انسانی حقوق کی خراب صورتحال

ڈاکٹر توصیف احمد خان  جمعرات 30 نومبر 2023
tauceeph@gmail.com

[email protected]

ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال کسی صورت بہتر نہیں ہو پا رہی ہے۔ انسانی حقوق کے تناظر میں صورتحال اتنی خراب ہے کہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے قائم ہونے والے سرکاری اداروں، سول سوسائٹی کی تنظیموں کے علاوہ بین الاقوامی تنظیمیں بھی تشویش کا اظہارکر رہی ہیں۔

روزنامہ ایکسپریس کی 22 نومبر کی اشاعت میں یورپی یونین کی سالانہ رپورٹ شایع ہوئی ہے۔ اس رپورٹ میں جبری گمشدگیوں اور میڈیا پر پابندیوں پر سخت تشویش کا اظہارکیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں پاکستان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ معاشی، سماجی اور سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے قوانین کو ان کی حقیقی روح کے مطابق نافذ کرے۔

یورپی یونین کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قانون سازی کی اصلاحات، جبری گمشدگیوں کے الزامات اور اظہارِ رائے کے خدشات موجود ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے حقوق کی مسلسل خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

سزائے موت کا دائرہ محدود کرنے کے کچھ اقدامات کیے گئے ہیں مگر اس ضمن میں بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ ہونے کے لیے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔ یورپی یونین کی اس رپورٹ میں 9 مئی کے فسادات اور فوجی عدالتوں میں شہریوں کے مقدمات کا بھی ذکر ہے۔

یورپی یونین کی اس رپورٹ کو مرتب کرنے والے ماہرین کا بیانیہ ہے کہ بدعنوانی سیاسی اور معاشی دونوں طرح سے پھیلی ہوئی ہے۔ رپورٹ میں قومی احتساب بیورو (NAB) کی آزادی پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

ان ماہرین کی ریزرویشن ہے کہ بدعنوانی کے خلاف بیان بازی اور قانونی مقدمات کو سیاسی رنگ دیا گیا ہے۔ اس ملک میں انسانی حقوق کی آگہی کے لیے مسلسل جدوجہد کرنے والے غیر سرکاری انسانی حقوق کمیشن HRCP کی سالانہ کانفرنس اس ماہ کے وسط میں لاہور میں منعقد ہوئی تھی۔

اس کانفرنس میں چاروں صوبوں کے مندوبین نے اپنے صوبوں کی انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا تفصیلی طور پر ذکرکیا ہے۔ ایچ آر سی پی کی اس کانفرنس میں ایک قرارداد میں کہا گیا تھا کہ انسانی حقوق کی صورتحال اتنی خراب ہے کہ عام آدمی خود کو بے اختیار سمجھنے لگا ہے۔ ملک میں بے روزگاری اور معاشی بدحالی بڑھ رہی ہے۔

ایچ آر سی پی کے اراکین کی متفقہ رائے تھی کہ عام انتخابات میں سیاسی انجینئرنگ سے جمہوری نظام کمزور ہوگا اور قانون کی حکمرانی کو دھچکا پہنچے گا ۔ ایچ آر سی پی کے اراکین نے لاپتہ افراد کی تلاش کے کمیشن کے سربراہ کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ اسی طرح معاشرے کے کمزور گروہوں جس میں مذہبی اقلیتیں بھی شامل ہیں کہ حقوق کی پامالی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔

یہ حقیقت ہے کہ نائن الیون کی دہشت گردی کے بعد جب کابل میں لڑی جانے والی جنگ کراچی تک پہنچی اور انتہاپسند گروہوں کی تعداد بڑھ گئی اور ان انتہاپسند گروہوں نے معاشرے کے کمزور گروہوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ ملک کے مختلف علاقوں میں خودکش حملہ آوروں نے عبادت گاہوں، مذہبی جلوسوں اور فوجی تنصیبات پر حملے کیے۔

مذہبی انتہاپسند گروہوں نے خیبر پختون خوا اور سابقہ قبائلی علاقوں میں خواتین کے تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا شروع کیا ۔ بلوچستان میں نواب اکبر بگٹی کے قتل کے بعد دہشت گردی کی ایک لہر آئی۔جن کے خلاف مختلف نوعیت کے آپریشن کیے گئے۔

بلوچستان میں سیاسی کارکنوں کے لاپتہ ہونے کے بعد ان کی مسخ شدہ لاشیں ملنے لگیں۔ لاپتہ افراد کا دائرہ پنجاب اور سندھ تک پھیل گیا۔ یوں پہلے یہ معاملہ میڈیا پر آیا، پھر عدالتوں میں عرض داشتیں داخل ہوئیں۔ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں ایک کمیشن قائم کیا مگر اس کمیشن کی کارکردگی متاثر کن نہ رہی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایت پر سابق وزیر اعظم چیئرمین پی ٹی آئی نے لاپتہ بلوچ طالب علموں کے والدین سے ملاقات کی اور انھیں مکمل تعاون کا یقین دلایا مگرکچھ بھی نہ ہوا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم شہباز شریف کو طلب کیا ۔

شہباز شریف نے معزز عدالت کو یقین دہائی کرائی مگر وہ کچھ نہ کرسکے۔ اب پھر اسلام آباد ہائی کورٹ نے نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کو 50 بلوچ طالب علموں کے لاپتہ ہونے کے معاملے میں عدالت میں طلب کیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے لاپتہ افراد کے لواحقین کو معاوضہ دینے کا حکم دیا ہے مگر یہ معاملہ کسی صورت حل نہیں ہو پا رہا۔

یورپی یونین، اقوامِ متحدہ، انسانی حقوق کونسل اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹوں میں پاکستان میں لاپتہ افرادکے مسئلہ کا ذکر ہوتا ہے۔ یورپی یونین اور ایچ آر سی پی کی رپورٹوں میں معاشرے کے کمزور گروہوں خاص طور پر غیر مسلمان شہریوں کے حالات کا ذکر کیا گیا ہے، مگر یہ واقعات کسی صورت ختم ہوتے نظر نہیں آرہے۔

نگراں حکومت کے دور میں پنجاب کے شہر جڑانوالہ میں مسیحی برادری کے گھروں پر حملے ہوئے۔ اگرچہ ان حملوں میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی مگر کئی گھر نذرآتش کردیے گئے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اپنی اہلیہ کے ساتھ جڑانوالہ گئے۔

نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب اور نگراں وزیر اعظم نے بھی جڑانوالہ کا دورہ کیا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے متاثرین کی بھرپور مدد کی۔ سارا الزام بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را ‘‘ پر ڈال دیا گیا مگر اس سانحے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن نہیں بنا۔ اب لاہور ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کو پھرکمیشن کے قیام کے لیے نوٹس جاری کیا ہے۔

ایک اقلیتی گروہ سے تعلق رکھنے والے ایک فرد نے لاہور میں ایچ آر سی پی کے سالانہ اجلاس میں راقم الحروف کو بتایا کہ جڑانوالہ سانحہ کے بعد لاہور میں ایپکس کمیشن کا اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں پولیس کو پابند کیا گیا کہ وہ اقلیتی گروہوں کو مسلسل تحفظ فراہم کرے۔ ایپکس کمیٹی کے تحت سخت فیصلوں کے بعد حالات میں تبدیلی آئی ہے۔

فوج کے سپہ سالار جنرل عاصم منیر نے بھی علماء کے ایک وفد سے ملاقات کی۔ اقلیتی گروہوں کے ساتھ مثبت رویہ اختیارکیا گیا ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار میں نافذ کیے جانے والے متنازع مذہبی قوانین کو ذاتی دشمنی یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

بے گناہ شہری جیلوں میں بند ہیں۔ ماضی میں برسر اقتدار حکومتوں نے ان قوانین کو بہتر بنانے کے عزائم ظاہر کیے تھے مگر عملاً کچھ نہ ہوا۔ جدید سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ظہور کے بعد یہ معاملات مزید سنگین ہوگئے۔

یورپی یونین، ایچ آر سی پی اور سول سوسائٹی کی دیگر تنظیموں کو اس بات پر تشویش ہے کہ سویلین اسپیس کم ہو رہا ہے اور یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ سیاسی انجینئرنگ کا ہتھیار شفاف انتخابات کو سبوتاژ کردے گا جس کے نتیجے میں اگلی حکومت اور عوام میں فاصلے طویل ہوں گے۔

ایک اہم بات یہ ہے کہ یورپی یونین اور یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس EEAS نے جی ایس پی (GSP) پر مشترکہ رپورٹ شایع کی۔ یہ رپورٹ یورپی یونین کی پارلیمنٹ میں زیرِ غور آئے گی اور پاکستان کی GSP+ کی حیثیت (Status)پر غور ہوگا، اگر یورپی یونین نے GSP+ کا درجہ کم کیا تو گارمنٹس کی صنعت کے لاکھوں مزدور متاثر ہونگے اور ملک کا معاشی بحران بڑھ جائے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔