اسرائیل حماس عارضی جنگ بندی، مستقل حل ناگزیر

ضیا الرحمٰن ضیا  جمعرات 23 نومبر 2023
اسرائیل نے فلسطینی مسلمانوں پر جس قدر ظلم ڈھایا ہے تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ (فوٹو: فائل)

اسرائیل نے فلسطینی مسلمانوں پر جس قدر ظلم ڈھایا ہے تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ (فوٹو: فائل)

فلسطینیوں پر اسرائیل مظالم کی ایک طویل تاریخ ہے لیکن گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے اسرائیل نہتے فلسطینیوں پر بہت زیادہ ظلم کر رہا ہے۔ ہزاروں فلسطینی شہید اور زخمی ہوچکے ہیں۔ کئی عمارتیں، مکانات، تعلیمی ادارے اور اسپتال تباہ ہوچکے ہیں۔ زخمیوں کے علاج کا کوئی انتظام نہیں۔ بہت سے لوگ بے گھر ہوچکے ہیں، جن کےلیے رہائش ایک مستقل مسئلہ بن چکی ہے۔

اسرائیل نے اتنے مظالم کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا لیکن صرف چار روز کےلیے۔ خیر اس سے بھی اسلامی دنیا میں خوشی کی لہر دوڑ گئی جبکہ اسرائیل کے سارے گناہ دھل گئے۔ عالمی ادارے اور رہنما یہ بتائیں کہ کیا اسرائیل کے اس جنگ بندی کے عارضی اعلان سے فلسطین میں ہونے والے نقصان کی تلافی ہوجائے گی؟ کیا ہزاروں کی تعداد میں مارے گئے فلسطینیوں کی کوئی حیثیت نہیں تھی؟ اس کے علاوہ جو نقصانات ہوئے ان کا کیا ہوگا؟ ان کا ازالہ کون کرے گا؟ یا صرف جنگ بندی کا اعلان ہی ہر زخم کا مرہم ہے۔

یہ بہت اچھی بات ہے کہ جنگ بندی ہوگئی ہے، کم از کم چند روز مزید نقصان تو نہیں ہوگا۔ لیکن یہ جنگ بندی بھی عارضی ہے کیونکہ اس سے قبل بھی کئی بار اسرائیل نے فلسطینیوں کے ساتھ ایساسلوک کیا اور پھر جنگ بندی ہوگئی۔ پھر جب دوبارہ ان کا جی چاہتا ہے تو وہ اسی طرح عوام پر بمباری شروع کردیتے ہیں۔ انہیں کوئی پوچھنے والا جو نہیں ہے۔ اس چار روزہ جنگ بندی کے دوران بھی ان پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا، کسی بھی وقت ان کی درندگی جاگ گئی تو وہ پھر سے نہتے شہریوں پر بم برسانا شروع کردیں گے۔

اگر کوئی اسلامی ملک اپنے دفاع کےلیے ہتھیار بنائے یا خریدے تو اسے طرح طرح کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اسرائیل ہتھیار بنائے، فروخت کرے، نہتے شہریوں کا قتل عام کرے، اسے کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ بہرحال جنگ بندی تو عارضی ہے، یہ مسئلہ مستقل حل چاہتا ہے۔ مزید کتنا عرصہ فلسطینی اسی طرح اسرائیل کے ہاتھوں یرغمال بنے رہیں گے؟ اب تو عالمی برادری کو ترس کھا لینا چاہیے۔ ایک ایک مقام پر پڑی سیکڑوں کی تعداد میں لاشیں بھی عالمی رہنماؤں کا ضمیر نہیں جھنجھوڑ سکیں۔ فلسطین میں معصوم بچوں کا قتل عام ہوا اس پر بھی کسی سورما کا دل نہیں پگھلا، کیونکہ وہ امریکا یا برطانیہ سے تعلق تو نہیں رکھتے کہ عالمی ادارے ان پر ترس کھا کر انہیں بچانے کی کوشش کرتے۔ وہ تو فلسطین کے مسلمان بچے ہیں، جن کی دنیا میں کوئی حیثیت ہی نہیں۔ ان کی اس حالت کو دیکھ کر عالمی برادری کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور مسئلہ فلسطین کا مستقل حل نکالنا چاہیے۔

اسرائیل کا جنگ بندی کا اعلان عارضی ہے جو فقط چار روز کےلیے ہے، اس کے بعد نہ جانے اسرائیل مزید کیا ستم ڈھائے گا۔ اسی طرح اسرائیل کسی معاہدے کا پابند نہیں ہے، وہ کسی بھی وقت دوبارہ بمباری شروع کرسکتا ہے۔ مئی 2021 میں بھی اسرائیل نے نہتے فلسطینیوں کا لہو بہانے کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جس پر فلسطینیوں نے جشن منایا اور اسرائیل نے جشن منانے والے شہریوں پر ہی حملہ کرکے یہ ثابت کردیا کہ اس کے کسی اعلان یا معاہدے پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔ اس سے قبل کہ دوبارہ ایسی کوئی صورتحال پیش آئے، عالمی اداروں کو متحرک ہونا ہوگا۔ سب سے پہلے تو اسلامی ممالک اس کےلیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور مل جل کر اس مسئلے پر ایک لائحہ عمل ترتیب دیں اور مشترکہ طور پر اقوام متحدہ پر دباؤ ڈالیں کہ وہ فلسطین کے مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرائے اور فلسطینیوں کو آزادی دلا کر ایک آزاد و خودمختار ریاست بنانے میں ان کی مدد کرے۔ اپنے امن دستے فلسطین میں تعینات کرے جن میں اسلامی ممالک کے فوجیوں کی تعداد زیادہ ہو، جو وہاں کے تباہ حال شہریوں کی بحالی کا انتظام کریں۔ ان کی رہائش، کھانے اور علاج معالجے کا خیال رکھیں اور اسرائیل کو دوبارہ حملہ کرنے سے باز رکھیں۔

اس بار اسرائیل نے فلسطینی مسلمانوں پر جس قدر ظلم ڈھایا ہے تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی اور امت مسلمہ نے جس قدر بے حسی کا ثبوت دیا ہے تاریخ میں اس کی بھی مثال نہیں ملتی۔ یہ امت مسلمہ کے عیاش حکمرانوں کےلیے خطرے کی گھنٹی ہے جسے محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔ کم از کم اب ہی متحد ہوجائیں اور مسئلہ فلسطین کا کوئی حل نکالیں کیونکہ عالمی طاقتیں فلسطین کو مکمل طور پر اسرائیل میں ضم کرنا چاہتی ہیں اور اس ریاست کا نام و نشان مٹا دینا چاہتی ہیں۔ جس کا واضح مقصد اسرائیل کو عرب ممالک کے درمیان ایک طاقتور ریاست بنا کر مسلمانوں کو مزید کمزور کرنا ہے۔

لہٰذا مسلم ممالک کے سربراہان وقت اور حالات کی نزاکت کو سمجھیں اور اپنی عیاشیوں اور بدمستیوں سے باہر نکل کر کچھ دیر کےلیے امت مسلمہ کے مستقبل کی فکر بھی کرلیں کہ یہ قوم کس طرف جارہی ہے اور اسے کس گڑھے کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ اس کےلیے ایک بھرپور تحریک چلائیں، او آئی سی کو بھی متحرک کریں اور اسے اس کا مقصد یاد دلائیں اور اس کے پرچم تلے اکٹھے ہوکر ایک مشترکہ حکمت عملی اپنائیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے ساتھ ساتھ بڑے ممالک جو اسرائیل کی پشت پناہی کررہے ہیں، ان پر دباؤ ڈالیں کہ اسرائیل کو ناپاک عزائم سے باز رکھتے ہوئے فلسطین کو مکمل طور پر آزادی اور خودمختاری دلائیں۔ اس تحریک کی کامیابی کے بعد نہ صرف فلسطین بلکہ پوری امت مسلمہ کے وقار میں اضافہ ہوگا اور پوری دنیا کے مسلمانوں کے تحفظ کا ایک راستہ میسر آجائے گا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔