کھاد کی برآمدگی اور ملکی درآمد

محمد ابراہیم خلیل  ہفتہ 9 دسمبر 2023

اخبار کے صفحات پلٹ رہا تھا کہ ایک خبر نے مجھے حیران کر دیا۔ گزشتہ کئی ماہ سے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔

ایسے میں کہیں گندم کے اسٹاک، کہیں چینی کے انبار اور کہیں کھاد کی بوریاں برآمد ہو رہی تھیں اور ان دنوں جب کہ ملک بھر میں کھاد کی سخت ضرورت ہے، کھاد کی قلت پیدا کی جا رہی تھی۔ خبروں کے مطابق ایک گودام پر چھاپہ مار کر کھاد کی دو ہزار بوریاں برآمد کر لی گئی ہیں۔

موسم سرما کے آغاز پر بوئی جانے والی کئی فصلوں میں سب سے اہم گندم ہے جسے زمین کی تباہی سے لے کر کئی مراحل تک کھاد کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایسے میں ملک بھر میں بوئی جانے والی فصلوں کی زیر کاشت زمین وہاں کی مٹی کی ایک ہی پکار ہوتی ہے ایک ہی طلب ہوتی ہے اس مٹی کی خوشبوؤں سے ایک ہی آواز آتی ہے کہ ہمارے تشنہ لبوں میں کھاد کی پیاس ہے کھیت تیار کرنے اور اس کے بعد بہترین فصل اٹھانے کے لیے کسان کھاد کی بوریاں ان پر لٹانے کے لیے تیار ہو جاتا ہے، لیکن اس وقت غریب کسان اپنا سینہ پیٹ لیتا ہے جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ مارکیٹ سے کھاد غائب ہے۔

کھاد کی قلت وہ پیدا کرتے ہیں جنھیں معلوم ہے کہ اس وقت غریب کسان کے کھیت و کھلیان کھاد کے لیے فریاد کر رہے ہیں اور غریب ہاری ان کی فریاد پر مارکیٹ میں مارا مارا کھاد کے لیے پھر رہا ہے۔ ایسے میں ان لوگوں کی چاندنی ہو جاتی ہے۔

انتہائی مہنگے داموں کھاد کہیں نہ کہیں سے مل جاتی ہے اور کسان زائد سے زائد قیمت ادا کرکے کھاد خرید کر مقدار سے کم صحیح ان کو کچھ نہ کچھ کھاد ڈال دیتا ہے، لیکن بمپر فصل حاصل کرنے کے لیے کھاد کی بڑھتی ہوئی قیمت رکاوٹ بن جاتی ہے اور قیمت بڑھانے میں انھی کا کردار ہوتا ہے جو کھاد چھپا دیتے ہیں اور خال خال کہیں سے ان کی برآمدگی بھی ہو جاتی ہے۔

ماہ دسمبر کے آغاز سے یہ خبریں آنے لگیں کہ کھاد اصل قیمت سے کہیں زیادہ منہ مانگی قیمت پر خریدی اور بیچی جا رہی ہے۔ فی بوری پر کہیں ہزار روپے سے زائد اور کہیں ہزار روپے سے کم وصول کی جا رہی ہے۔

اس طرح ذخیرہ اندوز ناجائز منافع خور بلیک مارکیٹ کرنے والے عناصر ہی کو کروڑوں روپے کا فائدہ ہو رہا ہے، لیکن وہ تو قیمت بڑھا دیتے ہیں لیکن اصل قیمت پاکستانی عوام چکاتی ہے، کیونکہ قیمت بڑھتی ہے تو کھاد کی کھپت میں کمی ہو جاتی ہے اور یوں بمپر فصل کا خواب کئی سالوں سے ادھورا ہے۔ نہ ہی ہدف کے مطابق گندم کی پیداوار حاصل ہوتی ہے اور نہ ہی کئی عشروں سے دیکھا جانے والا خواب کہ پاکستان گندم برآمد کرنے والا ملک بن جائے گا، اس کی تعبیر مل پائی ہے۔

حکومت پاکستان ہر سال 10 سے 12 لاکھ میٹرک ٹن کھاد درآمد کرتی ہے۔ ملکی کھاد کی پیداوار ناکافی ہونے کی صورت میں ہر سال کھاد درآمد کی جاتی ہے اور اکثر کھاد کی شارٹیج، قلت پیدا ہو کر رہتی ہے۔ اعداد و شمار کو مدنظر رکھیں تو معلوم ہوگا کہ گزشتہ مالی سال سے ہی قلت میں زیادہ اضافہ کیا جا رہا ہے جس کے باعث ہدف کے مطابق پیداوار حاصل نہیں ہو رہی ہے۔

مثال کے طور پر مالی سال 2021-22 کے دوران 13 لاکھ میٹرک ٹن فرٹیلائزر درآمد کرکے ایک کھرب 48 ارب 33 کروڑ روپے صرف کیے گئے تھے لیکن اتنی زیادہ طلب کے باوجود گزشتہ مالی سال 2022-23 کے دوران صرف 9 لاکھ میٹرک ٹن کھاد درآمد کی گئی۔

کھاد کی مارکیٹ ریٹ پر فراہمی کے لیے کہیں کہیں احتجاجی دھرنے مطالبات بھی ہوئے، لیکن سب بے سود اس کی ذخیرہ اندوزی بھی بڑھتی رہی۔ بلیک مارکیٹنگ بھی ہوتی رہی۔ اس سال بھی موسم سرما کی فصلوں کی تیاری کے ساتھ ہی فرٹیلائزر کی قلت کا سامنا کرنا پڑا۔

اگر حکومت 2021-22 کے اعداد و شمار کو مدنظر رکھتی تو کم ازکم چار لاکھ میٹرک ٹن کھاد درآمد کر لیتی جس کے باعث ان دنوں جس طرح حقیقی شارٹیج کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمت میں ہزار روپے فی بوری سے کم یا زیادہ اضافے کے بجائے کم سے کم اضافہ ہوتا اور بالآخر کسان مقررہ مقدار کے قریب کھاد استعمال کرکے بمپر فصل سے اچھی ملکی پیداوار حاصل کرسکتے تھے، لیکن اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ فرٹیلائزر کی درآمد میں کمی کا خمیازہ آج کسان بھگت رہے ہیں۔

پی بی ایس کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی تا اکتوبر 2022 کے دوران 3 لاکھ 43 ہزار دو سو میٹرک ٹن کی فرٹیلائزر کی درآمد پر 49 ارب 3 کروڑ روپے صرف ہوئے لیکن اس مرتبہ کم ازکم چار لاکھ میٹرک ٹن فرٹیلائزر کی درآمد کی ضرورت تھی لیکن جولائی تا اکتوبر 2023 چار ماہ کے دوران محض 2 لاکھ 96 ہزار میٹرک ٹن فرٹیلائزر درآمد کرلی تھی جس پر 49 ارب 19 کروڑ روپے صرف ہوئے تھے۔

بہرحال حکومت کو جلدازجلد مزید کھاد درآمد کرنے کی ضرورت کے ساتھ بڑے پیمانے پر چھاپہ مار کارروائیوں کے ذریعے بڑی تعداد میں کھاد کی برآمدگی ہو سکتی ہے کیونکہ ضرورت کے مطابق کھاد ملنے کی صورت میں پودوں کی جڑوں کو طاقت میسر آتی ہے۔

گندم کے پودوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے ان میں دم خم پیدا کرنے ان کے قدموں کو جمانے کے لیے کھاد کا ٹانک ان کے لیے اکسیر کا درجہ رکھتا ہے۔ ضروری ہے کہ چھپائے گئے ذخیرہ کیے گئے گوداموں کی زینت بنائے گئے ہزاروں کھاد کی بوریوں کی برآمدگی کے لیے متعلقہ حکام کمر بستہ ہو جائیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔