اسرائیل ہتھیار کی مارکیٹ

وسعت اللہ خان  منگل 5 دسمبر 2023

دوسری عالمی جنگ کے ایک معروف امریکی جنرل اومر بریڈلے کا مقولہ ہے کہ ناتجربہ کار جنرلوں کا سارا زور حکمتِ عملی پر ہوتا ہے جب کہ تجربہ کار جنرلوں کے لیے سب سے اہم رسد کا یقینی ہونا ہے۔

ہر پیشہ ور فوج اپنے دشمنوں کی طاقت اور ممکنہ جنگوں کا تجزیہ کرتے ہوئے اس بات کو دھیان میں رکھتی ہے کہ اس کے پاس آڑے وقت کے لیے اسلحے کا کم ازکم کتنے دن کا ذخیرہ رہنا چاہیے۔کیونکہ ایک بار جنگ شروع ہو جائے تو اکثر پہلے سے بنائی ہوئی حکمتِ عملی پیچھے رہ جاتی ہے اور پھر جنگ اپنی حکمتِ عملی لڑنے والوں کو املا کرواتی ہے۔

جس حریف کے پاس محض کلاشنکوفیں اور راکٹ لانچرز ہوں، اسے رسد کی کمی بیشی اتنا نہیں ستاتی جتنا تنگ وہ دشمن ہوتا ہے جس کا سارا دار و مدار ہی جدید ترین اسلحے اور حریف کو بے بس کر دینے والی فائر پاور ہو۔جیسے ہی اس رسد میں کمی آتی ہے، ہاتھ پیر پھولنے شروع ہو جاتے ہیں ۔

مثلاً اسرائیل انیس سو چھپن کی سویز جنگ جیتنے میں اس لیے ناکام رہا کیونکہ جنگ اندازوں سے زیادہ طول پکڑ گئی تھی۔ تب تک امریکا بھی اسرائیل کی زلفوں کا اتنا اسیر نہیں ہوا تھا۔ جون انیس سو سڑسٹھ کی جنگ اسرائیل اس لیے جیت پایا کہ اس نے بلا اعلان اپنی پوری فضائی قوت داؤ پر لگا دی اور مصر اور شام کی فضائیہ کو زمین پر کھڑے کھڑے تباہ کر دیا۔

مغربی دنیا اس حیرت انگیز حکمتِ عملی پر عش عش کر اٹھی اور امریکا کو اسرائیل کی شکل میں ایک ایسا ساکت طیارہ بردار جہاز نظر آ گیا جسے وہ تیل سے مالا مال مشرقِ وسطیٰ کو کنٹرول کرنے کے لیے اعتماد کے ساتھ استعمال کر سکتا ہے۔

اپنی ذیلی جنگیں لڑ سکتا تھا اور علاقے میں ہونے والی ہر پیش رفت پر عقابی نگاہ رکھ سکتا تھا۔چنانچہ امریکا نے نہ صرف اسرائیل کو اپنی فوجوں کے استعمال کے اسلحے کے لیے ایک ذخیرہ گاہ کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا بلکہ صیہونی افواج کو بھی دانتوں تک مسلح کر دیا۔

مگر اسرائیل جغرافیائی طور پر اتنا کم چوڑا اور مختصر طول کا ملک ہے کہ اس کو سب سے زیادہ خوف طول پکڑنے والی جنگوں سے ہے۔اگر وہ اپنی حکمتِ عملی میں سرپرائز کا عنصر استعمال نہ کر سکے تو بقا کے لالے پڑ سکتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ جب چھ اکتوبر انیس سو تہتر کو مصر اور شام نے اچانک حملہ کیا تو پیشگی انٹیلی جینس کی شدید ناکامی کے سبب اڑتالیس گھنٹے تک اس کے جرنیلوں کی سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ ہوا کیا ہے۔

جب اوسان بحال ہوئے تو اندازہ ہوا کہ یہ جنگ طول بھی پکڑ سکتی ہے۔اس وقت امریکا مدد کو آیا اور تاریخ میں اسلحے کی سب سے بڑی ایئر لفٹنگ ’’ آپریشن نکل گراس‘‘ کے نام سے شروع ہوئی۔ امریکی طیارے روزانہ ایک ہزار ٹن اسلحہ اسرائیل میں اتارنے لگے۔ جب جنگ ختم ہوئی تو بائیس ہزار ٹن امریکی اسلحہ اور بارود اسرائیلی برتری برقرار رکھنے کے لیے اتارا جا چکا تھا۔

اگرچہ حماس اور اسرائیل کا کوئی فوجی مقابلہ نہیں۔ پھر بھی اسرائیل نے سات اکتوبر کے واقعہ سے دہشت زدہ ہو کر غزہ پر شروع کے چار ہفتے اتنی اندھا دھند بمباری کی کہ اس کے پاس صرف دس روز کا فضائی ایمونیشن باقی بچا۔چنانچہ امریکی فضائیہ کے مال بردار ہرکولیس طیارے لگاتار تل ابیب کے بن گوریان ایئر بیس اور جنوبی اسرائیل کے نیواتم ایئر بیس پر اتر رہے ہیں تاکہ اسرائیل بارودی و میزائیلی رسد کی ممکنہ قلت سے بے فکر ہو جائے۔

اسلحے کی زیادہ تر کمک جرمنی میں قائم امریکی بیس رامسٹائین سے پہنچائی جا رہی ہے۔اب تک اسرائیل میں دو ہزار پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹرز، لیزر اور اسمارٹ بموں سمیت سمیت پندرہ ہزار مختلف اقسام کے بموں کی رسد اور ستاون ہزار توپ گولے اتارے جا چکے ہیں۔

اس اسلحے کی رقم سات اکتوبر کے بعد امریکی کانگریس کی جانب سے منظور ہونے والی چودہ ارب ڈالر کی ہنگامی امداد میں سے منہا ہو جائے گی۔یعنی اسرائیل کے پلے سے کچھ نہیں جائے گا۔

اسرائیل کا فضائی دفاعی نظام آئرن ڈوم سات اکتوبر کو غزہ سے آنے والے پانچ ہزار حماسی راکٹوں میں سے محض چند سو کو ہی گرا پایا۔

ان راکٹوں کو روکنے کے لیے آئرن ڈوم کے انٹرسیپٹر میزائلوں کا ذخیرہ اتنی تیزی سے خرچ ہوا کہ اسرائیل کو امریکا سے درخواست کرنا پڑی کہ اس سسٹم میں استعمال ہونے والے تعمیر نامی جو میزائل حال ہی میں امریکی فضائیہ کے لیے خریدے گئے ہیں، انھیں عارضی طور پر واپس اسرائیل کے حوالے کر دیا جائے۔

یہی نہیں بلکہ امریکا نے دو آئرن ڈوم سسٹمز بھی سمندری راستے سے اسرائیل بجھوا دیے ہیں اور دو طیارہ بردار جہازوں سمیت چھٹا امریکی بیڑہ بھی اسرائیل پر کسی ناگہانی بیرونی حملے کو روکنے کے لیے اسرائیل کی سمندری حدود سے کچھ باہر لنگرانداز ہے۔تاکہ اسرائیل تسلی سے غزہ اور اہلِ غزہ کا قلع قمع کر سکے۔

انیس سو تہتر کی جنگ سے ایک سبق یہ حاصل کیا گیا کہ امریکی ، برطانوی ، فرانسیسی ، جرمن اور اطالوی ہتھیاروں کی رسد تو بہرحال بحال ہی رہے گی مگر خود اپنی اسلحہ ساز صنعت کا فروغ بھی ضروری ہے۔

چنانچہ اگلے چند برس میں اسرائیل نے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ پر مکمل توجہ دیتے ہوئے اپنی ضروریات کے حساب سے ہتھیار سازی شروع کر دی۔اور پچھلے بیس برس میں اس صنعت نے اتنی ترقی پائی کہ اب ساختہ اسرائیل ہتھیار ایک سو تیس ممالک میں فروخت ہو رہے ہیں۔

اسرائیل نے گزشتہ برس بین الاقوامی منڈی میں ساڑھے بارہ ارب ڈالر کے ہتھیار فروخت کیے۔ان ہتھیاروں کے بڑے خریداروں میں بھارت ، امریکا ، لاطینی امریکا ، متحدہ عرب امارات ، بحرین اور مراکش شامل ہے۔سائبر جنگ اور جاسوسی کے آلات خریدنے والے ممالک ایک برس میں ہی سڑسٹھ سے بڑھ کے تراسی تک پہنچ گئے ہیں۔

اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ہتھیاروں کی تیاری پر بھی خاصا زور ہے۔ان ہتھیاروں کی ٹیسٹنگ غربِ اردن اور غزہ کے انسانوں پر ہوتی ہے لہٰذا ان کی افادیت ثابت کرنے کے لیے اسرائیل کو بہت زیادہ اشتہار بازی کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔

مثلاً غزہ میں حماس کے راکٹ لانچرز کو تباہ کرنے کے لیے آئرن سلنگ نامی جو مورٹار گولے استعمال کیے گئے۔سوشل میڈیا پر ان کے اشتہارات میں یہ حوالہ بھی شامل ہے کہ یہ مورٹار اصلی محاذِ جنگ میں کامیابی سے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔