پاکستان میں کچرے کی ری سائیکلنگ کا بڑھتا رحجان اوردرپیش مشکلات

آصف محمود  اتوار 5 نومبر 2023
فوٹو: فائل

فوٹو: فائل

 لاہور: دنیا کے مختلف ممالک کی طرح پاکستان میں ری سائیکلنگ کا رجحان زور پکڑ رہا ہے۔ لوگ مختلف طریقوں سے پرانی اشیا کو قابل استعمال بنا رہے ہیں۔

پاکستان میں ہر سال 30 لاکھ ٹن سے زائد کچرا پیدا ہوتا ہے لیکن اس میں زیادہ تر کچرا مناسب نظام اور آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے، دوسری طرف کچرے کی ری سائیکلنگ کا رحجان بھی بڑھنے لگا ہے، پلاسٹک کے کچرے کو ری سائیکل کرکے بوتلیں، فرنیچر اور پولیسٹر فائبرتیار کیا جارہا ہے۔

مثال کے طور پر پلاسٹک کی پرانی بوتلوں سے ڈیکوریشن پیس یا ان کو پھول اگانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ پرانے کاغذ کو ری سائیکل کرکے گتہ جبکہ پلاسٹک کو ری سائیکل کرکے مختلف اشیاء تیار کی جارہی ہیں۔

16 سالہ سلیم بند روڈ لاہور کی ایک خانہ بدوشوں کی بستی میں رہتے ہیں، وہ روزانہ مختلف علاقوں میں کوڑے کے ڈھیروں اور وہاں لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (ایل ڈبلیوایم سی ) کی طرف سے رکھے گئے کینٹینروں سے کارآمد کوڑا جمع کرتے اور پھر مقامی کباڑیے کے پاس فروخت کر دیتے ہیں۔

سلیم بتاتے ہیں کہ وہ اپنے دو بھائیوں کے ساتھ مل کر یہ کام کرتے ہیں، تینوں  بھائی روزانہ 20 سے 25 کلوگرام تک کارآمد کوڑا جمع کرتے اور کباڑیوں کے بیچ دیتے ہیں جس میں پلاسٹک کی خالی بوتلیں، گیلن اور پلاسٹک کے ٹکرے شامل ہوتے ہیں، اسی طرح لوہے اور تانبے کے ٹکرے مل جاتے ہیں۔ اس سے روازنہ تین سے چار ہزار روپے کمالیتے ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ آف اربن ازم کے مطابق ری سائیکلنگ انڈسٹری قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار مہیا کرتی ہے۔ پاکستان میں 200 سے زائد ری سائیکلنگ فیکٹریاں ہیں جو کاغذ، پلاسٹک وغیرہ ری سائیکل کرتی ہیں۔ تاہم 30 لاکھ میٹرک ٹن کچرے کا بڑا حصہ ضائع ہوجاتا ہے۔

لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (ڈبلیوایم سی ) کے پراجیکٹ ڈائریکٹر علی نیازی کے مطابق کمپنی لاہور سے روزانہ ساڑھے چار سے پانچ ہزار میٹرک ٹن کوڑا جمع کرتی ہے۔ لکھوڈیر ڈمپنگ سائٹ پر اس کوڑے کو الگ کیا جاتا ہے۔ ا س میں تقریباً 40سے60 فیصد گرین یا آرگینک فضلہ ہوتا ہے جس سے کمپوسٹ کھاد تیار کی جاتی ہے ۔

یہاں لگائے گئے پلانٹ پر ایک سو میٹرک ٹن کھاد تیار کرنے کی صلاحیت ہے۔ یہ کمپوسٹ پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی سمیت نرسریوں کو فروخت کی جاتی ہے۔

علی نیازی کے مطابق لکھوڈیر ڈمپنگ سائٹ سے سے پیدا  ہونے والی گیس پانچ کمپنیوں کو فروخت کی جارہی ہے جبکہ میتھین دھماکے کو روکنے کے لیے 43 گیس وینٹ قائم کیے گئے ہیں۔

اسی طرح کوڑے سے توانائی پیدا کرنے کے منصوبے میں پنجاب پاور ڈیولپمنٹ بورڈ سمیت دیگر پانچ سے سات کمپنیوں نےدلچسپی ظاہر کی ہے۔ اس کے علاوہ کوڑے کی مدد سے جیٹ ایندھن اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات تیار کرنے کے لیے بھی غیرملکی کمپنیوں کے ساتھ بات چیت ہورہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تین ہزار میٹرک ٹن فضلے سے 50 میگا واٹ بجلی تیار کی جاسکتی ہے۔

بیدیاں روڈ لاہور پر واقع گرین ارتھ ری سائیکل کمپنی کے نمائندے محمد بلال کا کہنا ہے ان کی کمپنی جرمنی میں پلاسٹک بینچ برآمد کرتی ہے تاہم 2004 میں انہوں نے ری سائیکل پلاسٹک سے تیار کی گئیں دیگرمصنوعات متعارف کروائیں، وہاں روززنہ 450 میٹرک ٹن ری سائیکل جبکہ 100 میٹرک ٹن پلاسٹک استعمال کیا جاتا ہے۔

ری سائیکل پلاسٹک سے گٹروں کے ڈھکن بھی تیار کیے گئے ہیں جن میں سے اب تک 350 ڈھکن مختلف مقامات پر نصب کیے گئے ہیں ۔ ری سائیکلنگ اورپلاسٹک کی پروسیسنگ کے دوران کوئی کیمیکل استعمال نہیں کیا جاتا۔

اسی طرح سندرانڈسٹریل اسٹیٹ میں پلاسٹک کی بوتلوں کی ری سائیکل کرنے والے ادارے لاثانی فائبرانڈسٹریز کے سربراہ گوہرعباس نے ایکسپریس ٹربیون سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ  ان کے یہاں استعمال شدہ پلاسٹک کی بوتلیں جن میں مختلف برانڈز کے مشروبات اورپانی کی بوتلیں شامل ہیں، ری سائیکل کی جاتی ہیں۔

پلاسٹک کی ان بوتلوں کو کرش کرکے واش کیا جاتا ہے، اس کے بعد اس پلاسٹک کو ری سائیکل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ یومیہ 55 ٹن پلاسٹک کو ری سائیکل کرکے پولیئسٹرفائبر تیار کرسکتے ہیں۔

پولیسٹرفائبر کپڑوں کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ ری سائیکل پلاسٹک سے 32 مصنوعات تیارکی جارہی ہیں۔ رواں سال جنوری سے جولائی تک 11 ہزارٹن پلاسٹک کی بوتلوں کو ری سائیکل کیا گیا ہے۔ اس وقت 20 سے 22 لاکھ میٹرک ٹن سالانہ پلاسٹک کو ری سائیکل کیا جارہا ہے۔

گوہرعباس کہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں ری سائیکلنگ کے حوالے سے کوئی قانونی ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔ نوجوان ٹھوس کچرے کو ری سائیکل کرکے اسے کار آمد بنانا شروع کریں تو وہ اس سے ایک اچھی آمدنی بھی کماسکتے ہیں اور ماحول بچانے میں بھی اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

کاغذ،کارڈ بورڈ،دھاتیں،گلاس اور پلاسٹک کی بعض اقسام کو قابل استعمال بنایا جاسکتا ہےلیکن ہمارے شہروں میں کچرا اٹھانے کا نظام ناقص اور بوسیدہ ہے جبکہ کچرا سڑکوں ، گلیوں میں سڑتا اور بدبو پھیلاتا رہتا ہے اور اسی کچرے کے ڈھیر میں دبی بہت ساری اشیا ء بھی ضائع ہو جاتی ہیں جنھیں قابل استعمال بنایا جاسکتا ہے۔

کچرا ٹھکانے لگانے کے لیے صرف اس کو ڈمپ کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے باقاعدہ ویسٹ مینجمنٹ پالیسی کا حکومتی سطح پر نفاذ کرنا ہوگا۔

انسٹی ٹیوٹ آف اربن ازم کے سینئرپروگرام فیلو ڈاکٹر اعجاز احمد نے ایکسپریس ٹربیون کو بتایا کہ کچرے سے قابل استعمال اشیا چننے والوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے اور اس کے لیے مقامی سطح پر کام شروع کیا جانا چاہیے تاکہ قابل استعمال کچرے سے نہ صرف مختلف اشیاء بنائی جائیں بلکہ اس کی بدولت روزگار کے مواقع سامنے آئیں۔ اس سے شہروں کی آب و ہوا پر بھی مثبت اثر پڑے گااور کچرا بھی کم ہوجائے گا۔

انہوں نے تجویز دی کہ گھروں،دفاتر اور دیگر جگہوں پر کم ازکم دو کوڑے دان ضرور استعمال کریں۔ایک میں نامیاتی یعنی غذا کا بچا کھچا حصہ ڈالا جائے اور دوسرے میں غیر نامیاتی کچرا۔ اس سے نہ صرف ملک کو صاف ستھرا بنا یا جاسکتا ہے بلکہ یہ ہمارے ماحول اور ہماری صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔

اسی طرح قابل استعمال کچرے کے لیے ری سائیکلنگ کرنے والی صنعت کا فروغ بڑھانا ہوگا اور اس حوالے سے اسٹارٹ اپس کی بھی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔

لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (ایل ڈبلیوایم سی ) کے سینئر مینجرکمیونیکشن عمر چوہدری کہتے ہیں کہ ایل ڈبلیوایم سی جو کوڑا جمع کرتی ہے وہ ری سائیکلنگ کے قابل ہی نہیں ہوتا۔

لاہور میں گھروں کی دہلیز سے کوڑا جمع کرنے کے لیے ایک ماڈل پراجیکٹ شروع کیا گیا ہے لیکن ہماری زیادہ تر کولیکشن کنٹینروں کے ذریعے ہی ہوتی ہے۔ لوگ ان کنٹینروں میں تمام قسم کا کوڑا پھینک دیتے ہیں جس میں پلاسٹک ،گلی سڑی سبزیاں، پلاسٹک ،کچرا شامل ہوتا ہے۔

ایل ڈبلیوایم سی کنٹینروں سے کوڑا جمع کرنے والے پلاسٹک اورلوہے سمیت دیگرکارآمد کچرا اٹھا کرلے کرجاتے اور پھر کباڑے کو فروخت کردیتے ہیں۔ ایل ڈبلیوایم سی کی ڈمپنگ سائٹ پرجو کچرا پہنچتا ہے وہ ناقابل استعمال ہوتا ہے اور اسے ری سائیکل نہیں کیا جاسکتا۔

کچھ عرصہ قبل پلاسٹک ری سائیکل کرنے والی  ایک کمپنی نے یہاں سے سیمپل لیے تھے لیکن کمپنی نے اس کوڑے کو ناقابل استعمال قراردے دیا تھا۔

عمر چوہدری کے مطابق شہر میں 17 مقامات پرعارضی کولیکشن پوائنٹ ہیں جبکہ مرکزی ڈپمنگ سائٹ ایک ہی ہے جو لکھوڈئیر میں ہے۔ یہ ڈمپنگ سائٹ 200 ایکڑ رقبے پرمشتمل ہے جس میں سے 120 ایکڑ پر کوڑے کو ڈمپ کیا جارہا ہے۔

یہاں کوڑا ڈمپ کرنے کے لہے 6 پوائنٹ بنائے گئے تھے جن میں سے چارمکمل ہوچکے ہیں جبکہ دو کواس وقت استعمال کیا جارہا ہے۔ یہاں آئندہ ڈھائی سے تین سال تک کوڑا ڈمپ کرنے کی گنجائش ہے۔ ابھی تک 20 ملین ٹن سے زیادہ کوڑا ڈمپ کیا جاچکا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ آرگینک فضلے کو کمپوسٹ کرکے کھاد تیارکی جاتی ہے۔ یہاں نصب پلانٹ میں ایک سو میٹرک ٹن کوڑے کو کمپوسٹ کرنے کی صلاحیت ہے۔ 100 ٹن کوڑے سے تقریبا 10 ٹن میٹریل حاصل ہوتا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی کی قومی تحقیقی تجربہ گاہ برائے موسمیاتی تبدیلی کے سربراہ ڈاکٹر ضیا الحق کہتے ہیں کہ کوڑے کو اگر منظم طریقے سے ڈمپ نہیں کیا جاتا تو اس سے تین طرح سے نقصانات سامنے آتے ہیں۔

ڈمپنگ سائٹ سے نکلنے والی زہریلی گیسیں جن میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور ہائیڈروجن سلفائیڈ قابل ذکرہیں،  یہ گیسیں ہمارے ماحول اورزندگی دونوں کے لیے خطرناک ہیں۔

اس کے علاوہ آرگینک، سبز اورمیڈیکل فضلہ مٹی کے لیے مضر ہوتا ہے ، خاص طورپرمیڈیکل فضلہ ،کیونکہ اس میں ایسے ذرات ہوتے ہیں جو مٹی میں جذب ہوجاتے ہیں۔

اسی طرح فضلے پربارش ہوتی ہے تو وہ پانی مٹی میں جذب ہوکراسے آلودہ کردیتا ہے اوراگرپانی کی مقداربڑھتی رہے تو وہ زیرزمین پانی سے جاکرمل جاتا ہے جس سے زیرزمین پانی بھی آلودہ ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آلودگی سے کئی طرح کی بیماریاں پھیلتی ہیں جن میں سانس کی بیماری، جلدی بیماری، جگرکے امراض ، آشوب چشم قابل ذکرہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔