے کو اپنی گرفت میں لے لینے والی ہے کہ بیان سے باہر ہے۔

میں ابھی تک تیسری جلد کی گرفت میں کیوں ہوں؟اس کا سبب یہ ہے کہ حضرت کے بیان کردہ مضامین میں اتنی گہرائی اور وسعت ہے کہ بار بار پڑھنے کو جی چاہتا ہے اور ہر بار کوئی نئی بات اور کچھ نئے معانی منکشف ہو تے ہیں۔ کچھ ایسا معاملہ ہی جہاد، بغاوت یا تند و تیز مہم جوئی یا سیاسی تحریک کے معاملے میں ان کے نظریات کا ہے۔ پہلے تو حضرت کے بیان کردہ ایک محاورے کا لطف لیجیے پھر سمجھتے ہیں کہ حکمت کی اس بات میں ہمارے لیے سبق کیا ہے۔ فرماتے ہیں:

‘ حساب جوں کا توں تو پھر کنبہ ڈوبا کیوں؟’

حضرت تھانویؒ اسی زمانے کے رجل عظیم ہیں جس زمانے میں ہندوستان میں تحریک خلافت کا طوطی بولتا تھا۔ ہم روایتی پڑھے لکھے اور سیاست کی شد بد رکھنے والے صرف یہی جانتے ہیں کہ قائد اعظم محمد علی جناح ؒاور شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؒ نے خود اس تحریک میں شرکت فرمائی اور نہ اپنے مقلدین کو اس میں شرکت کی اجازت دی۔

یہ دونوں بزرگ اسے حکمت کے منافی جانتے تھے۔ ہمارے یہاں جب تحریک خلافت چلائی جا رہی تھی،ترکیہ کی خلافت اسلامیہ میں وہ تمام اسباب پیدا ہو چکے تھے جو کسی نظام کہنہ کے انہدام کے بعد ایک نئے نظام کی تعمیر کو بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ کہنے والے، اقبالؒ ہوں یا بے نظیر سیاسی اور آئینی بصیرت رکھنے والے قائد اعظم ؒ، ان دونوں کو جو چیز اپنے ہم عصروں ہی نہیں بعد میں آنے والوں سے بھی ممتاز کرتی ہے، یہ ہے کہ وہ درپیش حالات کا جائزہ انتہائی غیر جذباتی انداز میں لے کر راہ عمل کا تعین کرتے ہیں۔

ان دونوں کے بعد میں اگر کسی نے غیر جذباتی انداز اختیار کیا تو وہ مولانا مودودی ؒہیں جنھوں نے جہاد کشمیر سے غداری کی گالی تک برداشت کی لیکن 1948 میں قبائل کی مقبوضہ کشمیر پر یلغار کو جہاد تسلیم کرنے سے انکار کیا۔

میرے لیے یہ سب تاریخ ہے اور سامنے کی بات حضرت تھانوی ؒکے ملفوظات ہیں جو ان تینوں بزرگوں سے بھی پہلے ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے اس راستے کی نشان دہی کر چکے تھے جو سلامتی کی طرف جاتا ہے۔

باجوڑ میں جمیعت علمائے اسلام کے کنونشن پر حملہ ہوا تو ملفوظات کی یاد ایک بار پھر تازہ ہوئی اور میں نے اس کی تیسری جلد کے صفحہ 15، 57،58،59 اور 178 سے ایک بار پھر استفادہ کیا۔ آپ سے سوال کیا گیا تھا کہ آپ تحریک خلافت میں شریک کیوں نہیں ہوتے۔ خلافت منہدم ہو رہی ہے اور اسے بچانے کی کوششوں سے آپ نے فاصلہ اختیار کر رکھا ہے۔ اس قسم کے سوالات پر حضرت تھانویؒ نے جو جوابات دیے، وہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔

اس قسم کی تحریکوں اور مسلح بغاوتوں میں جو لوگ شریک ہوتے ہیں، حضرت نے ان کی مثال ایک بنیے سے دی جو آنے پائی کا حساب رکھنے میں بہت پختہ تھا۔ بنیا اپنے اہل خانہ کے ساتھ کسی سفر پر نکلا تو راستے میں ایک دریا آ گیا۔

محتاط بنیے نے دریا سے گزرنے والے راستے کی معلومات اکٹھی کیں تو معلوم ہوا کہ پانی کہیں ٹخنے ٹخنے ہے، کہیں گھٹنے گھٹنے، کہیں کمر تک اور کسی جگہ انسان ڈوب بھی سکتا ہے۔ اس نے ایک اچھے تاجر کی طرح اوسط نکالی تو معلوم ہوا کہ کمر تک پانی ہے لہٰذا آسانی کے ساتھ دریا پار ہو جانا چاہیے لیکن گہرائی میں پہنچتے ہی افراد خانہ ڈوب کر اللہ کو پیارے ہو گئے تو اس نے ماتھے پر ہاتھ مار کر کہا کہ حساب جوں کا توں تو پھر کنبہ ڈوبا کیوں؟

مولانا اشرف علی تھانویؒ کی نگاہ میں اس قسم کی تحریکیں بھی اسی کم عقل بنیے کی طرح غلط اندازوں پر چلائی جاتی ہیں اور بے اندازہ تباہی مچانے کے بعد تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔

حضرت پر جب اعتراض کیا گیا کہ انھوں نے تحریک خلافت سے فاصلہ کیوں اختیار کر رکھا ہے تو انھوں نے فرمایا کہ اس قسم کی تحریکوں کے لیے قوت کی ضرورت ہے اور قوت بغیر اتفاق کے پیدا نہیں ہو سکتی لہٰذا اتفاق کے بغیر جو کچھ بھی ہو گا فساد کہلائے گا۔

سوال ہوا کہ اگر قوت بہم ہو جائے اور مسلمانوں کا ایک امیر بھی چن لیا جائے تو کیا اس کے بعد اس قسم کا جہاد جائز ہو جائے گا؟ آپ نے فرمایا کہ جب ایسا ہو جائے گا تو ایسی صورت میں کامل دس برس تمام شور و غل اور ہر قسم کی تحریکیں روک کر صرف اور صرف اصلاح کا کام کیا جائے گا۔ اس دوران میں کفار سے بھی نہایت لطف اور حسن سلوک سے کام لیا جائے گا۔

اگر یہ طریقہ کار کسی کو مشکل لگتا ہے تو وہ جان لے کہ جو طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے ، اس میں کامیابی ممکن ہی نہیں۔

میرے عزیز دوست مفتی عبد المنتقم سلہٹی حال مقیم لندن نے خبر دی ہے کہ تم خوش قسمت ہو کہ تمھیں حضرت تھانوی کے ان مبارک ملفوظات کی تین جلدیں میسر آ گئی ہیں لیکن ہمارا زمانہ اتنا بھی بدقسمت نہیں۔

آپ کے تمام ملفوظات کی تمام جلدیں ملتان کے کسی ادارے میں محفوظ ہیں۔ اس خبر نے مجھے شاد کام کیا لیکن یہ حقیقت مجھے مستقل دکھی رکھتی ہے کہ مولانا اشرف علی تھانویؒ جیسے عبقری کے تمام تر افادات و نظریات محفوظ ہیں لیکن دکھ اس بات کا ہے کہ یہ مبارک نظریات کیسے محفوظ ہیں کہ کوئی ان سے استفادہ کرنے اور روشنی لینے والا ہے ہی نہیں۔

حیرت ہوتی ہے کہ کچھ طبقات حضرت کے نام لیوا بھی ہیں، ان سے عقیدت اور پیروی کا دعوی بھی رکھتے ہیں لیکن جو کچھ وہ فرما گئے ہیں، کرتے اس کے بالکل الٹ ہیں۔اس باب میں مولانا فضل الرحمان امید کی واحد کرن ہیں۔

جنھوں نے اپنے پیروکاروں کو انتہاپسندی کے راستے پر جانے نہیں دیا وگرنہ کتنے بڑے بڑے نام ہیں جن کے بیانات، فتووں اور’کارناموں’کی وجہ سے لگنے والے زخموںسے آج بھی لہو رس رہا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔