نئے نقادوں کے نام خطوط

رفیع الزمان زبیری  ہفتہ 2 دسمبر 2023

ناصر عباس نیئر نے نئے نقادوں کی رہنمائی کے لیے 33 خط لکھے ہیں۔ وہ اپنی کتاب ’’ نئے نقادوں کے نام خطوط‘‘ کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں کہ ان خطوط کا مقصد نئے نقادوں کی تنقید کا بنیادی کردار واضح کرنا ہے۔وہ لکھتے ہیں۔

’’ تنقید، تخلیق کو انسانی فہم کے مدار میں لے آتی ہے اور تخلیق کو ہماری داخلی اور خارجی دنیاؤں میں اپنا کردار، اپنے جملہ امکانات کے ساتھ ادا کرنے میں مدد دیتی ہے۔ وہ تخلیق کی تقدیس اور دینویت اور جنت کی نفی نہیں کرتی، انھیں ان کے اصل سیاق میں پیش کرتی ہے۔‘‘

نئے نقادوں کے نام اپنے پہلے خط ناصر عباس نیئر لکھتے ہیں ’’ نقاد بننے کا فیصلہ کر کے تم نے کچھ ذمے داریاں اپنے لیے لازم کرلی ہیں: سوچنا، سوال اٹھانا، متن سے کلام کرنا، متن کے دوسرے متون سے جاری کلام کو سننا اور پھر جرأت سے لکھنا، مگر شائستگی اور دلیل کا دامن ایک پل کے لیے بھی ہاتھ سے نہ جانے دینا۔

تم ان نقادوں کی طرف پرشوق نگاہوں سے مت دیکھنا جن کے پاس دلیل ہے لیکن شائستگی نہیں اور اگر شائستگی ہے تو دلیل نہیں۔ جو نقاد کسی سابق ادیب یا ہم عصرکی ذات میں خوشی اور فخر محسوس کرے، خواہ اس کے بیان میں کتنی ہی کاٹ ہو اور اس نے دلائل گھڑنے کے لیے کتنی ہی کوشش کی ہو، اسے دور سے سلام کرنا، دوسروں کی ذلت کی خواہش، دلیل اور جواز گھڑلیتی ہے، اسے پہچاننے دیر اور غلطی نہ کرنا۔‘‘

وہ لکھتے ہیں۔’’ یہ سوال کہ تنقیدکی تعریف کیا ہے تو دہائیوں تک ادب لکھنے والے اور اس کا مطالعہ کرنے والے بھی اس کی کوئی تعریف نہیں کر پاتے۔ انھیں اپنی ہی پیش کردہ تعریف کی کئی بار وضاحت کرنا پڑتی ہے۔ یعنی اس تعریف میں ترمیم و اضافہ کرنا پڑتا ہے۔

اس کا سبب ان کا عجز نہیں، یہ سچائی ہے کہ ادب کی حقیقت کو زبان میں پیش کرنے کا کوئی ایک پیرایہ نہیں ۔‘‘

اس سوال کے جواب میں کہ کیا نقاد کا یہ بھی کام ہے کہ وہ اچھے ادب کے مطالعہ کا شوق دلائے ناصر عباس نیئر لکھتے ہیں۔’’ لوگوں کو اچھی کتابیں ضرور پڑھنا چاہئیں اور خراب کتابوں کی طرف نگاہ اٹھاکر بھی نہیں دیکھنا چاہیے۔

خراب کتابیں، خراب کھانے کی مانند ہیں۔ آدمی کو بیمار بنا دیتی ہیں، لیکن سوال تو یہ ہے کہ اچھی اور خراب کتابوں کا فیصلہ کیسے ہوتا ہے؟ کسی اصول کے تحت یا اتھارٹی کے تحت؟ کیا محض کسی مشہور اور مقتدر شخص کے کہہ دینے سے کوئی کتاب اچھی یا اس کے برعکس بن جاتی ہے ؟ شہرت میں اتھارٹی بننے کے وافر جراثیم ہیں اس سے اشتہاری کمپنیاں فائدہ اٹھاتی ہیں۔

تنقید عقلی تجزیے کے سوا کسی کو اتھارٹی نہیں مانتی، اس لیے اچھی یا بری کتاب کا فیصلہ اس تجزیے اور دلیل سے ہوتا ہے جس کے بارے میں نقاد کا ذہن قطعی واضح ہوتا ہے۔

بات یہ ہے کہ جہاں تنقید اپنا کام نہ کررہی وہاں عقل اور منطق و تجزیہ کی جگہ شخص، اس کا منصب، مرتبہ یا محض عمر اتھارٹی سمجھے جانے لگتے ہیں اگر تمہیں تنقید کی دنیا میں زندگی بسرکرنی ہے تو یاد رکھو کہ عمر، منصب، مرتبہ، شہرت، ان میں کوئی چیز دلیل کی جگہ نہیں لے سکتی۔‘‘

ناصر عباس نیئر لکھتے ہیں۔ ’’ اب تک تم یہ اچھی طرح سمجھ چکے ہو، کہ تنقید دلیل کے بغیر نہیں۔ دلیل تنقید کے لیے اہم ہی نہیں ناگزیر ہے۔‘‘ تاہم تنقید سے متعلق یہ اہم ترین بصیرت ہے ، مکمل بصیرت نہیں۔ تنقید سے متعلق بصیرت اس وقت مکمل ہوتی ہے جب یہ بھی جان لیا جائے کہ تنقید میں جسے بطور دلیل پیش کیاگیا ہے کیا وہ واقعی دلیل ہے یا دلیل کے پردے میں مغالطہ پیدا کیاگیا ہے۔

یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ مغالطہ شعوری طور پر پیدا کیاگیا ہو۔ تاریخ کے مطالعے میں تم پر یہ انکشاف ہوگا کہ صرف ایک شخص ہی نہیں، کبھی کبھی پورا عہد ہی مغالطوں میں جی رہا ہے۔‘‘

ایک خط میں وہ لکھتے ہیں ’’ کتابیں پڑھنے کی کئی وجوہ ہیں۔ انھیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ زیادہ تر کتابیں تعلیمی اور پیشہ ورانہ ضرورت کے تحت پڑھی جاتی ہیں۔ کتاب کی صنعت کا سب سے زیادہ انحصار اسی ضرورت کو پورا کرنے پر ہے۔ باقی کتابیں شخصی، نجی وجوہ سے پڑھی جاتی ہیں۔ شخصی وجوہ ہر شخص کے ساتھ بدل جاتی ہیں۔

تم کچھ ایسے لوگوں سے ملو گے جو کتابوں کا مطالعہ محض عادتاً کرتے ہیں۔ جس طرح کچھ لوگوں کو چائے، کافی ، سگریٹ، شراب، کرکٹ ، شطرنج، غیبت کرنے کی، عورتوں سے فلرٹ کرنے کی عادت ہوتی ہے اسی طرح کتابیں پڑھنے کی عادت ہوتی ہے۔

اسی طرح کچھ لوگ محض تفریحاً مطالعہ کرتے ہیں۔ عادتاً مطالعہ اور تفریحاً مطالعہ میں بس اتنا فرق ہے کہ عادتاً مطالعہ باقاعدگی سے کیا جاتا ہے اور تفریحاً صرف اس وقت جب فرصت ہو اور دل بہلنے کا کوئی دوسرا سامان نہ ہو۔

تمہارا سابقہ کچھ ایسے لوگوں سے بھی پڑے گا جو کتابیں اس لیے پڑھتے ہیں کہ وہ دنیا میں اپنے عالم فاضل ہونے کی پہچان چاہتے ہیں۔ انسانوں کا ایک چھوٹا سا گروہ تمہیں ایسا ملے گا جو کتابیں اس یقین سے پڑھتا ہے کہ صرف انھی کے ذریعہ وہ اپنے اندر کے زخموں کی شناخت کرسکتا ہے اور اگر ان کا کوئی اندمال ہے تو اس تک پہنچ سکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔