افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کیخلاف موثر کارروائیوں کی یقین دہانی کرا دی، دفتر خارجہ

کامران یوسف / مانیٹرنگ ڈیسک  ہفتہ 2 دسمبر 2023
عالمی برادری فلسطینیوں پر جاری بمباری روکنے کیلیے کردار ادا کرے، ترجمان(فوٹو: فائل)

عالمی برادری فلسطینیوں پر جاری بمباری روکنے کیلیے کردار ادا کرے، ترجمان(فوٹو: فائل)

اسلام آباد: افغان طالبان نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان( ٹی ٹی پی )کے خلاف موثر کارروائیاں کرنے کی پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ہسپتالوں، عبادت گاہوں اور تعلیمی اداروں پر حملے کیے گئے، پاکستان اسرائیل کے طبی مراکز پر حملوں کی بھی عالمی تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے جاری جنگی جرائم پر دنیا کو بات کرنی چاہیے۔اْنہوں نے بتایا کہ نگراں وزیراعظم نے کویت اور یو اے ای کے دورے کیے اور ان دوروں کے دوران فلسطین کی صورتحال سمیت اہم امور پر بات کی گئی۔

اْنہوں نے کہا کہ اِدھر کشمیر میں بھارتی مظالم جاری ہیں، ورلڈ کپ کے دوران خوشی منانے والے کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا، بھارت مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشتگردی بند کرے۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں پاکستانی طالبان پر اسلحہ لے کر چلنے پر پابندی

ترجمان دفتر نے بتایا کہ نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کاپ 28کانفرنس میں شرکت کیلئے یو اے ای کے دورہ پر ہیں، نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کانفرنس سے خطاب کریں گے ، کانفرنس میں پاکستان ترقی پذیر ممالک کیلئے لاس اینڈ ڈیمج فنڈ کی ضرورت پر روشنی ڈالے گا۔

ممتاز زہرہ بلوچ نے بتایا کہ افغان طالبان نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف موثر کارر وائیاں کرنے کی پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اب ہم ان گروپوں کے خلاف موثر کارروائی دیکھنا چاہتے ہیں اور ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کسی بھی کارروائی کے حوالے سے خاطر خواہ نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 26 نومبر کو بنوں میں ہونے والے خودکش حملے کی ذمہ داری حافظ گل بہادر کے گروپ نے قبول کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اگست 2021 میں افغان طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے پاکستان میں ہونے والے حملوں میں یہ تازہ ترین حملہ تھا۔ان کا کہناتھا کہ پاکستان بھارت کی ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی، تخریب کاری اور جاسوسی کا نشانہ بنا ہوا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔