دو پہیوں کی سواری اچنبھے کی بات ہے؟

حبا رحمن  منگل 28 نومبر 2023
عقل کی ساری باتیں اس ملک میں بہت سے لوگوں کو سمجھانا کچھ ناممکن سا لگتا ہے۔ فوٹو : فائل

عقل کی ساری باتیں اس ملک میں بہت سے لوگوں کو سمجھانا کچھ ناممکن سا لگتا ہے۔ فوٹو : فائل

پچھلے کچھ عرصے مجھے سڑکوں پر خواتین بائیک اور اسکوٹی چلاتی ہوئی نظر آرہی ہیں، ان کی اس سواری کے کل ملا کے دو پہیے ہوتے ہیں اور اکثر مرد بھی یہی دو پہیوں کی موٹر سائیکل چلا رہے ہوتے ہیں۔

عورتیں بھی بائیک سڑک پر چلا رہی ہوتی ہیں اور مرد بھی اسی سڑک رواں دواں ہوتے ہیں اور یہ عمل صرف پاکستان میں نہیں ہوتا، دنیا کے تقریباً ہر ملک میں ہی ہوتا ہے، گاڑی بھی دونوں مرد اور عورت چلاتے ہیں اور اب بائیک بھی چلا رہے ہیں، تو پھر آخر کیوں صرف پاکستان میں اس دو پہیے کی سواری چلانے والی عورت کو ہر انسان اتنی حیرت بھری نگاہ سے دیکھتا ہے؟ کیوں اس عمل کو انوکھا سمجھا جاتا ہے، جو عورت بائیک چلا رہی ہوتی ہے۔

وہ کافی دفعہ اتنی نظریں اپنی جانب مرکوز دیکھ کر گھبرا سی جاتی ہے اور اس سے کئی دفعہ اس کی بائیک کا توازن بگڑنے کا بہت زیادہ خدشہ پیدا ہو جاتا ہے، لیکن یہ عقل کی ساری باتیں اس ملک میں بہت سے لوگوں کو سمجھانا کچھ ناممکن سا لگتا ہے، پہلے یہ نظریں، عورتوں کے گاڑی چلانے پر بھی تعاقب کرتی تھیں۔

اب اسکوٹر پر سوار خواتین کے لیے بھی دیکھی جا رہی ہیں اور کچھ عورتیں ضرور اپنی خواہش اور خوشی کے لیے اسے چلاتی ہیں، جب کہ بہت سی خواتین ایسی ہوتی ہیں، جو مجبوری میں چلاتی ہیں۔ ایسے میں مجبوری میں بائیک چلانے والی لڑکیاں ویسے ہی بہت سی ٹینشن اور مشکلات اپنے دماغ میں لیے چل رہی ہوتی ہیں اور پھر اوپر سے جب خود پر ایسی نظریں دیکھتی ہیں، تو مزید پریشانی سے دوچار ہوجاتی ہیں۔

آخر ہمارے عوام کے ایسے رویے کب درست ہوں گے۔ ہم دوسرے کو کھل کے جینے دینا اتنا مشکل کیوں کر دیتے ہیں، خاص طور پر عورتوں کو مرد کے لیے تو اس ملک میں عورت کو دو پیروں پر خوشی خوشی آتے جاتے دیکھنا ہی مشکل ہے، تو دو پہیوں کی سواری چلاتے دیکھنا تو بہت ہی اچنبھا ہوگا۔ جینے کا حق مرد اور عورت دونوں کو برابر ہے، تو پھر یہ نظریں صرف پہیوں کی سواری پر بیٹھی عورت پر کیوں؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔