اگر سبھی منافع کمانے میں لگ گئے تو؟…

رضوان طاہر مبین  اتوار 10 دسمبر 2023

شاید آپ کو بھی زندگی میں کبھی نہ کبھی یہ ’بے رحم‘ اور بہت سوں کے خیال میں ’حقیقت پسندانہ‘ تجزیہ سننے کو ملا ہو کہ ’’انسان اگر اتنا پڑھ کر یا اتنا قابل ہو کر بھی زندگی میں ’ناکام‘ ہے تو یہ سراسر اس کا اپنا ہی قصور ہے‘‘ یا پھر یہ کہ ’’اگر اپنی صلاحیتوں کو ’صحیح‘ میدان میں کھپایا ہوتا، تو یقیناً اس کے معاشی حالات بہت اچھے ہوتے اور اس کی آمدن کئی گنا زیادہ ہوتی‘‘ وغیرہ وغیرہ۔

اس بات کی کڑواہٹ اپنے آپ یہ بتا رہی ہے کہ صرف معاش کی نگاہ سے دیکھئے تو یہ کس قدر سفاک سچائی ہے۔ ظاہر ہے کہ کوئی فرد جب اپنا کیریئر شروع کرتا ہے، تو اس کا ایک بڑا اور بنیادی مقصد آمدن بھی ہوتا ہے۔ اب یہاں ’اہل دل‘ کا معاملہ تھوڑا سا مختلف ہوتا ہے کہ وہ معاش کے حوالے سے بھی اپنے دل سے زیادہ کام لیے چلے جاتے ہیں۔

اِسے آپ آسان الفاظ میں سمجھئے تو یوں کہئے کہ ایسے لوگ کسی نہ کسی طور پر اپنے لیے ’خسارے‘ منتخب کر لیتے ہیں، دوسروں کے فائدے، سماج کا بھلا یا سچ مچ کا ہی ’وسیع تر مفاد‘ سامنے رکھ لیتے ہیں اور اس کی ’قیمت‘ اپنی آمدن پر اچھا خاصا سمجھوتا کر کے چکاتے پھرتے ہیں۔

اب اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے کہ جن 10,12 برسوں میں انہیں مالی اعتبار سے ایک اہم درجے پر متمکن ہو جانا چاہیے تھا، وہ اس دوڑ میں کافی پیچھے دکھائی دیتے ہیں اور پھر ان سے سوالات کیے جاتے ہیں کہ ذرا بتائیے کہ ایسا کیوں ہوا؟ اور کچھ لوگ تو سارے تکلفات بالائے طاق رکھ کر انہیں براہ راست بدھو، احمق اور بے وقوف وغیرہ جیسے القابات سے بھی نواز دیتے ہیں۔

اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں فلاں معروف ومقبول ’بڑے آدمی‘ کے ساتھ بھی ایسا ہوا کہ دنیا میں دیکھئے تو ان کی کتنی شہرت اور واہ واہ ہوا کرتی تھی لیکن وہ خود آخر تک تہی دست رہے، اور دیکھے کہ ان کے گھر والے روپے پیسے میں سماج کی ہم سری نہ کر سکے۔ وہ آخر تک کرائے کے گھر میں رہے یا زندگی میں کچھ بھی نہ ’کما‘ سکے۔

اگر پیمانہ مالی حالات ہی ہیں، تو اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ تو ’ناکامی‘ ہی ہے۔ پیسے کے بغیر تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔ پیسہ سب کچھ نہ ہونے کے باجود بہت ’کچھ ہونے‘ کو تو اپنے آپ منوا ہی لیتا ہے، لیکن کچھ اُدھر کی بھی تو سنئے، کہ یہ ماجرے اتنے سادے بھی تو نہیں ہیں۔

یہ بے ثبات خاکی دنیا مٹی ہو جانے کے باوجود مال وزر کی بنیاد پر ہی کھڑی ہوئی ہے۔ اب کوئی بڑے سے بڑا قابل آدمی ہو، کیا وہ صرف اپنی ذہانت، قابلیت، علمی رتبے یا فکری مقام کے سہارے اپنے شکم کی آگ مٹا سکتا ہے، کہیں سر چھپا سکتا ہے یا اپنا یا اہل خانہ کا علاج کرا سکتا ہے، یقیناً نہیں! سوائے اس کے کہ جب اس نے اپنی ان تمام خداد صلاحیتوں کو صحیح سمت میں اور درست طور پر نہ کھپایا ہو، جسے ’منڈی‘ کہتے ہیں۔

آپ مانیے یا نہ مانیے غذائی اجناس سے لے کر کپڑے لتے اور مختلف اشیا کے بازار میں مختلف ’خدمات‘ دینے والے ہنر مند بھی ’فروخت‘ ہی ہوتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی کہ جیسے اچھی چیز کو بھی فروخت ہونے کے لیے ’طلب‘ اور ’رسد‘ اور تشہیر جیسے ’معاملات‘ درکار ہوتے ہیں، ورنہ بات بنتی نہیں ہے۔

اب چیزیں تو بے جان ہوتی ہیں، جہاں اور جیسے چاہے فروخت کر دیجیے، لیکن ’خدمات‘ دینے والے جیتے جاگتے انسان ہوتے ہیں۔ انہوں نے اگر اپنے لیے مالی منفعت کو دوسروں کی سماجی، سیاسی، طبی یا علمی منفعت کے واسطے قربان کر دیا تو اس کے نتیجے میں ان کا مالی ’منافع‘ تو یقیناً کم ہوگا، لیکن یہ سماج میں کہیں اور جمع ہوگا جبکہ ان کی تہی دستی دیکھنے اور جاننے والوں کو فقط ان کی ’’ناکامی‘‘ ہی کی خبر ملے گی۔

فقط ریاضی کے گوشواروں کی جمع تفریق سے اپنی فکر کی اٹھان پانے والوں کے لیے وہ فرد ’’ناکام و نامراد‘‘ اور اس کے اہل خانہ ’رسوا‘ دکھائی دیں گے۔ شاید وہ اپنی معاش کی راہ میں تو کامیاب نہیں ہوئے ہوں گے، لیکن انہوں نے اپنی اور اپنے وابستگان کی زندگی کی بہت سی خواہشوں اور سہولتوں کو اپنے سماج اور اپنے لوگوں کے بھلے کے نام کر دیا ہوگا!

آپ سوچئے کہ ہماری سوچ اور فکر کو نئی راہ دینے والے اساتذہ، مفکرین، دانش وَر، شعراء، ادیب اور صحافی وغیرہ اگر سب کی منزل صرف اور صرف روپیہ کمانا ہی ہو جائے، تو معاشرے میں روشنی کیوں کر ہوگی؟ یہاں عقل وخرد کے اجالے کہاں سے پھوٹیں گے، پورے سماج کا فرض کفایہ ادا کرنے والے یہ گنے چنے ’سر پھرے‘ اگر خوشی خوشی زندگی کے کشٹ اور مصائب کی سولی کو چوم نہ لیں، تو اس کے بغیر اپنی اور ہماری زندگیوں کا تصور تو کر کے دیکھئے۔

ایسے ہی مختلف سائنسی اور سماجی علوم کے ماہرین، طبی محققین کے ساتھ ساتھ سائنس دان، انجینئر وغیرہ اگر صرف مالی منفعت کے گرد گھومتے ’کیرئیر‘ ہی پر مرکوز رہتے اور مفاد عامہ کو سامنے نہ رکھتے، تو ہماری دنیا کتنی دریافتوں، دواؤں اور کتنے سائنسی فیوض و برکات، سے محروم رہ جاتی۔

اس لیے اگر مالی منافعوں سے بے پروا لوگ اپنی زندگیوں کے معیار قربان کر کے سماج میں کہیں کوئی اجالے کر گئے ہیں، تو کیا آپ کو یہ چاہئے کہ ان کی قربانی اور بے لوث سوچ کو سلام پیش کریں یا پھر یہ کہ فَٹ دھنے سے یہ فرمان صادر کر دیں کہ ’’یہ لوگ اپنی ’’ناکام زندگی‘‘ کے ذمہ دار خود ہی ہیں۔‘‘

سوچئے، اگر ہمارے سماج کے یہ سارے لوگ اپنے مالی منافع ہی کو منزل بنا لیتے، تو کیا اس سے بہت سی علمی تحقیق ممکن تھی؟ کیا ہماری زندگیاں اس طرح سہل ہو سکتی تھیں، جیسی آج ہیں؟ ایسے ہی کیا اپنے معاش کی پروا کیے بغیر سماج میں ظلم کے خلاف بولنے والوں کی صدائوں نے ہمیں محفوظ نہیں کیا؟ کیا جبر کے خلاف جانوں کے نذرانے پیش کرنے والوں نے خود کو وار کر آج ہمارے تحفظ کو یقینی نہیں بنایا ہے؟

تو ایسی سوچ رکھنے والوں کو چاہیے کہ وہ ایسی ’’ناکام زندگیوں‘‘ کی قدر کیا کریں کہ ان کی ’’ناکامیوں‘‘ کے طفیل ہی شاید بہت سارے لوگ کامیاب ہیں، ان کی یہی چھوٹی چھوٹی ’ناکامیاں‘ سماجی ترقی اور بہبود کے واسطے کہیں نہ کہیں امید اور روشنی کی کرن بن رہی ہیں۔ قدرت کا نظام اگر ان کی جیب خالی رکھ رہا ہے، تو اس کے بدلے میں ضرور ان کی خواہش اور منشا کے مطابق سماجی بہتری کی صورت میں کام یابی بھی عطا کر رہا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔