اخروٹ اخروٹ لوگ

سعد اللہ جان برق  ہفتہ 9 دسمبر 2023
barq@email.com

[email protected]

آپ مانیں یانہ مانیں لیکن کچھ لوگ واقعی ’’اخروٹ‘‘ جیسے ہوتے ہیں بلکہ یہ جو ’’لوگ‘‘ ہوتے ہیںان میں اوربھی طرح طرح اوربھانت بھانت کے لوگ ہوتے ہیں مثلاً کدولوگ، ٹماٹر لوگ، پیازلوگ، بھنڈی توری اوربینگن لوگ ۔ بلکہ پھلوں میں بھی ایسا کوئی پھل نہیں جس کی طرح لوگ اس دنیا میں نہ پائے جاتے ہوں اورمختلف جانوروں اورپرندوں کی طرح بھی۔

کہاجاتاہے کہ سمندر میں اتنی مخلوقات ہیں کہ آپ جو بھی تصورکریں گے اسی کی طرح مخلوق سمندر میں پائی جاسکتی ہے ، ایسا ہی کچھ اس خشک سمندر یعنی دنیا کے بارے میں کہا جاسکتاہے بلکہ یہ تو آپ کے سامنے ہے کہ ہمارے ملک میں بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو بظاہرانسان دکھائی دیتے ہیں لیکن اصل میں ہوتے نہیں ہیں بلکہ اس کی تصدیق تو آپ خود بھی آئینہ دیکھ کر کرسکتے ہیں آپ کو اس میں ہوبہو انسان نظر آئے گا جو اصل میں عوام ہوگا اورکالانعام تخلص کرتاہوگا مگر حکومت کی نظر میں وہ صرف ایک انڈا ایک ووٹ یا ایک گائے ہوتا ہے۔

یہ اخروٹ لوگ زیادہ ترسرکاری محکموں میں ہوتے ہیں جو افسر کہلاتے ہیں اورہم نے ایسے بہت سارے دیکھے ہوئے ہیں کہ بظاہربالکل اخروٹ لگتے ہیں ،سخت اورکڑک لیکن کھلنے پر ان کے اندر بڑی میٹھی گری نکلتی ہے ۔

بہت عرصہ ہوا ہمارے تھانے میں ایک تھانیدار آیا نام اس کا اچھا تھا لیکن سخت اتنا تھا کہ غضب خان مشہورہوگیا پورے علاقے میں اس نے اپنی سختی کی دھاک بٹھادی اورجب دھاک بیٹھ گئی تو آخر میں ’’ طلب خان‘‘ ہوگیا اتنا کہ رشوت میں کچھے بیر بھی قبول کرلیتا تھا ۔ ایسے اخروٹ نماافسر تقریباً ہرمحکمے میں آتے رہتے ہیں اورجاتے رہتے ہیں بلکہ لیے بھی جاتے رہتے ہیں ۔

ایک مرتبہ محکمہ بجلی عرف دبئی میں ایک ایس ڈی او آیا ،اس محکمے کو دبئی اس لیے کہتے ہیں کہ جو ایک مرتبہ اس محکمے میں پہنچا وہ پھر دبئی انگلینڈ یا امریکا کینیڈا بھی جانا پسند نہیں کرتا کہ اس میں کمائی ہرجگہ سے زیادہ ہوتی ہے، تو اس دبئی کے ایک سب ڈویژن میں بھی جب وہ اخروٹ افسر گیا تو ہرطرف ہاہاکار مچ گئی ، گلی گلی میں پیچ کس اور پلاس کا راج ہوگیا ، یہاں جرمانے وہاں ہرجانے میٹرکٹنے کا طوفان آگیا۔

سہم کر بیٹھ گئی خاک بیابانوں کی

دشت انگیزہے وحشت ترے دیوانوں کی

لیکن پھر آہستہ آہستہ اخروٹ کاچھلکا اتر گیا اور اندر سے بہت میٹھی گری نکل آئی لیکن یہ گری صرف خاص لوگوں کے لیے عام لوگوں کے لیے وہی مٹاک اخروٹ تھا ۔

مٹاک پشتو میں اس اخروٹ کو کہتے ہیں جو اندر باہرہرجگہ سخت ہوتا ہے برائے نام گری نکلتی ہے،مطلب ہے کہ اندر باہرایک طرح کے ایماندار لوگ، ایسے اخروٹوں سے صرف بچے کھیلتے ہیں اوربہت ہی سستے اوربے قیمت ہوتے ہیں ۔ رحمان بابا نے کہا ہے کہ

پہ ظاہر لباس غلط دسڑی مہ شہ

مینزئے گورہ چغزے دے کہ مٹاک

چغزے اخروٹ مٹاک کے بالکل برعکس ہوتا ہے اس کاصرف چھلکا سخت ہوتا ہے اندر سے نرم اورمیٹھا ۔ چنانچہ رحمان بابا کا کہنا ہے کہ کسی کے ظاہری لباس پر دھوکا مت کھا بلکہ اس کے اندر دیکھ کہ چغزے ہے یا مٹاک

اورہم اس ہی چغزے لوگو ں کی بات کر رہے ہیں ، جس چغزے اخروٹ کی ہم بات کررہے ہیں وہ بھی بعد میں بہت نرم اور میٹھا نکلا لیکن صرف ان کے لیے جو اخروٹ توڑنے کافن جانتے ہیں۔ ابتدا میں اخروٹ بننے کافائدہ یہ ہوتا ہے کہ اخروٹ کی گری کی قیمت بڑھ جاتی ہے چنانچہ بھٹہ خشت والے جو تیس لاکھ ماہوار دیتے تھے چالیس لاکھ ماہانہ دینے لگے ، انڈسٹری والے چالیس کی جگہ پچاس دینے لگے اوربھی جو خاص خاص تھے نرخ بڑھاگئے

نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز

ایک سابق ملازم نے ہمیں بتایا کہ جس طرح پولیس میں تھانیدار شکاری ہوتاہے محکمہ مال میں پٹواری شکاری ہوتاہے اسی طرح محکمہ بجلی کاشکاری لائن سپرینڈنٹ ہوتاہے وہ جو شکار مارلاتاہے وہ ایک ہی جگہ مل بانٹ کر کھایاجاتاہے اوربہت اوپرتک یہ شکار کا گوشت پہنچتا ہے۔

بہرحال ایسے اخروٹ لوگوں سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ان کی سختی صرف نرخ بڑھانے کی حد تک ہوتی ہے آج کل بھی واپڈا میں ایسے اخروٹ کھڑ کھڑا رہے ہیں۔

ہاں البتہ ایک بات ہے اگر آپ عوام نہیں ہے اورکالانعام تخلص نہیں کرتے تو ۔ اگر اس کے برعکس بدقسمتی سے اگر عوام ہیں تو آپ کے خالی ہاتھوں اورخالی کھوپڑی کے لیے سارے اخروٹ ، اخروٹ ہی رہیں گے ، سخت کھڑک اورکھردرے

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔