شدت پسندی کے خطرات اور افغانستان

سلمان عابد  جمعـء 1 دسمبر 2023
salmanabidpk@gmail.com

[email protected]

پاکستان کی ریاست اور حکومت کا ایک بڑا چیلنج انتہا پسندی اوراس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دہشت گردی یا سیکیورٹی کی سنگین صورتحال ہے۔

یہ چیلنج کسی ایک فریق کا نہیں بلکہ پورے ملک کے ساتھ جڑا ہوا ہے اوراس کا علاج بھی ہمیں اجتماعی طور پر مل کر تلاش کرنا ہے۔

کچھ عرصے سے پاکستان میں جو دہشت گردی کی نئی لہر پیدا ہوئی ہے، اس نے ہمیں ایک بار پھر نہ صرف مشکل میں ڈال دیا ہے بلکہ جنجھوڑ بھی دیا ہے ۔ یہ صورتحال ہمیں اجتماعی طور پر سنگینی کا احساس دلاتی ہے او ران حالات سے نمٹنے کے لیے توجہ بھی دلاتی ہے ۔دہشت گردی کی حالیہ لہر کو سمجھنے کا ایک رخ افغانستان کی طالبان حکومت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کا بحران بھی ہے ۔

یہ ہی وجہ ہے کہ ریاستی وحکومتی سطح پر اس نقطہ کو ہی پیش کیا جارہا ہے کہ ان دہشت گردی کے واقعات میں افغانستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان )ٹی ٹی پی (براہ راست ملوث ہے ۔اسی طرح ایک اندازے کے مطابق 16سے 20افغان افراد سامنے آئے ہیں جو مختلف نوعیت کی دہشت گردی سے جڑی کاروائیوں میں براہ راست ملوث ہیں او ران کے شواہد بھی موجود ہیں ۔

اس وقت دہشت گردی اور افغان پاک تعلقات میں ایک ہی بنیادی نقطہ دہشت گردی کا ہے ۔ پاکستان کا موقف ہے کہ ٹی ٹی پی کے لوگ افغانستان میں بیٹھ کر یا افغان سرزمین کو استعمال کرکے پاکستان مخالف سرگرمیوں یا دہشت گردی میں ملوث ہیں ۔

حالانکہ افغانستان میں موجود طالبان حکومت نے پاکستان کو یہ یقین دلایا تھا کہ افغان سرزمین کسی بھی صورت پاکستان مخالف سرگرمیوں یا دہشت گردی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی ۔پاکستان کی افغانستان کے ساتھ ساتھ تواتر کے ساتھ ہونے والی سفارت کاری یا ڈپلومیسی کی جنگ یا بات چیت کے عمل کو دیکھیں تو ا س کے ’’ تحریک طالبان پاکستان مخالف سرگرمیوں ‘‘ کے حوالے سے نتائج مثبت نہیں مل سکے ۔

پاکستان میں سیکیورٹی یا دہشت گردی کی کئی داخلی وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن سب سے بڑی وجہ افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی ہے جسے افغان طالبان حکومت کی کھلی مدد ،حمایت اورسرپرستی حاصل ہے ۔پاکستان تواتر سے افغان حکومت کو ٹی ٹی پی کے بارے میں پاکستان کے موقف اور پالیسی سے آگاہ کررہا ہے لیکن افغانستان کی عبوری حکومت سے کوئی مثبت پیغام نہیں مل رہا ۔

اس وقت افغانستان میں طالبان حکومت پاکستان کے مفادات کے برعکس کام کررہی ہے، ایسے لگتا ہے کہ طالبان حکومت کو ٹی ٹی پی کے حوالے سے ہماری مشکلات کا اندازہ نہیں یا وہ کسی اندرونی کمزوری کا شکار ہے ۔

یہ ہی وجہ ہے کہ ٹی ٹی پی وہاں سے منظم ہوکر اور افغان سرپرستی میں پاکستان میں عدم استحکام کو پیدا کرنے یا دہشت گردی میں ملوث ہے ۔جب بھی پاکستان ان معاملات پر افغان طالبان حکومت کو اپنے تحفظات پیش کرتا ہے تو افغان حکومت اوراس کے وزرا کی جانب سے پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ شروع ہوجاتی ہے ۔

افغان طالبان حکومت کا یہ موقف کہ دہشت گردی پاکستان کا داخلی معاملہ ہے اوروہ اس معاملے کو ٹی ٹی پی کے ساتھ جوڑ کر دیکھنے کے لیے بالکل تیار نہیں اور اسی وجہ سے ہمارے اور افغانستان کے تعلقات میں بگاڑ پیدا ہورہا ہے ۔

پاکستان چاہتا ہے کہ طالبان حکومت افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے خلاف سخت اقدامات کرے ،ان کو افغانستان سے بے دخل کیا جائے اور مطلوب دہشت گردوں کو پاکستان کے حوالے کیا جائے ۔ لیکن افغان حکومت نے ایک بار پھر پاکستان کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی سے نمٹنے کے لیے متبادل راستہ یا طریقہ کار اختیار کرے ۔

ان کے بقول طاقت کے زور پر ٹی ٹی پی کے خاتمے کے علاوہ جو بھی پاکستان متبادل تجویز دے گا، اس پر یقیناً غور کیا جائے گا۔ٹی ٹی پی کے خلاف طاقت کے استعمال کے لیے افغان طالبان حکومت کسی بھی طور پر تیار نہیں ہے ۔

اس جواب کا صاف مطلب ہے کہ افغانستان پر قابض طالبان اور ٹی ٹی پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ افغان طالبان سمجھتے ہیں کہ ٹی ٹی پی نے کرزئی حکومت اور اشرف غنی حکومت کے خلاف جنگ میں ان کا بھرپور ساتھ دیا ہے لہذا ہمیں بھی ان کے ساتھ ہی کھڑا ہونا ہوگا ۔

دوسرا ، اگر وہ ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرتے ہیں تو خدشہ یہ ہے کہ کہیں افغان طالبان کے اندرتقسیم کھل کر سامنے نہ آجائے اور افغان طالبان کا سخت گیر اور پاکستان مخالف گروہ الگ ہوکر ٹی ٹی پی سے اتحاد کرکے معتدل طالبان کو اقتدار سے باہر نہ نکال دے ، یوں افغانستان میں نیا ٹکراؤ پیدا ہوگا جو آخر کار طالبان کے تمام گروہ کے خاتمے پر منتج ہوسکتا ہے ۔

افغان طالبان حکومت کا زیادہ زور پاکستان پر ٹی ٹی پی کے ساتھ مفاہمت یا بات چیت پر ہے اور اس کا موقف ہے کہ اسی نقطہ کو بنیاد بنا کر ہی راستہ تلاش کیا جائے ۔ جب کہ پاکستان کا موقف ہے کہ بار بار ٹی ٹی پی کے لیے نرم پالیسی یا مفاہمتی پالیسی کا ناجائز فائدہ اٹھایا گیا اور اور اس کو پاکستان کی کمزوری سمجھا گیا ۔

یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان میں بھی مجموعی طور پر ٹی ٹی پی کے بارے میں شدید تحفظات ہیں اوروہ سمجھتی ہے کہ ان حالات میں ان کے خلاف بڑا آپریشن ناگزیر ہوگیا ہے ۔افغان طالبان کو سمجھنا چاہیے کہ اگر وہ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ ٹی ٹی پی سے پاکستان کو مفاہمت کا کردار ادا کرنا چاہیے یا بات چیت کی مدد سے مسائل کا حل تلاش کیا جائے تو وہ خود ٹی ٹی پی کی گارنٹی کیونکر نہیں دے رہے۔

اس وقت بھی خیبر پختونخواہ میں جو دہشت گردی کی نئی لہر سامنے آئی ہے اس کے نتیجہ میں عام انتخابات میں سیکیورٹی مسائل اور دہشت گردی کے بڑھنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمن سمیت کئی اور افراد بھی ان خدشات کا اظہار کررہے ہیں ان کو انتخابی مہم کے حوالے سے سنگین سیکیورٹی خطرات ہیں ۔

ایک طرف پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات، ٹی ٹی پی کی پاکستان مخالف سرگرمیاں کے شواہد،افغانستان کے باشندوں کی پاکستان میں دہشت گردی میںملوث ہونے کے شواہد، غیر قانونی طور پر مقیم افغانیوں کا دہشت گردی میں سہولت کاری کرنا، جرائم میں ملوث ہونا ، یہ وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے پاکستان کو مجبور ہوکر افغان باشندوں کے پاکستان سے انخلا کا فیصلہ کرنا پڑا ہے۔

پاک افغان سرحدی نگرانی کو سخت کرنا، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو شفاف بنانے کے لیے قانون سازی کرنا اور اسمگلنگ جیسے دھندے کے خاتمے کے لیے کوشش کرنا ، افغانستان کے شہریوں کے لیے پاسپورٹ اور پاکستانی ویزا لازمی قرار دینے کی ضرورت او راہمیت سمجھ آتی ہے ۔جس انداز میں افغانستان کے باشندے بلا روک ٹوک سرحد پار کرکے پاکستان داخل ہورہے تھے، اس جیسی کوئی مثال دنیا میں نہیں ملتی اور بغیر کسی روک ٹوک کی اجازت دینا اب ممکن نظر نہیں آتا۔

افغان پالیسی کیا ہے اس سے قطع نظر اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کا مفاد کیا ہے ۔ پاکستان کو یقینی طور پر اپنے مفاد کے ساتھ کھڑا ہونا ہے اوراس پر اب کوئی لچک کا مظاہرہ نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ ہی پاکستان کی داخلی استحکام کو یقینی بنانے میں مدد فراہم کرے گا۔

پاکستان کو سفارتی یا ڈپلومیسی کے محاذ پر کافی سرگرم ہونا ہوگا اور دنیا کو یہ باور کرانا ہوگا کہ افغان پاک تعلقات میں کون خرابیاں پیدا کررہا ہے او رکون دہشت گردی کے خاتمہ میں کلیدی کردار ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ افغانستان میں طویل جنگ نے جن طبقوں کو دولت مند بنایا، وہ بھی مختلف طریقوں سے ابہام پیدا کرنے میں مصروف رہے۔

ٹی ٹی پی ہو یا افغان طالبان حکومت ، پاکستان کی بنیادی توجہ اپنے داخلی سیاسی اور معاشی استحکام کی طرف دینی ہوگی کیونکہ داخلی معاملات کی عملی درستگی کے بغیر ہم کچھ بھی نہیں کرسکیں گے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔