انتخابات سے فرار کا راستہ

سلمان عابد  منگل 8 اگست 2023
salmanabidpk@gmail.com

[email protected]

سیاسی حالات دیکھتے ہوئے یوں لگتا ہے کہ پاکستان میں عام انتخابات کا بروقت انعقاد مشکل ہو جائے گا۔ جو لوگ بھی سیاسی اور غیر سیاسی فیصلہ سازی میں شریک کار ہیں ان کے نزدیک عام انتخابات کا بروقت انعقاد ان کے حق میں نہیں ہوگا۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اب نئی مردم شماری کے نتائج کو بنیاد بنا کر عام انتخابات سے فرار کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔پہلا نقطہ یہ ہے کیونکر مردم شماری کے نتائج بروقت جاری نہیں کیے گئے اور کیوں اس عمل میں جان بوجھ کر تاخیرکی گئی اور اس کے ذمے دار کون ہیں ۔دوسرا نقطہ یہ ہے کہ جب عام انتخابات کے بروقت انعقاد پر حکمران اتحاد کی جانب سے مسلسل یہ ہی یقین دہانی کرائی جارہی تھی کہ انتخابات بروقت ہی ہونگے اور یہ پرانی مردم شماری کی بنیاد پر ہی ہونگے ۔

حکمران اتحاد کے بقول کسی بھی صورت انتخابی عمل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ سیاسی پنڈت اس نقطہ پر بھی زور دے رہے تھے کہ نواز شریف اور آصف علی زرداری کسی بھی طور پر انتخابات میں تاخیر کے حامی نہیں اور ان کے بقول اگر انتخابات میں تاخیر ہوئی تو اس کا بڑا سیاسی نقصان بھی حکمران اتحاد کو ہوگا اور اس کا فائدہ کم نقصان زیادہ ہے ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف حکمران اتحاد نئی مردم شماری کے تناظر میں جاری بحران میں یہ ہی منطق دیتے رہے کہ انتخابات بروقت ہی ہونگے، لیکن اب نئی مردم شماری کے نتائج کے بعد انتخابات میں تاخیر کے سیاسی، انتظامی اور قانونی جواز پیش کیے جا رہے ہیں جو ظاہر کرتا ہے کہ بروقت انتخابات کا انعقاد مشکل ہوگیا ہے۔

بظاہر مردم شماری کے نتائج کے بغیر انتخابات کو قبول نہ کرنے کا کھیل ایم کیو ایم نے ہی پیش کیا تھا اوریہ نقطہ کس نے پیش کیا اور کس کی مدد سے پیش کیا گیا یہ بھی کوئی ڈھکا چھپا کھیل نہیں اور سب جانتے ہیں کہ ایم کیو ایم کا ریموٹ بٹن کس کے ہاتھ میں ہے۔

کھیل میں ایم کیو ایم سامنے آئی مگر اس کی آمد سیاسی تنہائی میں نہیں ہوئی تھی بلکہ حکمران اتحاد کے یہ سوچے سمجھے کھیل کا حصہ ہے۔اسی کھیل کی بنیاد پر اسی موجودہ حکومت نے ایک قدم آگے بڑھ کر نگران حکومت یا نگران وزیر اعظم کے اختیارات میں اضافہ کیا جو ظاہر کرتا ہے کہ نگران حکومت کو عبوری حکومت کا درجہ دیا جاسکتا ہے۔

اس لیے حکمران اتحاد کی جانب سے مسلسل بروقت انتخابات کی یقین دہانی کے باوجود بہت سے سیاسی پنڈت پہلے ہی پیش گوئی یا اپنے تجزیہ کو پیش کرچکے تھے کہ بروقت انتخابات ممکن نہیں ۔ ان کے بقول یہ فیصلہ کہیں اور سے کیا گیا ہے اور حکمران اتحاد کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اس فیصلے کو قبول کریں۔

پیپلزپارٹی جس نے پہلے نئی مردم شمادی کے نتائج کی بنیاد پر انتخابات کروانے کی مخالفت کی تھی مگر مشترکہ مفادات کونسل میں ایک طرح سے انتخابات کی تاخیر پر انھوں نے بھی توثیق کردی ہے ۔حالانکہ پیپلزپارٹی کے نئی مردم شماری کے نتائج پر سخت تحفظات تھے مگر شاید ان پر بھی دباؤ یہ ہی تھا کہ وہ بھی انتخابات کی تاخیر کے کھیل میں مزاحمت کے بجائے توثیق کریں ۔

انتخابی قانون کے سیکشن 17(1) کے تحت الیکشن کمیشن کو قومی اسمبلی ، ہر صوبائی اسمبلی اور مقامی حکومتوں کے انتخابات کے لیے علاقائی حلقوں کی حلقہ بندی کرنا ہوتی ہے۔مردم شماری کے نتائج جاری ہونے کے بعد نئے سرے سے حلقہ بندی لازمی ہوتی ہے ۔ الیکشن کمیشن کے بقول نئی حلقہ بندیوں کے لیے کم سے کم چار ماہ لگ سکتے ہیں ۔

اسی طرح الیکشن کمیشن کو انتخابی فہرستوں کو اپ ڈیٹ کرنا اور دیگر متعلقہ اقدامات بھی اٹھانے ہونگے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پوری مشق آیندہ برس مارچ یا اپریل تک ملتوی ہوسکتی ہے ۔یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ جیسے پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں نگران حکومت کو عبوری حکومت کا درجہ دیا گیا۔

اسی بنیاد پر نئی وفاقی نگران حکومت بھی عبوری حکومت ہوگی ۔البتہ قومی اسمبلی کی عدم موجودگی یا دو تہائی اکثریت سے قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے صوبوں میں نشستوں کی  تعداد میں اضافہ یا صوبوں کے حصہ کا تعین ممکن نہیں ہوسکے گا۔اس سے قبل وفاقی حکومت، الیکشن کمیشن اور دیگر ریاستی اداروں نے پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں بھی 14مئی کو انتخابات کرانے سے واضح طو رپر انکار کردیا تھا ۔

اس وقت حکمران اتحاد کو چیلنجز کا سامنا ہے ۔ ان کے سب سے بڑے سیاسی حریف پی ٹی آئی اور ان کے سربراہ کو فی الحال کوئی بڑا سیاسی بندوبست نہیں ہوسکا۔ اگرچہ وہ توشہ خانہ کے مقدمہ میں گرفتار اور انتخابی عمل میں نااہل ہوچکے ہیں اور دیکھنا ہوگا کہ اب اعلیٰ عدلیہ سے ان کو کوئی بڑا ریلیف مل سکے گا یا نہیں۔لیکن پی ڈی ایم سمجھتی ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کا سیاسی بندوبست جب تک مکمل نہیں ہوتا تو انتخابی عمل ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکے گا۔

ملک کے معاشی حالات ہیں اور جس خوفنا ک انداز میں مہنگائی ہورہی ہے اس کے فوری بعد انتخابی میدان میں اترنا کسی بھی صورت میں حکمران اتحاد کے حق میں نہیں ہے ۔ انتخابات اور ممکنہ جو بھی نتائج ہونگے جس کی بنیاد پر حکومت سازی ہوگی اس پر حکمران اتحاد اور اسٹیبلشمنٹ میں کافی فاصلے ہیں۔

بنیادی طور پر ہماری سیاسی اور انتخابی تاریخ میں منصفانہ اور شفاف انتخابات کبھی ہماری ترجیح کا حصہ نہیں رہا ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جو کچھ بھی ہم نے طے کرنا ہوتا وہ انتخابی کھیل کے سیاسی دربار کوسجانے سے پہلے ہی طے کرلیا جاتا ہے ۔

حالیہ سیاسی بحران میں جمہوریت ہو یا پارلیمنٹ یا ہمارے سیاسی فیصلے پہلے سے زیادہ کمزور ہوئے ہیں۔اس کمزوری کا فائدہ براہ راست ان قوتوں کو ہورہا ہے جو واقعی فیصلہ ساز ہیں ۔ نگران حکومت کو ملنے والے مالیاتی اختیارات کو اسی کھیل کے تناظر میں دیکھا جائے کہ مستقبل کا منظرنامہ کس کے کنٹرول میں ہوگا اور ریموٹ بھی سیاسی لوگوں کے ہاتھوں سے نکل جائے گا۔

نگران حکومت بننے کے بعد اگر واقعی انتخابی عمل میں تاخیر کی جاتی ہے تو خود پی ڈی ایم یا دیگر حکومتی اتحادی جماعتوں کے ہاتھ میں کیا آئے گا وہ خود سوالیہ نشان ہیں۔ اگر بننے والی نگران حکومت مکمل طور پر سیاسی حکومتی اتحادیوں کے برعکس ہوگی اور اس کا ریموٹ کنٹرول کسی اور کے ہاتھ میں ہوگا تو خود حکمران اتحاد میں جو نئی مایوسی جنم لے گی وہ بھی نئی محاذ آرائی کو پیدا کرسکتی ہے ۔

اگر انتخابات میں لمبے عرصہ کی تاخیر کی جاتی ہے تو سیاسی قوتیں چاہے وہ حکومت میں ہوں یا حزب اختلاف میں ان کی بے چینی میں اضافہ ہوگا اور اس کا ردعمل بھی دیکھنے کو ملے گا۔ ایک دفعہ اگر ہم نے انتخابات کی تاخیر کے فیصلہ کو قبول کیا تو پھر اس بات کی بھی کوئی ضانت نہیں ہوگی کہ یہ انتخابات اگلے برس مارچ میں بھی ہوسکیں گے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔