نیا چہرہ

عثمان دموہی  اتوار 10 دسمبر 2023
usmandamohi@yahoo.com

[email protected]

22 اگست2016 کے بعد جو ایم کیو ایم منظر عام پر آئی، وہ اس سے پہلے والی ایم کیو ایم سے بالکل مختلف نظر آئی۔ اس کے ہوتے ہوئے نہ خون کی ہولی کھیلی گئی نہ ہڑتالیں ہوئیں نہ لسانی تعصب کی آگ بھڑکی۔

کراچی میں اس کی طرف سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوا اور نہ ہی اس کے کسی کارکن کو اٹھایا گیا۔ یہ دراصل ایم کیو ایم کے نئے چہرے کا نیا رنگ ہے۔ مصطفیٰ کمال نے درست ہی کہا ہے کہ اب تو ایم کیو ایم کے دشمن پریشان ہیں کہ وہ کس وجہ سے ایم کیو ایم کے خلاف نیا آپریشن کرائیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اب ایم کیو ایم ضرور متحرک ہے مگر اس کے خلاف کسی بھی قسم کی شکایت نہیں ہے۔آج تمام ہی اخبارات ایم کیو ایم کی سیاسی سرگرمیوں کی خبریں تو ضرور شایع کر رہے ہیں مگر اسے دہشت گرد جماعت ہونے کا کہیں سے کوئی الزام نہیں لگایا جا رہا ہے۔

حال ہی میں ایم کیو ایم نے وہ کارنامہ انجام دیا ہے جو پچھلے برسوں انجام نہ دیا گیا تھا۔ اس شہر کے شہری ایم کیو ایم کے بے حد مشکور ہیں کہ اس نے کراچی کی گنتی درست کرا دی ہے یعنی کہ مردم شماری میں برسوں سے جو گھپلا کیا جا رہا تھا وہ اب ختم ہوا، اس لیے کہ کراچی کے ستر لاکھ کھوئے ہوئے عوام کو بازیاب کرا لیا گیا ہے۔ اس پارٹی کا اصل مسئلہ اس کا کئی دھڑوں میں تقسیم ہونا ہے۔ یہ تقسیم پارٹی کی ماضی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی۔

ایم کیو ایم کے قیام کا بنیادی مقصد عوام کی فلاح و بہبود اور شہری نظام کو بہتر ہی نہیں، مضبوط بنانا تھا تاکہ عوام کے بنیادی شہری مسائل باآسانی حل ہو سکیں۔ ابتدا میں اس کا رخ درست سمت میں تھا۔ یہ اپنے مقاصد کی جانب بڑھ رہی تھی مگر ریاست کے خلاف اس کا رخ موڑ دیا گیا اور پھر اس پر جو مصیبتیں نازل ہوئیں اس سے بہت خون بہا اور سندھ کے شہری علاقوں کا بہت نقصان ہوا۔ خاص طور پر کراچی کی ترقی رک گئی اور عوام کو مختلف قسم کی تکالیف برداشت کرنا پڑیں۔

پارٹی کے اصل مقصد سے ہٹنے اور انتشار کی سیاست کو اپنانے کی وجہ سے پہلے لانڈھی کورنگی کے رہنماؤں نے اپنا ایک الگ دھڑا بنا لیا، بعد میں اس کے رہنما مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ پارٹی کو خیرباد کہہ کر پاک سرزمین پارٹی قائم کرلی جو خیر و خوبی کے ساتھ چل رہی تھی مگر ایم کیو ایم کے پرانے رہنما اور کارکنان پارٹی کی اس تقسیم پر پریشان تھے۔

ان کے نزدیک ایم کیو ایم جب ہی اپنے مقاصد میں کامیاب ہو سکتی ہے جب اس کے دھڑے یکجا ہوں اور وہ پھر مل کر پارٹی کے بنیادی مقاصد کے لیے جدوجہد کریں تو وہ اپنے مقاصد جن کے لیے اس پارٹی کا ابتدا میں قیام عمل میں آیا تھا، انہیں ضرور حاصل کیا جاسکتا ہے۔

خیر سے اب مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی ملک و قوم اور خصوصاً مہاجرین کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے کی خاطر پھر سے ایم کیو ایم کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہ یقینا ان کی بالغ نظری ہے اور اس پر سب ہی خوش ہیں۔ اب عوام یہ چاہتے ہیں کہ آفاق احمد بھی اس پارٹی کا حصہ بن جائیں تاکہ پوری طاقت اور تندہی کے ساتھ سندھ کے شہری علاقوں کے بگڑے اور الجھے ہوئے مسائل کو حل کیا جاسکے۔

اس سلسلے میں ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار جنہوں نے اپنی پوری زندگی ہی ایم کیو ایم اور عوام کے مفاد کے لیے وقف کر رکھی ہے، نے آفاق احمد سے درخواست کی ہے کہ وہ چونکہ ایم کیو ایم کے ایک پرانے اور آزمودہ رہنما ہیں، اب ان کی ایم کیو ایم کو ضرورت ہے، وہ پارٹی کے ساتھ جڑ جائیں۔ انہوں نے پارٹی کے لیے ابتدا میں جو خدمات انجام دی ہیں عوام انہیں نہیں بھولے ہیں، وہ سب کو یاد ہیں، وہ اب بدلی ہوئی ایم کیو ایم کا حصہ بن جائیں۔

اب یہاں نہ کوئی آقا ہے نہ ڈکٹیٹر، سب باہم دوست ہیں، فاروق ستار کی جانب سے یہ پرخلوص پیشکش بہت اہم ہے کاش کہ آفاق احمد اس پر توجہ دیں اور محض مظلوم عوام، کراچی، سندھ اور اپنے باپ دادا کی کوششوں سے قائم کردہ پاکستان کی خاطر پھر سے اپنے پرانے ساتھیوں کیساتھ مل جائیں تو عوام کو ضرور سکون حاصل ہوگا۔ اتحاد میں بہت برکت ہے۔ پاکستان کا قیام بھی اگرچہ ناممکن تھا مگر برصغیر کے مسلمانوں کے اتحاد سے ہی یہ ناممکن مشن ممکن بن گیا تھا۔

کراچی اس وقت مسائل کا گڑھ بنا ہوا ہے۔ شہری پانی کے لیے پریشان ہیں، سڑکوں کا حال یہ ہے کہ انھیں دیکھ کر لگتا ہی نہیں کہ یہ کراچی جیسے بڑے شہر کی سڑکیں ہیں ایک طرف شہر میں پانی کی قلت ہے تو دوسری طرف سڑکوں پر بہتا ہوا گندا پانی یہ تاثر پیش کرتا ہے کہ شہر میں بہت پانی ہے۔ گٹروں کے گندے پانی کے تعفن سے اور جگہ جگہ کچرے کے ڈھیروں سے شہری پریشان ہیں۔

شہر میں سڑکوں پر جو ٹریفک حادثے ہوتے ہیں ان میں 90 فی صد دخل کراچی کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کا ہے۔ ان مسائل کے علاوہ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ نے شہریوں کو مستقل عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اب تو چوریوں اور ڈاکوں نے بھی نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ اب تو پولیس اہلکار بجائے چوریوں ڈاکوں کو روکنے کے خود ہی چور اور ڈاکو بن گئے ہیں۔ کئی پولیس کے اعلیٰ اہلکار بھی رنگے ہاتھوں ڈاکوں کی وارداتوں میں گرفتار ہوئے ہیں۔

اب ایسے حالات میں شہریوں کو کون تحفظ فراہم کرے گا، کون شہر میں امن و امان قائم کرے گا اور چوریوں ڈاکوں کو روکے گا؟ یہ سوال اس وقت سب سے اہم ہے۔ اس بگڑتی ہوئی صورت حال سے یہ لگتا ہے کہ شہری انتظامیہ مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ اس کا حل یہی نظر آتا ہے کہ جب تک کراچی کی پولیس مقامی لوگوں پر مشتمل نہیں ہوگی اس شہر اور اس کے شہریوں کو تحفظ فراہم نہیں ہو سکے گا۔ یہ نعرہ ایم کیو ایم نے ہی لگایا تھا اور یہ کراچی کے حالات پر بالکل صادق آتا ہے۔

اس وقت کراچی کو درپیش مسائل سے نمٹنے کے لیے ایم کیو ایم کا مطالبہ ہے کہ شہری حکومت کو بااختیار بنایا جائے۔ جب تک وزیر اعلیٰ کے پاس تمام اختیارات ہوں گے اور وہ شہری حکومت کو بے اختیار رکھے گا، یہ شہر کھنڈر کا نقشہ ہی پیش کرتا رہے گا۔ گزشتہ ہفتے ایم کیو ایم پاکستان نے گلشن اقبال میں ایک بڑے جلسے کا اہتمام کیا تھا اس جلسے کو توقع سے زیادہ کامیابی ملی۔

گلشن اقبال اور دیگر علاقوں کے لوگوں نے اس میں جوق در جوق شرکت کی۔ اس سے یہ ظاہر ہوا کہ ایم کیو ایم کے بدلے ہوئے چہرے کو عوام نے من و عن مان ہی نہیں لیا ہے بلکہ اسے پہلے سے زیادہ پذیرائی بخشی ہے۔ اس جلسے میں ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے عوام کے جم غفیر کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے ایم کیو ایم کو جو پذیرائی بخشی ہے وہ اس کی وجہ جانتے ہیں کہ عوام آج بھی اپنے مسائل کے حل کے لیے ایم کیو ایم کی طرف ہی دیکھتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ انھوں نے ملک کے صاحبان اختیار کو ملک کے حالات درست کرنے کے لیے تین نکات پیش کر دیے ہیں اگر ان پر عمل ہو گیا تو ملک یقینا مشکلات سے باہر نکل آئے گا۔ پارٹی کے ڈپٹی سینئر کنوینر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ملک کو تو بے شک مضبوط کرنا ہے مگر جب تک شہروں کو مضبوط نہیں بنایا جائے گا عوام کو خوشحال نہیں بنایا جاسکتا۔

ایم کیو ایم کا خواب ہر شہری کو بااختیار بنانا ہے۔ پارٹی کے دوسرے ڈپٹی کنوینر فاروق ستار، انیس قائم خانی اور محترمہ نسرین جلیل نے بھی پرجوش انداز میں خطاب کیا اور عوام کے جوش و خروش کو دیکھتے ہوئے عام انتخابات میں پارٹی کی سو فی صد کامیابی کی پیش گوئی کی۔ ایم کیو ایم کا نیا چہرہ کراچی اور سندھ کے عوام کو لگتا ہے اپنی جانب ضرور متوجہ کرے گا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پارٹی کے ناراض اور پرانے رہنماؤں سے یکجا ہونے کی ایم کیو ایم پاکستان کی اپیل بھی ضرور رنگ لائے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔