ریاست تو ماں جیسی ہوتی ہے

عابد محمود عزام  اتوار 20 اگست 2023

ریاست کو ماں کہا جاتا ہے لیکن جڑانوالہ کا افسوسناک واقعہ، رانی پور میں دس سالہ بچی کا سفاکیت کے ساتھ قتل، لاہور میں چودہ سالہ ارسلان کا کیس، شیخوپورہ میں پولیس کا ناجائز تعلقات کی خواہش میں خاتون کے شوہر کو جان بوجھ کر پھنسانے کا معاملہ،اسلام آباد میں سول جج کی اہلیہ کے ہاتھوں معصوم ملازمہ بچی کا قتل، فیصل مسجد کے سامنے قلفیاں بیچنے کی پاداش میں ریڑھی والے کو حوالات میں بند کرنا،تونسہ میں والد کی جگہ دس سالہ آکاش کو گرفتار کرنا، لاہور میں گاڑی سائیڈ پر کروانے کے جرم میں بااثر افراد کا ایک سفید ریش وارڈن پر تشدد، بہاولپور یونیورسٹی میں جنسی اور منشیات کا بہت بڑااسکینڈل، عوام کا حق مار کر اشرافیہ پر بے تحاشا نوازشات اور عوام پر مہنگائی اور ٹیکسز کی بھرمار اور اس طرح کے ان گنت معاملات میں ریاست نے عوام کے لیے ایک ماں کا کردار ادا نہیں کیا۔

یہ تو چند واقعات ہیں جو حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر زیر بحث رہے،ورنہ ناانصافی اور ظلم پر مبنی ایسے واقعات کی تعداد اتنی زیادہ ہے جن کا شمار کرنا بھی ممکن نہیں اور برسوں سے عوام یہ سب کچھ برداشت کیے جارہے ہیں۔ ماں کہلوانے والی ریاست کہیں نظر ہی نہیں آتی، لیکن اگر کسی بااثر شخصیت کا اشارہ ہو تو ریاست فوراً سے پہلے اپنا کردار ادا کرتی نظر آتی ہے۔

ریاست کو ماں کہا جاتا ہے، کیونکہ ماں ساری اولاد سے پیار کرتی ہے۔ بلکتے بچے کو دیکھ کر اپنی آغوش میں سمیٹ لیتی ہے۔ ماں ساری اولاد کے ساتھ یکساں سلوک کرتی ہے۔ بعض کو بعض پر فوقیت نہیں دیتی۔ ایک کا حق مار کر دوسرے کو نہیں دیتی۔ ایک پر ظلم کرکے دوسرے سے پیار نہیں کرتی۔ ایک کو تڑپتا چھوڑ کر دوسرے کو سینے سے نہیں لگاتی۔ ایک کے کپڑے چھین کر دوسرے کو نہیں پہناتی۔ ایک کو محروم کر کے دوسری پر نوازشات نہیں کرتی۔ ماں اولاد میں تفریق نہیں کرتی۔ اولاد سے لاپرواہ بھی نہیں ہوتی۔ ماں تو اولاد کا درد دیکھ کر تڑپ جاتی ہے۔

اولاد دکھ میں ہو تو ماں کو راتوں کو نیند نہیں آتی۔ ریاست کو بھی ماں ہی کہا جاتا ہے۔ ریاست میں بسنے والے عوام ریاست کی اولاد کا درجہ رکھتے ہیں۔ عوام کی تکالیف کا احساس اور ضروریات کا خیال رکھنا ریاست پر ماں کی طرح فرض ہے۔ عدالت، پارلیمان اور انتظامیہ سب مل کر ریاست تشکیل دیتے ہیں۔ انھیں عوام کے لیے ماں کا کردار ادا کرنا چاہیے، مگر کیا ریاست عوام کے لیے ماں کا کردار ادا کرتی ہے؟ کیا ریاست عوام کے دکھ درد کو سمجھتی ہے؟ عوام کی تکالیف کا احساس ہے؟ عوام کو تڑپتا دیکھ کر خود تڑپتی ہے؟

بااثر اور طاقتوروں کے مظالم سے تنگ عوام کو تحفظ دیتی ہے؟ عوام کو انصاف فراہم کرتی ہے؟ کیا انھیں اپنی آغوش میں لیتی ہے؟ کیا عوام کی ضروریات پوری کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتی ہے؟ کیا ریاست سب کے ساتھ یکساں سلوک کرتی ہے؟ اشرافیہ اور عام آدمی کو برابر نوازتی ہے؟ کیا ملک کی دولت، ملک کے وسائل، ملک کے ادارے اور سارا نظام اشرافیہ اور عام آدمی کے لیے ایک ہی طرح کام کرتا ہے؟

کیا اشرافیہ اور عام آدمی کو ایک طرح کی سہولیات میسر ہیں؟ یقینا آپ کا جواب نفی میں ہوگا۔ اگر ایسا ہے تو پھر ریاست سب کی یکساں ماں تو نہ ہوئی، بلکہ یہ تو عوام کی سوتیلی ماں ہے۔

جڑانوالہ کا افسوسناک واقعہ آپ کے سامنے ہے۔ توہین قرآن کا معاملہ پولیس کے پاس آیا۔ پولیس نے اپنی ذمے داری پوری نہیں کی۔ معاملے کی تحقیقات نہیں کیں کہ ایسا کس نے کیا اور کیوں کیا؟ اس واقعہ کے پیچھے کن کرداروں کا ہاتھ ہوسکتا ہے؟ کون اس میں ملوث ہوسکتا ہے؟ یہ کس کی سازش ہوسکتی ہے؟ کوئی توہین قرآن کرکے اپنے نام اور تصاویر کے ساتھ تحریر چھوڑ کر اپنی نشاندہی کیوں کرنا چاہتا ہے؟

فوری طور پر ملوث افراد کو پکڑنا ضروری تھا۔ یہ سب کچھ کرنا ریاست کی ذمے داری تھی، مگر روایتی سستی دکھائی۔ سب کچھ تباہ ہوگیا۔ یہ سب کچھ ہوتا رہا، پوری دنیا سوشل میڈیا پر بربادی کے یہ مناظر دیکھتی رہی، مگر ریاست کہیں نظر نہیں آئی۔ ریاست اس وقت ہوش میں آئی جب سب کچھ ختم ہوگیا۔ اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ جیسے اسی قسم کے ماضی کے واقعات میں ملوث افراد کو سزا نہیں ہوئی، اس واقعہ میں بھی اس کی امید نہیں ہے۔

سندھ کے علاقے رانی پورمیں بااثر پیرکی حویلی میںغریب والدین کی 10 سالہ بچی تشدد سے قتل ہوئی۔ بااثرجعلی پیر کا تعلق سیاسی خاندان سے بتایا جارہا ہے۔پیر نے والدین کو کہا بچی بیمار تھی، مر گئی۔ اس کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے، لیکن زبردستی پولیس کے ذریعے والدین سے بیان دلوایا گیا کہ بچی کے جسم پر تشدد کا کوئی نشان نہیں اور بچی کو دفنا دیا گیا۔ بعد میں گھر میں لگے کیمروں سے بچی کی دل دہلا دینے والی ویڈیو سامنے آئی، جس میں وہ حویلی میں موجود ہے اور بااثر سفاک پیر کے اس پر تشدد کے شواہد بھی ملتے ہیں۔

یہ سب کچھ بھی سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آیا۔ ریاست نے یہاں بھی اپنا کردار ادا نہیں کیا اور سفاک قاتل کو سزا کی امید یہاں بھی نہیں ہے۔ اسلام آباد میں سول جج کی اہلیہ کے ہاتھوں قتل ہونے والی ملازمہ بچی کا معاملہ تو آپ نے دیکھ لیا کہ کس طرح اسے بچانے کی کوششیں کی گئیں۔ اسے بچانے کے لیے ہر طریقہ اختیار کیا گیا۔ سزا سے بچانے کے لیے اسے پاگل قرار دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر احتجاج ہوا تو ریاست کو کچھ ایکشن لینا پڑا، لیکن سزا ہوجائے گی؟، حسب روایت اس کی امید یہاں بھی نہیں ہے۔

لاہور کے ارسلان کا کیس بھی ریاست کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ پولیس کی حراست کے دوران ارسلان اور اس کی بہنوں کو پولیس مسلسل جنسی طور پر ہراساں کرتی رہی۔ارسلان ضمانت پر گھر آیا تو پولیس نے دوبارہ گرفتار کرنا چاہا۔ تشدد کیا، اسے بچاتے ہوئے ارسلان کے والد کی موت واقع ہوگئی۔ شیخوپورہ پولیس سے متعلق بھی ایک خاتون کی ویڈیو وائرل ہے کہ پولیس آفیسر نے اس سے ناجائز تعلق قائم کرنے کے لیے اس کے شوہر کو جان بوجھ کر پھنسایا، تاکہ خاتون سے ناجائز تعلق قائم کیا جاسکے۔ ایسے واقعات برسوں سے ہوتے آرہے ہیں۔

پولیس میں کالی بھیڑیں ایسے واقعات میں ملوث ہوتی ہیں، سوال مگر پھر وہی ہے کہ ریاست کہاں ہے؟ ریاست اپنی ذمے داری کیوں پوری نہیں کرتی، ریاست ماں کا کردار کیوں ادا نہیں کرتی؟بہاولپور یونیورسٹی میں جنسی اور منشیات کا بہت بڑااسکینڈل سب جانتے ہیں۔ اسی قسم کے واقعات دیگر یونیورسٹیوں سے متعلق بھی سامنے آئے ہیں۔ ریاست موجود ہے، ریاست کا نظام موجود ہے، لیکن سب کچھ ہوتا رہا اور ریاست سوتی رہی۔

دنیا کو یہ سب کچھ سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوتا ہے۔ایسے واقعات بحیثیت مجموعی ہمارے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ ہماری بچیاں تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے جاتی ہیں اور بااثر جنسی بھیڑیے انھیں نوچنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ایسے واقعات میں ملوث درندوں کو کیفرکردار تک پہنچانا ریاست کی ذمے داری ہے، مگر حسب روایت اس معاملے میں بھی ملوث افراد کو سزا ملنے کی امید نہیں کی جاسکتی، کیونکہ یہاں بااثر افراد کو ہمیشہ بچا لیا جاتا ہے۔

لاہور میں گاڑی سائیڈ پر کروانے کے جرم میں بااثر افراد ایک سفید ریش وارڈن پر تشددکرتے ہیں، مگر ریاست کچھ نہیں کرتی۔  ریاست ہمیں عام آدمی کے حق کے لیے کھڑی نظر نہیں آتی، بلکہ اشرافیہ کی خدمت کرتی نظر آتی ہے۔ریاست اپنے عمل سے ثابت کرتی ہے کہ وہ ماں ضرور ہے، مگر عام آدمی کی نہیں، بلکہ اشرافیہ کی ماں ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔