پاسپورٹ بحران ایک بار پھر سنگین ہوگیا، شہری پریشان

طالب فریدی  جمعرات 7 دسمبر 2023
(فوٹو: فائل)

(فوٹو: فائل)

 لاہور: مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کا بحران ایک بار پھر سنگین ہوگیا، جس کی وجہ سے شہریوں کو پھر سے پریشانی کا سامنا ہے۔

ذرائع کے مطابق محکمہ پاسپورٹس اینڈ امیگریشن کے پاس لیمینیشن پیپر کا اسٹاک انتہائی کم رہ گیا جس کی وجہ سے روزانہ 25 ہزار کے بجائے صرف 5 سے 7 ہزار پاسپورٹس بنائے جا رہے ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں: پاسپورٹ 2 ماہ میں ملنے لگے، شہری بھاری فیس دے کر ارجنٹ بنوانے پر مجبور

واضح رہے کہ محکمہ پاسپورٹ لیمینیشن پیپر فرانس سے امپورٹ کرتا ہے جس کی درآمد میں ڈالر کی کمی کی وجہ سے دوبارہ تاخیر ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے نارمل فیس والے پاسپورٹ 15 سے 20 روز میں ملنے کے بجائے 2 ماہ بعد مل رہے ہیں۔ اس وقت محکمے کے پاس ڈیڑھ لاکھ سے زائد پاسپورٹس التوا کا شکار ہیں۔

محکمہ پاسپورٹ صرف ارجنٹ اور فاسٹ ٹریک فیس والوں کو پاسپورٹ بروقت دے رہا ہے۔ پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کا ادارہ سالانہ 120 سے 150 ارب روپے تک کا ریونیو کماتا ہے، اس کے باوجود بروقت لیمینیشن پیپر نہیں خرید پایا۔

مزید پڑھیں: ملک بھر میں ای پاسپورٹ کا اجرا شروع

پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کے لیے لیمینیشن پیپر فرانس سے جب کہ جرمنی سے سیاہی اور پرنٹرز منگوائے جاتے ہیں۔ پاسپورٹ اینڈ امیگریشن روزانہ 25 ہزار پاسپورٹ بنا سکتا ہے جب کہ روزانہ کی بنیاد پر آنے والی درخواستوں کی تعداد 40 ہزار سے بھی زیادہ ہے۔

لاہور سمیت پنجاب سے روزانہ 20 سے 25 ہزار لوگ پاسپورٹس بنوانے  کے لیے دفاتر جاتے ہیں، جہاں گھنٹوں قطار میں لگنے کے باوجود بھی پاسپورٹس نہیں مل رہے جب کہ پاسپورٹ اینڈ امیگریشن حکام کا کہنا ہے لاہور سے صرف پاسپورٹس بنانے والوں کا ڈیٹا فیڈ کیا جاتا ہے۔ مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کی پرنٹنگ ہیڈ کوارٹر سے ہوتی ہے۔  جیسے ہی پاسپورٹس آتے ہیں لوگوں کو فراہم کردیے جاتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔