چیمپیئنز ٹرافی 2025؛ بھارت نے ایونٹ کی منتقلی اور ہائبرڈ ماڈل کا واویلا شروع کردیا

ویب ڈیسک / محمد یوسف انجم  منگل 28 نومبر 2023
پاکستان کی میزبانی میں کھیلے جانے والے ایونٹ سے قبل ہی بھارتی میڈیا کے بڑے دعوے سامنے آنے لگے (فوٹو: فائل)

پاکستان کی میزبانی میں کھیلے جانے والے ایونٹ سے قبل ہی بھارتی میڈیا کے بڑے دعوے سامنے آنے لگے (فوٹو: فائل)

پاکستان کی میزبانی میں ہونے والی آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی 2025 سے قبل ہی بھارتی میڈیا نے ٹورنامنٹ کی منتقلی اور ہائبرڈ ماڈل پر واویلا شروع کردیا۔

بھارتی اخبار روزنامہ جاگرن نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی 2025 ایشیاکپ کی طرح ہائبرڈ ماڈل میں کھیلی جائے گی جبکہ بھارت کے میچز یو اے ای میں کھیلے جائیں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر بھارتی حکومت نے پاکستان میں نہ کھیلنے کا موقف تبدیل نہ کیا تو چیمپیئنز ٹرافی 2025 یا تو متحدہ عرب امارات منتقل کردی جائے گی یا پھر بھارت ہائبرڈ ماڈل کے تحت میچز کھیلے گا۔

پاکستان کرکت بورڈ کو 2025 میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کرنی ہے، بھارتی بورڈ نے بھی اس ایونٹ کیلئے پاکستان اپنی ٹیم بھیجنے کی تصدیق کر رکھی ہے۔

مزید پڑھیں: چیمپئنز ٹرافی 2025؛ پاکستانی میزبانی کی راہ میں حائل رکاوٹیں کم

بھارتی بورڈ نے پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے ایشیاکپ کو پہلے ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کی مدد سے ہائبرڈ ماڈل کے تحت کروایا، بعدازاں پھر آئی سی سی کے ذریعے پاکستانی ٹیم کو ورلڈکپ میں شرکت پر مجبور کیا۔

ورلڈکپ کے دوران پاکستانی کرکٹ فینز اور میڈیا کو ویزے نہ دے کر آئی سی سی قوانین اور اخلاقی اقدار کی دھجیاں اڑائی گئیں، بھارتی بورڈ کی من مانیوں پر آئی سی سی نے بھی آنکھیں بند کررکھی ہیں۔

مزید پڑھیں: چیمپئنز ٹرافی، فارمیٹ میں تبدیلی کا مطالبہ ہونے لگا

دوسری جانب ورلڈکپ میں پاکستان کی سیکیورٹی اور آئی سی سی ایونٹ میں شرکت کے حوالے سے پاکستان کو بلانے کے بعد اب بھارت نے چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی پاکستان سے واپس لینے یا پھر ہائبرڈ ماڈل کے تحت کرانے کا شور مچا دیا ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت ابھی سے چیمپئنز ٹرافی پاکستان سے منتقل کرنے کا شوشہ چھوڑنے لگا

واضح رہے کہ یہ چیمپئنز ٹرافی کا نواں ایڈیشن ہوگا، جو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے زیر اہتمام 8 ٹیموں کے درمیان کھیلا جائے گا۔ ایونٹ فروری سے مارچ 2025 کے درمیان شیڈول ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔