انسانی دماغ میں زندہ کیڑا نکل آیا

سید عاصم محمود  جمعرات 21 ستمبر 2023
طب کی تاریخ میں جنم لینے والے حیرت انگیز واقعے کی ڈرامائی داستان ۔ فوٹو : فائل

طب کی تاریخ میں جنم لینے والے حیرت انگیز واقعے کی ڈرامائی داستان ۔ فوٹو : فائل

ہمارے ہاں جب کوئی اناپ شناپ بکنے لگے تو کہتے ہیں کہ اس کے دماغ میں کوئی کیڑا گھس گیا۔ یہ تصّورجسے محاورہ بھی کہہ سکتے ہیں، شاید کسی کہاوت سے وجود میں آیا ہو ۔ ممکن ہے کہ کسی انسان کے دماغ میں کوئی کیڑا پیدا ہوا اور وہ اول فول بولنے لگا۔ بس اسی واقعے سے اس تصّور نے جنم لیا کہ انسان کے دماغ میں کیڑاگھس جائے تو وہ باؤلا ہو جاتا ہے۔

تاہم دور جدید میں کسی انسان کے دماغ میں کبھی کوئی زندہ کیڑا نہیں پایا گیا تھا۔ مگر جون 2020ء میں ایک آسٹریلوی خاتون کے ساتھ پیش آنے والے حیرت انگیز واقعے نے ثابت کر دیا کہ انسان کے دماغ میں کیڑا زندہ رہ سکتا ہے۔ گویا اردو محاورے کے پیچھے واقعی کوئی سچا واقعہ موجود ہو گا جس نے اسے جنم دیا۔

64 سالہ خاتون کے دماغ میں زندہ کیڑا جنم لینے کا قصّہ یہ ہے کہ جنوری 2021ء میں اسے مقامی اسپتال میں داخل کیا گیا۔ وہ ریاست نیوساؤتھ ویلز کی باسی تھی اور تین ہفتے سے بیمار۔ پہلے پیٹ میں درد ہوا، پھر دست آنے لگے۔ پھر بخار چڑھ گیا اور ٹھنڈے پسینے آنے لگے۔ جب محلے کے ڈاکٹر کی دوائی سے آرام نہ آیا تو وہ اسپتال پہنچ گئی۔

اب اسپتال کے معالج کا علاج شروع ہوا مگر افاقہ نہ ہو سکا۔ جون 2022ء تک وہ باتیں بھولنے لگی۔ اسے ڈپریشن نے بھی آ گھیرا۔ مقامی اسپتال کا معالج اس کی بیماری کی نوعیت سمجھ نہ سکا، لہذا خاتون کے اہل خانہ کو کہا کہ اسے دارالحکومت کینبرا میں واقع جدید سہولیات سے لیس اسپتال میں لے جائیں۔ کینبرا اسپتال میں جب خاتون کے دماغ کا ایم آئی آر اسکین ہوا تو پتا چلا کہ دماغ میں کچھ خرابی جنم لے چکی۔ یہ خرابی بذریعہ آپریشن دور کرنے کا فیصلہ ہوا۔

سری لنکن نژاد نیوروسرجن، ڈاکٹر ہری پریا بندی نے آپریشن کیا۔ مگر بیچاری سرجن کے وہم وگمان میں نہ تھا کہ خاتون کا دماغ کھولنے کے بعد اس میں سے ایک زندہ کیڑا نکل آئے گا۔ وہ تو مریضہ کے دماغ میں ایک مچلتا ، کدکداڑیاں مارتا سرخ رنگ کا کیڑا دیکھ کر دم بخود رہ گئی۔

یہ جدید طب کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ ایک زندہ انسان کے دماغ میں دوڑتا بھاگتا کیڑا پایا گیا۔ بہرحال اس نے تگ ودو کے بعد کیڑا پکڑا اور ایک چھوٹے سے مرتبان میں محفوظ کر لیا۔ وہ پھر سیدھی اسپتال میں چھوتی امراض کے ڈاکٹر کے پاس پہنچی جو اتفاق سے سری لنکن ہی تھا۔

آج ایک ہفتے بعد کینبرا میں دھوپ نکلی تھی۔ ڈاکٹر سنجے نائیکے اپنے دفتر کے باہر بیٹھا دھوپ سے لطف اندوز ہو رہا تھا کہ ڈاکٹر ہری پریا بھاگتی ہوئی وہاں آ پہنچی۔ وہ کچھ پریشان لگ رہی تھی۔ وہ آتے ہی کہنے لگی: ’’ڈاکٹر سنجے ، شاید آپ کو یقین نہ آئے۔ میں نے ابھی ایک خاتون کے دماغ سے زندہ کیڑا نکالا ہے۔ وہ مرتبان میں خوب چکر کاٹ رہا ہے۔‘‘

یہ آٹھ سینٹی میٹر لمبا کیڑا تھا۔ ڈاکٹر پریا نے اسے نکال کر خاتون کے دماغ کی سرجری کر دی کیونکہ اب معلوم ہو چکا تھا کہ بیماری کی وجہ کیا تھی۔

مگر ڈاکٹر پریا کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیڑے کا کیا کرے؟ اسی لیے وہ مشورہ کرنے ڈاکٹر سنجے کا پاس آ گئی۔ ظاہرہے، وہ بھی حیران پریشان ہو گیا۔ ڈاکٹر پریا کی طرح اس کے لیے بھی زندگی میں یہ پہلا موقع تھا کہ کسی مریض کے دماغ سے زندہ کیڑا نکل آیا۔

آخر اسپتال انتظامیہ نے بہ سرعت ڈاکٹروں کی ایک کمیٹی بنا دی تاکہ وہ جان سکے، کیڑا کس نوعیت کا ہے، اس نے خاتون کو کس حد تک نقصان پہنچایا اور مریضہ کو اب کس قسم کے علاج کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر سنجے بتاتا ہے: ’’ہم نے اسپتال میں موجود میڈیکل کی درسی کتابیں چھان ماریں مگر ایسے کسی کیڑے کا تذکرہ نہیں ملا جو انسانی دماغ میں پلنے بڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ لہذا ہمیں بیرونی ماہر سے مدد لینا پڑی۔‘‘

ڈاکٹر سنجے کی خوش قسمتی کہ کینبرا میں ایک تحقیقی ادارے ، سسرو (The Commonwealth Scientific and Industrial Research Organisation)کی لیبارٹری واقع ہے۔ اس نے کیڑے کا مرتبان لیبارٹری بھجوا دیا۔ وہاں طفیلی کیڑوں کا مطالعہ کرنے والے ایک سائنس داں نے بتایا کہ اس کیڑے کا سائنسی نام ’’Ophidascaris robertsi‘‘ہے۔ یہ ’’راؤنڈ وارم‘‘(roundworm) نامی طفیلی کیڑے کی ایک قسم ہے جو عام طور پر اژدہوں کے جسم میں پایا جاتا ہے۔

متاثرہ خاتون کا گھر ایک جھیل کے قریب واقع ہے۔ اس جھیل کے اردگرد کارپٹ اژدہا (carpet python) پائے جاتے ہیں۔ خاتون اس جھیل کے کنارے سے اکثر خوردنی گھاس کاٹ کر کھانے پکانے میں استعمال کرتی تھی۔

ڈاکٹر محراب حسین آسٹریلیا میں طفیلی کیڑوں پہ تحقیق کرنے والی معروف معالج ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خاتون نے یقنناً ایسی گھاس کاٹ لی جس پر کارپٹ اژدہے نے پوٹی کر رکھی تھی اور اس میں Ophidascaris robertsi کے انڈے یا لاروا موجود تھے۔ایک انڈا یا لاروا منہ کے راستے کسی طرح خاتون کے جسم میں داخل ہو گیا۔

یہ یقینی ہے کہ انڈے یا لاروا کو خاتون کے جسم میں ہم آہنگ ماحول میّسر آیا تبھی وہ پھل پھول گیا۔ لاروا پھر خون کے ساتھ بہتے ہوئے دماغ میں پہنچا اور اس جگہ کو اپنا ٹھکانہ بنا لیا۔ خاتون کے جسم سے کوئی اور کیڑا برآمد نہیں ہوا۔ طویل علاج کے بعد اب وہ صحت مند ہو چکی۔

مگر اس واقعے نے ایک ایسی تلخ سچائی آشکارا کر دی جس نے انسانیت کو اپنے گھیرے میں لے لیا ہے…یہ کہ حیوانیات کی دنیا میں پائے جانے والے جراثیم، وائرس اور دیگر موذی ننھے منے جاندار اب انسانوں کو بھی نشانہ بنانے لگے ہیں۔

’’زونٹک مرض‘‘

حیوانیات سے انسانوں میں منتقل ہوکر جراثیم، وائرس وغیرہ جو چھوتی بیماریاں پیدا کریں، وہ اصطلاح میں ’’زونٹک مرض‘‘ (zoonotic disease)کہلاتی ہیں۔ماضی میں زونٹک امراض کم ہی جنم لیتے تھے۔ وجہ یہ کہ انسان اور جانوروں کا میل ملاپ بہت کم تھا۔ رفتہ رفتہ انسان جانور پالنے لگا تو بیمار پالتو حیوانوں سے جراثیم، وائرسوں وغیرہ نے انسانوں میں منتقل ہو کے انھیں بھی بیمار کر ڈالا۔ یوں بنی نوع انسان میں زونٹک امراض کے پھیلاؤ کا آغاز ہوا جن میں ایڈز، انفلوئنزہ، ایبولا وائرس مرض، طاعون، کانگو بخار، ڈینگی بخار، جذام، منکی پاکس، چیچک اور بہت سے دوسرے نمایاں ہیں۔

آج انسانی آبادی آٹھ ارب سے زائد ہو چکی۔ انسان جنگلوں کے نزدیک بس رہے ہیں۔ یہی نہیں ، وہ ایسے جانور بھی کھانے لگے ہیں جو پہلے نہیں کھائے جاتے تھے۔ اسی لیے انسان اور جانوروں کا میل ملاپ بڑھ رہا ہے۔ اسی عمل نے انسانوں میں زونٹک امراض جنم لینے کی شرح بھی بڑھا دی۔ ماہرین طب کا کہنا ہے کہ پچھلے تیس سال کے دوران تیس نئے چھوتی امراض سامنے آئے ہیں۔ اور ان میں ’’75‘‘ فیصد زونٹک امراض ہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ جانوروں میں بیماریاں پیدا کرنے والے جراثیم اور وائرس وغیرہ اب ماضی کی نسبت زیادہ تعداد میں انسانوں کو شکار بنانے لگے ہیں۔ یہ ایک خطرناک صورت حال ہے کیونکہ کسی جانور کا کوئی نامعلوم جرثومہ یا وائرس انسانی جسم میں داخل ہو کر ایسی نئی چھوتی بیماری پیدا کر سکتا ہے جس کا علاج موجود نہیں۔ تب ظاہر ہے، وہ چھوتی بیماری لاکھوں کروڑوں افراد کو اپنی لپیٹ میں لے کر اگلے جہان پہنچا سکتی ہے۔

اس عجوبے کی حالیہ مثال سارس کوو ۔۲ (Severe acute respiratory syndrome coronavirus 2 ) وائرس ہے جو عرف عام میں کورونا وائرس کہلاتا ہے۔ یہ وائرس صرف چمگادڑ اور پرندوں کے اجسام میں پایا جاتا ہے۔ مگر 2019 ء کے آخری مہینوں میں یہ وائرس کسی دوسرے جانور کے بدن میں داخل ہوا اوراس سے انسانوں میں منتقل ہوگیا۔ اس وائرس نے بھر کوویڈ وبا پھیلا کر دنیا میں کاروبار حیات تقریباً منجمند کر دیا۔ تاحال اس وائرس کے ہاتھوں مصدقہ طور پہ تقریباً ستر لاکھ انسان موت کے منہ میں پہنچ چکے، جبکہ تخمینہ ہے کہ اس نے ایک کروڑ ستر لاکھ سے تین کروڑ انسانوں کو نگل لیا۔

آسٹریلوی خاتون کا معاملہ ہی لیجیے۔ دنیا بھر میں لاکھوں کروڑوں انسان اب جنگلوں کے کنارے رہنے لگے ہیں۔ وہ جنگلوں میں اُگی نباتات بھی کھاتے ہیں۔کسی بھی خوردنی نبات پہ کسی بھی جانور کے جسم سے نکلا جرثومہ یا وائرس موجود ہو سکتا ہے۔ اور اگر وہ کسی طرح انسانی جسم میں پہنچ گیا تو کوئی نئی چھوتی بیماری پھیلا کر انسانی دنیا تہہ وبالا کر سکتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ زونٹک چھوتی بیماریوں کا راستہ کیسے روکا جائے؟ اس سلسلے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی جانور کو چھونے سے قبل اور بعد میں ہاتھ اچھی طرح صابن سے دھوئیے۔ جس علاقے میں جانوروں کی کثرت ہو، وہاں کھانے پینے سے احتراز کیجیے۔ کوئی جانور بیمار ہو تو دستانے پہن کر اسے چھوئیے۔ گوشت، سبزی یا پھل ہمیشہ اچھی طرح دھو کر استعمال کیجیے۔غرض جانور پالتو ہی ہو، اس کے ساتھ بہت احتیاط سے میل رکھیے۔ بعض اوقات جانور بیمار نہیں دکھائی دیتا، مگر اس کے جسم میں خطرناک جرثومہ یا وائرس موجود ہو سکتا ہے۔ خدانخوستہ اگر وہ انسانی جسم میں داخل ہو گیا تو کوئی بھی نئی آفت جنم لے سکتی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ پانچ سال سے کم عمر بچے، پینسٹھ سال سے بڑے انسان، جن کا مدافعتی نظام کمزور ہے اور حاملہ خواتین زونٹک امراض میں زیادہ جلد مبتلا ہو سکتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ جسم میں داخل ہونے والے نئے جرثومے یا وائرس وغیرہ کو ختم نہیں کر پاتا اور وہ پھل پھول کر نئی بیماری پیدا کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔لہٰذا زونٹک امراض کا مقابلہ کرنے کے لیے مدافعتی نظام مضبوط ہونا چاہیے۔ اس طرح کئی موذی بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہے۔ عمدہ غذا اور صحت مند طرز زندگی اس قدرتی نظام کو طاقتور بناتے ہیں۔   n

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔