دہشت گردی کے خاتمے کا غیر متزلزل عزم

ایڈیٹوریل  بدھ 9 اگست 2023
افغان حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے پاک فوج کے سربراہ نے کہا کہ کیا احسان کا بدلہ احسان کے علاوہ کچھ اور ہوسکتا ہے۔ فوٹو: فائل

افغان حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے پاک فوج کے سربراہ نے کہا کہ کیا احسان کا بدلہ احسان کے علاوہ کچھ اور ہوسکتا ہے۔ فوٹو: فائل

پاک فوج کے سپہ سالار جنرل سید عاصم منیر نے پشاور میں تاریخی گرینڈ جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ امن کو برباد کرنا چاہتے ہیں، وہ ہم میں سے نہیں ہیں، اگر مذاکرات ہوئے تو وہ صرف پاکستان اور افغان حکومت کے مابین ہوں گے، کسی دہشت گرد گروہ یا جتھے سے بات چیت نہیں کی جائے گی۔

افغان مہاجرین کو پاکستان میں پاکستانی قوانین کے مطابق رہنا ہوگا، افغان حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے پاک فوج کے سربراہ نے کہا کہ کیا احسان کا بدلہ احسان کے علاوہ کچھ اور ہوسکتا ہے۔

پاکستانی فوج کے سپہ سالار نے گرینڈ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے جن صائب خیالات کا اظہارکیا ہے، وہ نہ صرف صورتحال کی درست سمت میں نشان دہی کر رہے ہیں بلکہ دہشت گردی کے خاتمے کا عزم دہرا کر قوم کو دہشت گردوں سے نجات کی نوید بھی سنا رہے ہیں لیکن دوسری جانب ان کا یہ شکوہ کرنا کہ ’’ کیا احسان کا بدلہ احسان کے علاوہ کچھ اور ہوسکتا ہے‘‘ دراصل وہ واضح اور دو ٹوک الفاظ میں کہہ رہے ہیں کہ جن کی خاطر پاکستان نے یہ زخم سہے تھے، وہ آج ہمارے ممنون ہونے کے بجائے ہمیں ہی نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔

پاکستان عالمی سطح کے ہر فورم پر افغانستان کے حق میں آواز اٹھاتا رہا ہے، مگر افسوس افغانستان کی جانب سے پاکستان کی کوششوں کو سراہنے کے بجائے اس کی سر زمین پر دہشت و وحشت کا بازار گرم کر کے اس کے خلوص کا صلہ دیا گیا اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سر پرستی کر کے پاکستان کے ساتھ دشمنی کا عملی ثبوت دیا گیا۔

دوسری جانب پاکستان کے دشمن بھارت کے ساتھ پیارکی پینگیں بڑھا کر اس کی سازشوں کو تقویت پہنچائی گئی، بلاشبہ ریاست کسی دوسری ریاست سے تو مذاکرات کر سکتی ہے مگر ریاستیں اپنے مجرموں سے مذاکرات اور معاہدے نہیں کرتیں بلکہ ان کو پکڑکر قانون کے تحت سزا دلواتی ہیں تاکہ پرامن شہریوں کو تحفظ حاصل ہو جو ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔پاکستان میں دہشت گردی کی جڑیں کثیر الجہتی ہیں جو اندرونی اور بیرونی عوامل کے امتزاج سے جڑی ہیں۔

بنیادی محرکات میں سے ایک طویل عرصے سے جاری سیاسی عدم استحکام اور کمزور طرز حکمرانی ہے جس نے انتہا پسند نظریات اور عسکریت پسند گروہوں کی نشوونما کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا ہے۔

مزید برآں پاکستان کے اسٹرٹیجک محل وقوع نے اسے علاقائی اور بین الاقوامی تنازعات کے لیے میدان جنگ بننے کے لیے حساس بنا دیا ہے جو دہشت گردی کے پھیلاؤ کو مزید ہوا دے رہا ہے۔

دہشت گردی نے پاکستانی معاشرے کے تمام پہلوؤں پرگہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ معصوم جانوں کے ضیاع اور املاک کی تباہی نے خوف اور غیر یقینی کی فضا پیدا کردی ہے جس سے لاکھوں شہریوں کی روزمرہ زندگی درہم برہم ہوگئی ہے۔

کاروباری اداروں، تعلیمی اداروں اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو اقتصادی ترقی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں رکاوٹ ہیں۔ تشدد کے مسلسل خطرے نے سماجی تانے بانے کو بھی کشیدہ کردیا ہے جس کی وجہ سے مختلف کمیونٹیز اور مذہبی گروہوں میں عدم اعتماد پیدا ہوگیا ہے۔ خاص طور پر پشاور میں تو بہت عرصے تک کاروبار بند ہوگئے تھے۔

اب کچھ عرصے سے تھوڑا سا استحکام آیا تھا توکچھ برانڈز نے اور اداروں نے پھر پشاورکا رخ کر لیا تھا اور یہاں کاروباری سرگرمیاں پہلے کی نسبت بہتر ہوئیں، مگر اب اس جاری دہشت گردی کی نئی لہر نے پھر سے سوالیہ نشانات اٹھا دیے ہیں کیونکہ خیبر پختونخوا کے باسی لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک گئے تھے، اب دوبارہ اُن میں وہ سکت نہیں۔ ان افراد کی سوچ پر بھی تعجب ہے جو پاکستانی طالبان کو تو دہشت گرد سمجھتے ہیں جب کہ افغان طالبان کو پاکستان کا دوست اور خیرخواہ تصور کرتے ہیں۔

افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی پناہ گاہیں ہیں۔ انھیں کارروائی کی آزادی ملنا، دہشت گردوں کے پاس جدید ترین ہتھیاروں کی دستیابی پاکستان کی سلامتی متاثر کرنے کی بڑی وجوہات ہیں۔

پاکستان توکئی بار ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ چکا ہے مگر مذاکرات کی کوئی بھی نشست کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو پائی جس سے یہی عندیہ ملتا ہے کہ ٹی ٹی پی ایک مخصوص سیاسی ایجنڈے کے تحت مذاکرات کو کامیاب نہیں ہونے دے رہی، جس کے پیچھے افغانستان کی اسٹیبلشمنٹ اور اشرافیہ کا گروہ ہے۔

اس کے باوجود پاکستان نے نیک نیتی کے ساتھ افغان امن عمل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کرنے والوں میں نام نہاد پڑھے لکھے لوگوں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جن کے اپنے بچے یورپ اور امریکا میں پڑھتے ہیں مگر وہ قبائلی علاقوں، سوات اور مالاکنڈ کے اسکولوں کو تباہ کرنے والوں کو ’’اگر، مگر‘‘ کے ساتھ جواز فراہم کرتے ہیں۔

ایک اور عنصر جس سے دہشت گرد فائدہ اٹھاتے ہیں وہ عام شہریوں کا رویہ ہے۔ ان دہشت گردوں کے ہمدردوں اور ہمنوا گروہوں اور افراد کے علاوہ کچھ لوگ خوف سے اورکچھ ہمدردی میں خاموش رہتے ہیں جو دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتے ہیں۔

ان گروہوں کی سوچ اور فکر ملک میں ابہام کو برقرار رکھتی ہے اور عوام کھل کر انتہاپسندی اور دہشت گرد گروہوں کی مخالفت نہیں کرتے۔ دہشت گردی پر قابو پانے میں ناکامی کی جو سب سے بڑی وجہ اب تک سامنے آئی ہے، وہ ریاستی اداروں اور حکومت کی غیر متوازن اور مبہم پالیسی ہے۔

حکومت ہمیشہ پاکستان کے ایک مخصوص ذہنیت کے حامل طاقتور طبقے کے دباؤ میں رہی ہے، یہ طاقتور گروہ کلچرلی ویسٹرن ہے، ریاستی اداروں میں گہرے تعلقات رکھتا ہے، صنعت و حرفت، شوبز اور کھیلوں میں انتہائی سرگرم اور اسٹیکس رکھتا ہے، یہ گروہ ریاست کے وسائل کو سب طبقات سے زیادہ استعمال کررہا ہے۔

امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا اور مغربی یورپ میں بھی ان کی جڑیں مضبوط ہیں ، انگریزی میڈیم ہونے کی بنا پر کلچرڈ ہے لیکن ذہنی اعتبار سے متعصب،نظریاتی اعتبار سے موقع پرست لیکن فطرتاً حریص اور مقامی بودوباش سے نفرت کرتا ہے، اپنے ملک کے لوگوں کو جاہل،بزدل اور کم تر سمجھتا ہے اور خود کو تورانی و ایرانی اور عرب سے منسوب کرتا ہے۔اس طاقتور گروہ کی سوچ و فکر پاکستان کی شمال مغربی سرحد پر سخت حفاظتی اقدامات کی راہ میں حائل ہے۔اسی وجہ سے پاکستان کی ریاست مصلحت کا شکار ہوتی چلی آرہی ہے ۔

اسی وجہ سے دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز پوری طرح کامیاب نہیں ہوئے ، اسی وجہ سے پاکستان کو ٹی ٹی پی سے مذاکرات پر مجبور ہونا پڑا،مذاکرات اور معاہدوں کی وجہ سے ہی ان گروہوں کو سنبھلنے کا موقع ملتا رہا۔ افغانستان کے اندر جو عدم استحکام ہے، اس کی وجہ پاکستان نہیں ہے۔القاعدہ اور داعش اگر افغانستان میں طاقتور ہوئی ہیںتو یہ سب بھی طالبان قیادت کی مرضی و منشا سے ہوا ہے۔

امریکا کے ساتھ مذاکرات بھی طالبان قیادت کی مرضی سے ہوئے۔افغانستان میں تاجک، ازبک، ہزارہ منگول اور نورستانی تنازعات پاکستان نے پیدا نہیں کیے اور نہ انھیں ہوا دی ہے ۔ان تنازعات کی ذمے دار افغانستان کی سیاسی اشرافیہ ہی رہی ہے اور اب موجودہ عبوری حکومت بھی اس حوالے سے کوئی بریک تھرو نہیں کرسکی ہے ۔آج پاکستان میں جو گروہ دہشت گردی کررہے ہیں، وہ افغانستان کے اندر سے ہی آپریٹ ہوتے ہیں ۔

پاکستان کے اندر ایک بااثرگروہ جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر انتہا پسندی کا سر پرست بنا رہا، یہ گروہ ریاستی سسٹم میں داخل ہوکر انتہا پسند نظریات کی سرپرستی کرتا رہا، دہشت گردوں کو گلوری فائی کراتا رہا، ریاستی میکنزم پر اثرانداز ہوکر انتہا پسند اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں، ہینڈلرز اور منصوبہ سازوں کو بچاتا رہا، یہی وجہ ہے کہ تمام تر قربانیوں کے باوجود پاکستان دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔

پاکستان نے اربوں روپے خرچ کر کے اور جانوں کی قربانیاں دے کر جو باڑ لگائی تھی، اس کو اکھیڑنے کی کوشش کی گئی۔ پاکستان کے سیکیورٹی اداروں اور شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔ افغان حکومت کو اس بابت مطلع بھی کیا گیا مگر کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے دوران پاکستان کی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا، ہمارے سیکڑوں فوجی افسر وجوان، پولیس افسر اور سپاہی، ایف سی کے افسر و سپاہی اور بے گناہ شہری شہید ہوئے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے آگے ہیں۔

وہ متعدد فوجی آپریشنز اور انسداد دہشت گردی کے اقدامات میں مصروف ہیں۔ قوم کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں، انھوں نے دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرنے اور اہم شخصیات کو گرفتار کرنے میں نمایاں پیش رفت دکھائی ہے۔

دہشت گردگروہوں کے اثر ورسوخ کو روکنے اور پاکستان اور پورے خطے کے پر امن مستقبل کو فروغ دینے کے لیے سیکیورٹی فورسز، سول سوسائٹی اور بین الاقوامی برادری کے درمیان باہمی تعاون پر مبنی کوششیں ناگزیر ہیں۔ غیر متزلزل عزم اور اجتماعی کارروائی کے ذریعے ہی پاکستان دہشت گردی کے سائے پر قابو پانے اور ایک روشن اور محفوظ کل کی راہ ہموار کرنے کی امید کرسکتا ہے۔

اہل وطن کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ اب اس عفریت کا کیا کرنا ہے۔ اس کا سرکچلنا ہوگا ورنہ یہ فتنہ بار بار سر اٹھاتا رہے گا۔ ہمیں اپنی پولرائزڈ سوسائٹی کو دوبارہ ایک قوم میں بدلنا ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔