آفریدی کے بعد راشد لطیف کا بھی بابر اعظم کو کپتان برقرار رکھنے کا مطالبہ

اسپورٹس رپورٹر  پير 13 نومبر 2023
فوٹو فائل

فوٹو فائل

  کراچی: شاہد آفریدی کے بعد اب سابق ٹیسٹ کپتان راشد لطیف نے بھی بابر اعظم کو کپتان برقرار رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ورلڈکپ میں ٹیم کی ناقص کارکردگی پر پوسٹ مارٹم کی تجویز دے دی۔

سابق ٹیسٹ کپتان راشد لطیف نے کہا کہ عالمی کپ میں ہماری فاسٹ بولنگ معیاری نہیں تھی، اگر پاکستان کے پاس اچھے اسپنرز ہوتے تو نتیجہ مختلف ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ پی سی بی میں  سیاسی بنیادوں پر چئیرمین کی تعیناتی کی وجہ سے مسائل ہیں، میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیٸرمین بننے کے لاٸق نہیں ہوں، پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی پر صرف کھلاڑیوں سے نہیں، کھلانے والوں سے بھی سوال ہونا چاہیے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کرکٹ ٹیم کے بولنگ کوچ نے پی سی بی سے راہیں جدا کرلیں

راشد لطیف نے کہا کہ آسٹریلیا کا دورہ سر پر ہے اور سلیکشن کمیٹی کا کوئی وجود نہیں ہے، لہذا بابر اعظم کو کپتان برقرار رکھا جائے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ماضی میں ہماری  ٹی ٹوئنٹی کرکٹ  پر بہت زیادہ توجہ رہی، فرسٹ کلاس اور ٹیسٹ کرکٹ بہت کم کھیلی گئی، ہر عالمی کپ کے بعد کپتان کو الگ کردیا جاتا ہے، بابر کے پیچھے سب نہیں، میڈیا والے لگے ہوٸے ہیں۔

یونس خان

یونس  خان نے کہا کہ مجھے موقعہ ملا تو بطور کوچ  بھی پاکستان کو کامیابی سے ہمکنار کراوں گا، اگر پاکستان عالمی کپ جیت کر آتا تو پوری قوم خوش ہوتی، میڈیا کھلاڑیوں کے خلاف نہیں ہوتا، پاکستان اب تک صرف 3 بڑے ایونٹ جیتا ہے،  پاکستان ٹیم  میں کچھ تبدیلیاں لانی ہوں گی۔

عمر گل

سابق فاسٹ بولرعمر گل نے کہا کہ غلطیوں سے سیکھنا ضروری ہوتا ہے ورنہ کامیابی نہیں ملتی، میرے کچھ کمنٹس ہیں اگر قومی ٹیم کے لیے بولنگ کوچ کی ذمہ داری ملی تو نبھانے کی کوشش کروں گا، مجھے پاکستان نے نام دیا اور پہچان دی، پہلے بھی ملک کے لیے ذمہ داری ادا کی، یہ میرے لیے اعزاز تھا، آئندہ بھی قومی خدمت سمجھ کر ذمہ داری نبھانے کی کوشش کروں گا۔

مزید پڑھیں: ورلڈکپ میں ناقص کارکردگی پر کرکٹ بورڈ نے اہم مشاورت شروع کردی

انہوں نے کہا کہ اگر کوچنگ میں اختیار اور عزت ملا توضرور کروں گا، ملک کے تمام بڑے کھلاڑی عزت اور احترام ملنے پر قوم کے لیے خدمات انجام دینے کے لیے تیار ہیں۔

سعید اجمل

اسپنر سعید اجمل نے کہا کہ عالمی کپ میں ہمارے اسپنرز اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہے، ہمارے اسپنرز توقعات پر پورا نہیں اتر سکے، ہماری اسپن باولنگ کا شعبہ برا نہیں، تاہم ہمارے بولرز کی کارکردگی خراب رہی اور برا وقت آجاتا ہے، لیکن درحقیقت اسپنر سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کر لی گئی تھی جس سے ان پر بہت دباؤ آیا۔

یہ بھی پڑھیں: ’بابراعظم کو ابھی سیکھنے دیں، کپتانی سے نہ ہٹائیں‘

انہوں نے کہا کہ بولنگ ہی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتی ہے، تاہم اگر فاسٹ بولرز وکٹ حاصل نہ کر پائیں تو اسپنرز پر دباؤ  آجاتا ہے اور وہ کچھ نہیں کرسکتے،عالمی کپ میں بہت سی غلطیاں تھیں پاور پلے کا درست استعمال بھی نہیں کیا جا سکا۔

کامران اکمل 

سابق وکٹ کیپر  بیٹر کامران اکمل نے کہا کہ  پی ایس ایل  میں کارکردگی کی بنیاد پر پاکستان ٹیم کو منتخب کرنے کا طریقہ درست نہیں، ہمیں  ڈومیسٹک  نظام ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے، ہر فارمیٹ کا الگ کپتان، واٸٹ اور ریڈبال کا الگ کپتان ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بابر اعظم میرا  کزن ہے  لیکن میں کہتا ہوں کہ اسے بطور بیٹر زیادہ رنز پانے کے لیے قیادت چھوڑ دینی چاہیے، ماڈرن کرکٹ  کے بغیر  تبدیلی نہیں آئے گی، ہمیں چہرے نہیں بلکہ سوچ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

اسے بھی پڑھیں: بابر اعظم کی کپتانی، شاہد آفریدی کا اہم بیان سامنے آگیا

سابق آل راونڈر  عبدالرزاق نے کہا کہ  کپتان میں قوت فیصلہ ہونا چاہیے، قیادت کرنے والے کے ضروری ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو درست سمت میں استمعال کرے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔