رقصِ ابلیس

شکیل فاروقی  منگل 5 دسمبر 2023
S_afarooqi@yahoo.com

[email protected]

اسرائیل فلسطین جنگ کو ایک ماہ گزرچکا ہے۔ انسانیت لہو لہان ہے اورکشتوں کے پُشتے لگے ہوئے ہیں اور رقصِ ابلیس جاری ہے۔

شیطان انسانوں کی لاشوں پرکھڑا ہوا قہقہوں پر قہقہے لگا رہا ہے اور پوری دنیا تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ہر آن اور ہر لمحہ دل دھڑکتا رہتا ہے کہ کہیں یہ چنگاری شعلوں میں تبدیل نہ ہوجائے اور بارود پر بیٹھی ہوئی دنیا بَھک سے اڑ جائے۔

1948کی وہ منحوس گھڑیاں یاد آرہی ہیں جب فلسطین اورکشمیر کے تنازعات نے امنِ عالم پر کاری زخم لگائے تھے جو رِستے رِستے اب گہرے ناسور بن چکے ہیں اور اِن کے مندمل ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔

کوئی امید بر نہیں آتی

کوئی صورت نظر نہیں آتی

امنِ عالم کے خواہاں حیران و پریشان ہیں کہ کیا کریں اور اِن مسائل کو کس طرح حل کریں۔ فلسطین کے تنازعہ نے اِس وقت انتہائی سنگین صورتحال پیدا کردی ہے اور اسرائیل کی قیادت نے امنِ عالم کو شدید خطرات میں ڈال دیا ہے۔ کسی کو معلوم نہیں کہ کب اورکس وقت قیامتِ صغریٰ برپا ہوجائے۔ ویسے سچ پوچھیے تو خطہ کے موجودہ حالات قیامتِ صغریٰ سے کچھ کم نہیں ہیں۔

طاقت کے زعم میں بدمست مغربی ممالک بشمول امریکا، برطانیہ، فرانس جارح اسرائیل کی پشت پناہی کر رہے ہیں جن کی شہ پا کر اسرائیل جامہ سے باہر نکل چکا ہے۔

اُسے وہ دن یاد نہیں کہ جب فلسطینیوں نے ’’ ہولو کاسٹ ‘‘ کا شکار ہونے کے بعد ترس کھا کر اُس کے اُجڑے ہوئے لوگوں کو پناہ دی تھی۔سچ پوچھیے تو فلسطینیوں کا انسانی ہمدردی کا یہ اقدام اُس کے لیے گناہِ کبیرہ بن چکا ہے۔

گویا نیکی برباد گناہ لازم۔ اسرائیل نے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا ہے اور ظلم و ستم کی انتہا کر دی ہے لیکن فولادی عزم فلسطینیوں کے پایہ استقامت میں کوئی لرزش نہیں آئی ہے اور جوں جوں اُن پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، اُن کے حوصلے بلند سے بلند تر ہو رہے ہیں۔ دلیر فلسطینیوں کی نسلوں پر نسلیں گزر رہی ہیں لیکن وہ ظالم کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

دشمن سے ہار مان لینا فلسطینیوں کے خمیر میں شامل نہیں ہے۔ وقت چاہے کتنا بھی گزر جائے اور اسرائیل کی سفاکیت خواہ کسی بھی حد تک نہ پہنچ جائے فلسطینی چٹان کی طرح اب اپنی جگہ پر ڈٹے رہیں گے۔ انھیں یقین ہے کہ ظلم جب حد سے گزرتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔

فلسطینیوں کی مظلومیت نے اب امریکا، برطانیہ اور یورپی یونین کے عوام کے ضمیرکو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور وہاں بھی اسرائیل کے خلاف مظاہروں پر مظاہرے ہو رہے ہیں جن کے آگے وہاں کی حکومتیں بھی بے بس نظر آرہی ہیں اور حالات اُن کے قابو سے باہر ہوتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

اِس کے علاوہ بیرونی دنیا میں آباد یہودیوں میں بھی اضطراب کی لہر دوڑ چکی ہے جس کا شدید مظاہرہ ہو رہا ہے۔

اسرائیل کے سنگدل وزیرِ اعظم نیتن یاہوکی نیّا بھی ڈول رہی ہے۔ یہ بار غور طلب ہے کہ یہودی دنیا کی معیشت اور کاروبار پر چھائے ہوئے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلم ممالک نے فلسطین کے مسئلہ پر اپنی ذمے داری کا احساس نہیں کیا ہے اور اسرائیل کے ساتھ اپنے تجارتی اور سفارتی تعلقات کو بھی منقطع نہیں کیا ہے۔

یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ بعض مسلم ممالک نے اِس جانب توجہ دی ہے اور قدم اٹھایا ہے۔ دنیا کے ستاون مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی نے فلسطین کے مسئلہ پر غورکیا ہے اور چند اہم فیصلے بھی کیے ہیں جو ایک حوصلہ افزا اقدام ہے۔

جہاں تک مسلم ممالک کے عوام کا تعلق ہے تو اپنے فلسطینی بھائیوں کے لیے اُن کے دلوں میں انتہائی ہمدردی اور جوش وخروش اور جذبہ پایا جاتا ہے اور وہ دامے دِرمے سخنے اُن کی مدد بھی کر رہے ہیں۔ وطنِ عزیز پاکستان اِن میں پیش پیش ہے۔

تیل پیدا کرنے والے مسلم ممالک نے بھی مسئلہ فلسطین کے حوالے سے ایک کارگر حکمتِ عملی اختیارکی ہے جس نے اسرائیل اور اُس کے حواریوں اور حمایتیوں کو اپنی رَوِش تبدیل کرنے پر مجبورکردیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔