مخصوص افغان مہاجرین کی برطانیہ منتقلی کا فیصلہ، پروازوں کا شیڈول تیار

آفتاب خان  منگل 24 اکتوبر 2023
فوٹو ایکسپریس نیوز

فوٹو ایکسپریس نیوز

  کراچی: برطانوی حکومت نے پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو اپنے ملک میں پناہ دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے مخصوص تعداد کو خصوصی پروازوں کے ذریعے افغان باشندوں کو لندن منتقل کیا جائے گا۔

اس سلسلے میں بڑی پیشرفت اُس وقت سامنے آئی جب برطانوی ہائی کمشنر نے سول ایوی ایشن کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی اور افغان شہریوں کو برطانیہ منتقل کرنے کے حوالے سے خصوصی پروازیں چلانے پر تبادلۂ خیال کیا۔

سول ایویشن کے وفد کی قیادت ڈائریکٹر سیکیورٹی ایئرکموڈور (ر) شاہد قادر نے کی جبکہ برطانوی ہائی کمشنر کے وفد کی قیادت سیاسی قونصلر نے کی۔

اس اجلاس میں افغان پناہ گزینوں کی برطانیہ میں آباد کاری اور اُن کی منتقلی کیلیے خصوصی پروازیں چلانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ افغان پناہ گزینوں کی برطانیہ منتقلی کیلیے آئندہ ہفتے سے دسمبر کے اختتام تک 12 پروازیں چلائی جائیں گی اور ان کے ذریعے پناہ گزینوں کی مخصوص تعداد کو پاکستان سے لے جایا جائے گا۔

ترجمان سول ایوی ایشن نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ برطانوی وفد اور سی اے اے کی اعلیٰ قیادت کے درمیان افغان پناہ گزینوں کے انخلا کے حوالے سے خصوصی پروازیں چلانے پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔


اس کے علاوہ پاکستانی وفد نے برطانوی ہائی کمیشن کے سامنے ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن خاقان مرتضیٰ کا خصوصی پیغام بھی پہنچایا۔ اجلاس میں اے این ایف، پی آئی اے اور کسٹمز کے نمائندے میں شریک تھے۔

برطانوی وفد نے خصوصی پروازیں چلانے پر رضامندی ظاہر کرنے اور تعاون پر پاکستانی اداروں کا شکریہ بھی ادا کیا۔

افغان پناہ گزینوں کی برطانیہ منتقلی کا شیڈول

سول ایوی ایشن کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق برطانیہ میں آبادکاری کیلیے افغان پناہ گزینوں کا انخلا 12خصوصی چارٹر پروازوں کے ذریعے ہوگا، جس کے ذریعے دو ہزار افغانیوں کو برطانیہ روانہ کیا جائے گا۔

چارٹرڈ پروازوں کا آپریشن دسمبرتک جاری رہے گا اور ہفتہ وار ایک پرواز برطانیہ روانہ ہو گی۔ جمعرات 26 اکتوبر کو پہلی پرواز200 افغان پناہ گزینوں کو لیکراسلام آباد سے برطانیہ روانہ ہوگی، اس سلسلے میں اسلام آباد ایئرپورٹ پر خصوصی انتظامات کیے جارہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔