فلسطین اور مسلم امہ

جمیل مرغز  اتوار 10 دسمبر 2023
jamilmarghuz1@gmail.com

[email protected]

کئی دفعہ واضح کر چکے ہیںکہ مسلم ممالک کے درمیان مذہب کی بنیاد پر بھائی چارے کا تصور حقائق کے برعکس ہے ‘ہر ملک جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے ‘وہ بھی قومی ریاستیں ہیں اور اپنے مفادات کے مطابق پالیسیاں بناتے ہیں‘اس کی چند مثالیں ملاحظہ کریں۔

جب امریکا نے عراق کے خلاف ڈیزرٹ اسٹارم کے نام سے فوری حملہ شروع کیاتواس وقت مصر‘ شام ‘مراکش‘کویت ‘عمان‘ عرب امارات اور قطر نے امریکا کی فوجی مدد کی۔ نیٹو نے لیبیا کے خلاف اپنی مہم شروع کی اور صدر معمرالقذافی کو قتل کرایا، اس مشن میں بیشتر عرب ممالک کی حکومتوں نے بھرپور فوجی اور مالی مدد فراہم کی ‘لیبیا تباہ ہوگیا ‘عوام دربدر ہوگئے‘اس کی دولت لوٹ لی گئی اور آج تک یہ ملک خانہ جنگی کا شکار ہے اور نیٹو کے رکن ممالک کی کمپنیاں ‘یہاں کے تیل سے اربوں ڈالر کما رہی ہیں۔

یمن کی تباہی مسلم ممالک کی باہمی پراکسی وار کا تحفہ ہے، امریکا اور برطانیہ نے تو اپنے مفادات کے لیے شہ تو دینی ہی تھی ۔ شام میں بھی ایسا ہی ہوا، یہ مسلم ممالک کے بھائی چارے کی چند مثالیں ہیں‘ کہ کس طرح مسلم ممالک کی ترقی پسند اور لبرل حکومتوں اور ان کی لیڈر شپ کو کیپٹلسٹ مسلم حکمرانوں نے امریکا اور یورپ کی مدد سے ختم کرایا۔

فلسطین ایشو بھی ایسا ہی ہے،اس پر بھی عرب اور دیگر مسلم ممالک اپنی اپنی سیاست کررہے ہیں۔ اسرائیل غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کا قتل عام کررہا ہے ، اس جنگ کے آغاز میں مصر اور غزہ کے درمیان رفاء گیٹ نہیں کھولا گیا ‘یوں غزہ میں بروقت دوائیاں اور دوسرا امدادی سامان نہیں پہنچ سکا‘اسرائیل کا توپ خانہ اور طیارے بم برسا رہے تھے ‘گھر اور مارکیٹ تو تباہ ہوگئیں لیکن اسپتالوں کو بھی نہ چھوڑا گیا۔

جنگ کون لڑتا ہے ؟کس کے فائدے کے لیے،کس کے حکم سے ‘یہ سب کام میڈیا نے اپنے ذمے لے رکھا ‘وہ اپنے پروپیگنڈے سے ناجائز اور تباہ کن جنگ کو جائز ثابت کرتاہے ‘عراق کی جنگ کو ’’آزادی‘ ‘لیبیا کی جنگ کو’’ عوام کی حفاظت‘‘ یمن کی جنگ کو ’’قانونی‘‘ اور شام کی جنگ کو’’ جمہوریت کی جنگ‘‘ ثابت کرتے ہیںلیکن اسرائیل کی جارحیت کو وہ خاموش تماشائی بن کردیکھتے ہیں ’جہاں پر 15ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے ‘ان میں دو تہائی سے زیادہ خواتین اور بچے ہیں۔

اب فلسطین کی بدقسمتی کی کہانی کا جائزہ لیتے ہیں۔پچھلے 76سال سے ‘فلسطینی اپنے وطن کی آزادی کے لیے مسلح اور سیاسی جدوجہد کرتے رہے‘ 70کی دھائی میں فلسطین کا مسئلہ بہت تیز تھا ‘اس زمانے میں فلسطین کے تمام شہری بلا تفریق مذہب ایک ہی مقصد یعنی آزادی، جمہوری اور روشن فکر فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے لڑ رہے تھے‘ فلسطین کی آزادی کی جدوجہد میں مختلف تنظیمیں بر سر پیکا ر تھیں‘ان میں یاسر عرفات کی فتح اور جارج حباش کی پاپولر فرنٹ فار لبریشن آف فلسطین سب سے اہم تھیں‘ فتح کی قیادت زیادہ تر مسلمان فلسطینیوں پر مشتمل تھی‘ جب کہ پاپولر فرنٹ کی قیادت اور اس کے ممبران میں عیسائی فلسطینیوں کی اکثریت تھی ‘جارج حباش اور لیلی خالد عیسائی فلسطینی تھے، ان کی فلسطین کی آزادی کے لیے جہدوجہد تاریخی حیثیت رکھتی ہے‘ان کے علاوہ دیگر تنظیمیں بھی تھیں‘جن میں الصاعقہ اور ڈیموکریٹک فرنٹ فار لبریشن آف فلسطین شامل تھیں۔

یہ تمام تنظیمیں 1964 میں فلسطنیوں کے تمام دھڑے متحد ہوکرتنظیم برائے آزادی فلسطین (پی ایل او) بن گئے، یاسرعرفات اس تنظیم کے سربراہ بن گئے ‘یہ تمام فلسطینی اس جنگ کو قومی آزادی کی بنیاد پر لڑ رہے تھے۔ پھر اس تنظیم میں مذہبی عنصر داخل ہونا شروع ہوا، حماس کے قیام کے بعد فلسطینیوں کے درمیان نیشنل ازم دم توڑ گیا‘فلسطینی اسرائیل کے بجائے آپس میں زیادہ لڑ نے لگے ‘ PLO جمہوری اور سیکولر تحریک ہے ‘یاسر عرفات کی موت کے بعد اس کی قیادت محمود عباس کر رہے ہیں‘یہ فلسطین کے صدر بھی ہیں۔

حماس اسلامی تحریک ہے ‘یہ اپنے آپ کو اسلامی مزاحمتی تحریک کہتی ہے اور ایک اسلامی فلسطین کے لیے جدوجہد کر ر ہی ہے ‘اس کے لیڈر خالد مشعل شام میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں ‘ حماس کی قیادت اسلامی ایجنڈے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ فتح کو قرار دیتی ہے ‘یہ دونوں گروپ ایک دوسرے کے خلاف بر سر پیکار رہتے ہیں‘ حماس اور فتح کی لڑائی کا سب سے زیادہ فا ئدہ اسرائیل اورامریکا نے اس کا پورا فائدہ اٹھایا۔

اسرائیل کا رقبہ21642مربع میل ہے ‘اس کی آبادی 73لاکھ ہے ‘آبادی میں 76فی صد یہودی اور 16فی صد فلسطینی ہیں جب کہ عرب ممالک کی تعداد 21ہے ‘ان کا کل رقبہ ایک کروڑ 40لاکھ مربع میل ہے‘ ان کی کل آبادی 34کروڑ سے زیادہ ہے‘ اسرائیل متحد اور یکسو ہے‘ عرب ممالک ایک دوسرے کے خلاف بر سر پیکار ہیں‘دنیا میں صرف فلسطینیوں کی کل تعداد تقریباً ایک کروڑ 20لاکھ ہے‘ 25لاکھ مغربی کنارے میں اور15لاکھ غزہ کی پٹی میں رہتے ہیں‘ اردن میں 19لاکھ ‘اسرائیل میں 13لاکھ ‘شام میں 6لاکھ ‘عرب دنیا سے باہر ان کی سب سے بڑی آبادی تقریباً5لاکھ لاطینی امریکا کے ملک چلی میں ہے۔

آج فلسطینی نظریاتی طور پر دو بڑے گروپوں میں تقسیم ہیں‘یہ دونوں گروپ ایک دوسرے کے سخت مخالف ہیں‘الفتح اور حماس نے فلسطینیوں کو بری طرح تقسیم کر دیا ہے ‘فتح مغربی کنارے میں حکمران ہے اور حماس غزہ کی پٹی میں حکومت کر رہی ہے ‘ایک ملک میں دو حکومتیں؟ فلسطینی ریاست دو مختلف علاقوں پر مشتمل ہے ‘مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے درمیان اسرائیل کا علاقہ ہے ‘ان دونوں علاقوں میںکسی بھی مسئلے پر ہم آہنگی نہیں ہے‘کیونکہ دونوں جگہ مختلف حکومتیں قائم ہیں۔

برطانوی سامراج کے وزیر خارجہ بالفور کی جدوجہد کے نتیجے میں وجود میں آنے والی ریاست اسرائیل جہاں پر دنیا بھر کے یہودیوں کو لاکر آباد کیا گیا اور اس طرح فلسطین کی سرزمین پرعربوں کے دل میں سامراج نے ایک خنجر گاڑ دیا‘ اسرائیل امریکا کا دنیا میں سب سے پیارا بیٹا ہے اور اس کا وجود بھی امریکی مدد کا محتاج ہے‘ امریکا بجائے اس کے کہ اپنے لے پالک کی غیر انسانی کاروائیوں پر تنقید کرے ‘وہ اس کی حمایت کررہا ہے۔

اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کی سرگرمیوں کی وجہ سے مشرق وسطی بدامنی کا شکار ہے‘ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک نے جزیرہ نما عرب کے ترقی پسند حکمرانوں اور ان کی حکومتوں کا خاتمہ کردیا، ‘صدام حسین ‘معمر قذافی کو ختم کر دیا گیا، جب کہ شام کے بشار الاسد اوران کی حکومت اپنی رٹ کھو چکی ہے ‘کئی مسلمان حکومتوں نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا ‘اب بھی فلسطینی امن کی بھیک مانگ رہے ہیں‘وہ دو ریاستی فارمولے پر بھی راضی ہیں۔

الاقصی طوفان ‘ حماس نے اچانک اسرائیل پر حملہ کرکے موجودہ جنگ کی ابتداء کی ‘جب کہ ان کو معلوم تھا کہ اس حملے کے جواب میں اسرائیل کا سخت جواب آئے گا اور یہ بھی کہ کوئی مسلمان ملک ان کی مدد کو بھی نہیں آئے گا۔ اب یہ بحث بھی ہو رہی ہے کہ حماس کی یہ مہم جوئی صحیح تھی یا غلط‘ اس کا فلسطینیوں کو فائدہ یا نقصان ، بہر حال فلسطینیوں کی تباہی جاری ہے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔