جمہوریت کے یہ نام نہاد دعویدار

محمد سعید آرائیں  بدھ 6 دسمبر 2023
m_saeedarain@hotmail.com

[email protected]

پی ٹی آئی کے انٹر پارٹی الیکشن ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں نے مسترد کر دیے ہیں اور اسے دھاندلی زدہ قرار دے رہے ہیں بلکہ پی ٹی آئی کے لوگ بھی اس پارٹی الیکشن پر انگلی اٹھا رہے ہیں۔پی ٹی آئی کے پرانے کارکن کھل کرمیدان میں ہیں۔

ان میں اکبر ایس بابر کا نام سب سے اوپر ہے، وہ پارٹی کے بانی کارکن ہیں۔ ویسے تو پاکستان کی ہر سیاسی پارٹی کے انٹرا پارٹی الیکشن محض ایک آئینی ضرورت پوری کرنے کے سوا کچھ نہیں ہوتے ‘پارٹی سربراہ اور دیگر عہدیدار بغیر کسی مقابلے کے ہی منتخب قرار دے دیے جاتے ہیں۔اسی تاریخ کو پی ٹی آئی نے بھی دہرایا ہے۔

حقیقت دیکھی جائے تو جماعت اسلامی ملک کی شروع سے ہی وہ جماعت ہے جس کے بانی مولانا مودودی کے بعد سے جماعت کے اپنے طریقہ کار کے تحت مقررہ مدت ختم ہونے سے قبل نئے امیر جماعت کا انتخاب کر لیا جاتا ہے جس میں ازسر خود کوئی امیدوار نہیں ہوتا اور پارٹی کے انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ووٹر خفیہ طور پر نئے امیر کا انتخاب کرتے ہیں اور مرکز نتیجہ کا اعلان کرتا ہے جس کو کبھی جعلی کہا گیا نہ دھاندلی کے الزام لگے اور نیا امیر عہدہ سنبھال کر جماعت کی مشاورت سے عہدیدار نامزد کرتا ہے۔

جماعت کے امیر کی کارکردگی سے اگر جماعت کے امیر کو منتخب کرنے والے ووٹر چاہیں تو اسے دوبارہ بھی منتخب کرسکتے ہیں یا اسے مسترد کر دیتے ہیں۔جماعت اسلامی میں ایسا بھی کبھی نہیں ہوا کہ کسی امیر کے بعد جماعت اسلامی کی قیادت اس کی بیگم یا بچوں کے سپرد کر دی گئی ہو ‘جماعت اسلامی میںجو بھی امیر بنا ہے‘ وہ جماعت اسلامی میں طویل مدت سے سیاسی اور دینی خدمات انجام دیتا چلا آ رہا ہوتا ہے۔

مولانا مودودی کے بعد جماعت کی امارت میاں طفیل کے سپرد ہوئی‘ان کے بعد قاضی حسین احمد امیر جماعت منتخب ہوئے‘ ان کے بعد سید منور حسن امیر جماعت رہے اور ان کے بعد اب سراج الحق جماعت کے امیر ہیں۔

جماعت اسلامی کے سوا تمام سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے بانیوں کی ملکیت ہیں اور وہی تا عمر اپنی پارٹی کے سربراہ رہتے ہیں اور کسی قانونی مجبوری پر ہی انھیں اپنی پارٹی میں سے ہی نئی پارٹی وجود میں لانا پڑتی ہے مگر وہ پارٹی کو اپنے ہی مکمل کنٹرول میں رکھتے ہیں جس کے واضح ثبوت پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) ، جے یو آئی ، اے این پی کے بعد اب پی ٹی آئی ہے جنھوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ جمہوریت کے نام نہاد دعویدار ہیں اور ہونا وہی ہے جو ان کے بانیوں کی مرضی ہوگی اور کسی قانونی مجبوری پر وہ قائد بن جاتے ہیں۔ پارٹی نہیں بلکہ وہ خود پارٹی کی پہچان ہے۔

پارٹی ان ہی کی مرہون منت ہے کیونکہ ان کے حامی بھی پارٹی کو نہیں پارٹی کے سربراہ کی مالا جپتے ہیں اور پارٹیاں بھی ان ہی کے اشاروں کی محتاج رہتی ہیں۔

بے نظیر بھٹو نے اپنی والدہ بیگم نصرت بھٹو کو سربراہی سے ہٹا کر خود چیئرپرسن بن گئی تھیں۔ یہ ماں بیٹی کا باہمی معاملہ تھا ، اس تبدیلی کو پارٹی میں تبدیل کیا گیا تھا۔

جنرل پرویز دور میں ہی بے نظیر بھٹو نے تین پی والی پیپلز پارٹی میں سے چار پی والی پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز قائم کی تھی جس کا سربراہ مخدوم امین فہیم کو بنایا گیا تھا مگر ہر کام بے نظیر بھٹو کی ہدایت پر ہی ہوتا تھا مگر اب چار پی والی اسی پارٹی کے سربراہ آصف زرداری ہیں اور وہی پارٹی کے مضبوط سربراہ اور فیصلہ کرنے والی طاقت ہیں جنھوں نے اعتراف کیا ہے کہ تین پی کے چیئرمین کو بھی وہی ٹکٹ دینے کا اختیار رکھتے ہیں۔

جنرل پرویزمشرف کے جاں نشینوں نے سپریم کورٹ کے ذریعے مسلم لیگ (ن) کے بانی میاں نواز شریف کو نااہل کرا کر پہلے اقتدار سے ہٹوایا پھر انھیں سزا ہوئی اور عدالتی حکم سے ان کی پارٹی سربراہی ختم کرائی گئی تو وہ قائد بن گئے تھے اور انھوں نے مسلم لیگ (ن) کی صدارت اپنے چھوٹے بھائی کو دے دی تھی اور میاں شہباز شریف ہی اب تک (ن) لیگ کے صدر ہیں۔

مسلم لیگ (ن) جیسی تقلید پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین نے جیل میں قید رہتے ہوئے اپنی نااہلی کے باعث کی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی صدارت سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت نااہل ہونے پر چیئرمین پی ٹی آئی اور ان کے حامیوں نے بھرپور جشن منایا تھا اور عدالتی فیصلوں کا خیر مقدم کیا تھا اور ججز کی تعریف کی تھی مگر اب جب وہ عدالتی حکم پر نااہل ہوئے ہیں تو وہ اپنے خلاف فیصلہ دینے والے ججز پر تنقید اور ان پر عدم اعتماد کر رہے ہیں ۔

(ن) لیگ کے صدر نے جیل میں ہوتے ہوئے اپنی جگہ اپنے بھائی شہباز شریف کو صدر بنایا تھا اور ان کی تقلید بانی پی ٹی آئی نے کی جنھیں آئینی طور وزارت عظمیٰ سے ہٹایا گیا۔

اب انھیں اپنی پارٹی کا انتخابی نشان بچانے کے لیے 27 سال بعد اپنی پارٹی سربراہی دکھاؤے کے لیے چھوڑنی پڑی ہے اور انھوں نے بیس روز کی مہلت کے باوجود نہ جانے کیوں جلد بازی میں پی ٹی آئی کے انٹر پارٹی الیکشن پر مجبور ہونا پڑا۔ انھوں نے جیل سے ہی ایک غیر معروف غیر سیاسی شخصیت اور اپنے وکیل بیرسٹر گوہر علی خان کو اپنی جگہ پر چیئرمین نامزد کرکے فوری بلامقابلہ منتخب بھی کرا لیا۔

یہی کچھ انٹر پارٹی الیکشن کو مسترد کرنے والوں کی پارٹیوں میں ہوتا آیا ہے۔ جب یہ نام نہاد پارٹی الیکشن ہوئے پی ٹی آئی کی طرح تمام عہدیدار بلامقابلہ منتخب کرا لیے جاتے ہیں۔ امین فہیم، شہباز شریف کی طرح بیرسٹرگوہر علی نے بھی کہا کہ میں نے یہ عہدہ عارضی طور سنبھالا ہے، یہ پارٹی سربراہ کی امانت ہے۔ پارٹی کے بانی کی ہدایت کے مطابق ذمے داریاں نبھاؤں گا۔

پی ٹی آئی میں یہ ضرور ہوا کہ پارٹی کے نظریاتی اور بانی رہنما اکبر ایس بابر نے اس خفیہ الیکشن میں حصہ لینا چاہا تھا، وہ اسلام آباد کے پارٹی سیکریٹریٹ بھی اسی لیے گئے تھے مگر انٹر پارٹی الیکشن کا دکھاوا خفیہ مقام پشاور میں ہوا۔ جمہوریت کے بڑے دعوے کرنے والے پارٹی کے بانی نے دوسروں کی طرح قانونی تقاضا پورا کردیا ہے اور اپنی پارٹی میں من پسند عہدیدار لا کر جمہوریت دکھا دی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔