یادیں

جاوید قاضی  اتوار 10 دسمبر 2023
Jvqazi@gmail.com

[email protected]

ہلکی سی خنکی ہے آجکل کراچی کی فضاؤں میں۔ سردیوں کی آمد آمد ہے۔ انسانی فطرت ہے کہ ایسے موسموں میں ہم تھوڑے سے تنہائی پسند ہوجاتے ہیں۔

دل یہی چاہتا ہے کہ ایک اچھی سی کتاب کا ساتھ ہو اور فرصت میں بیٹھ جائیں، حضرت داغ کی طرح تصورِ جاناں کیے ہوئے۔ چھوٹا سا پائیں باغ ہے میرے گھر میں اور لائبریری کا شوق تو بڑوں کی طرف سے ورثے میں ملا ہے، اگر یہ دونوں چیزیں آپ کو اپنے گھر میں میسر ہیں تو بس کافی ہے۔

بڑھاپا آچکا ہے ہم پر کہ نہیں ، یہ نہیں پتا لیکن اگر یہ پوچھو بیگم صاحبہ سے تو بڑے دلائل کے بعد یہ باور کرایا جاتا ہے کہ بڑھاپا آچکا ہے لہٰذا احتیاط لازمی ہے، بارہا یہ سننے کو ملا کہ مجھے شوگر ہونے کا خطرہ ہے، مگر یہ بات اگر دل سے پوچھی جائے تو دل یہ بات ماننے کو تیار ہی نہیں۔ مطلب کہ میرے دل اور میری بیوی کی آپس میں بالکل نہیں بنتی۔

دشت تنہائی توہے لیکن ان تنہائیوں میں دل بہلا رہتا ہے۔ خیالوں کی کچھ اس طرح آمد ہوتی ہے کہ ان خیالوں کی رو میں بہہ جاتا ہوں۔ ان خیالوں سے میں بہت پیار کرتا ہوں۔بہت یاد آتے ہیں سب اپنے جب کراچی میں خنکی کا موسم آتا ہے۔

وہ بچپن کے دن اور لڑکپن کی راتیں، ماں کا پیار اور باپ کی شفقت، بھائی اور بہنوں کی شرارتیں، ساتھ کھیلنا اور جھگڑنا، گاؤں کی حویلی اور وہ ہرا بھرا آنگن! کھیت و کھلیان، اسکول اور کالج میں محبتوں کے قصے، بے کار کا روگ لگانا، نہ سود نہ زیاں کا احساس۔ اکثر ٹھہر جاتی ہیں میری آنکھیں، ان زمانوں کی یادوں پر اور نمی بسیرا کرلیتی ہے۔

میرا کالم اکثر اخبار کے اس صفحے پر چھپتا ہے جہاں امجد اسلام امجد کا کالم چھپتا تھا۔ وہ بھی ایسے ہی کالم لکھتے تھے جیسا آج میں لکھ رہا ہوں اور اکثر اپنے کالم کا اختتام اپنے کسی شعر پر کرتے تھے۔ نہ امجد اسلام امجد رہے اس دنیا میں، نہ ہی ضیاء محی الدین اور ایک دن میں بھی نہیں رہوںگا اس دنیا میں ہاں مگر میری باتیں ہی رہ جائیں گی۔ ہم دین دار تو نہیں مگر صوفیانہ افکار ضرور رکھتے ہیں۔

میری مٹی پر رومی نے کبھی قدم نہیں رکھا مگر اس کا خیال اس مٹی میں بویا ہوا ہے، کسی بیج کی طرح کبھی شاہ لطیف بن کر ، کبھی بلھا و باہو بن کر، تو کبھی کبیر بن ۔ رومی اس کیفیت کو درِ عشق کہتے تھے۔ یعنی ایک ایسی کیفیت جہاں جسم تنکے سے بھی ہلکا، کسی غبارِ خاطر کی طرح دنیا کے کاروبار سے فارغ ہو جاتا ہے۔ اس کو آپ عشق کہیے، جنوں کہیے یا پھر انگریزی میں passion کہیے۔ اس مظہرو جمال کو فیض نے ایک کوزے میں بڑی خوبصورتی کے ساتھ سمایا ہے۔

جنوں میں جتنی بھی گذری بکار گذری ہے

اگر چہ دل پہ خرابی ہزار گذری ہے

میں پیشے کے اعتبار سے وکیل ہوں۔ اس پیشے میں ، میں بڑی دیر سے آیا، چونکہ میرے والد ایک وکیل تھے تو ان کے احباب و یار مجھ سے بھی یہ امید رکھتے تھے کہ میں بھی اپنے والد کی طرح اس پیشے سے وابستہ ہو جاؤں۔ میں نے انجینئر نگ کا پیشہ چھوڑا، بینکنگ سیکٹر چھوڑا پھر اس پیشے کو اپنایا، مگر اپنے والد کی طرح بہ حیثیت ایک وکیل، سندھ میں شاید وہ مقام نہ پایا جو ان کا تھا، میرے والد صرف غریبوں اور ہاریوں کے وکیل تھے۔ جب وکالت کا پیشہ اپنایا تو پتا چلا کہ اس پیشے میں نہ صبح اپنی ہے نہ شام ۔ یہاں تک کہ میں نے اپنے من پسند رومی کو بھی پڑھنا چھوڑدیا۔

ذات کے اعتبار سے ہم قاضی ہیں اور پھر یہ بات سمجھ آئی کہ ان صوفیوں اور سادھوؤں کو قاضیوں سے اتنے گلے شکوے کیوں تھے،لیکن میں بہرِحال کوئی روایتی قاضی نہیں۔ اس مٹی میںرچتی ہے خوشبو ان باتوں کی جو کر گئے شاہ لطیف، سچل سرمست اور شیخ ایاز اور یہ سب عکس تھے رومی کا۔

شیخ ایاز ، رومی کا عکس نہ سہی مگر ان کے اندر بستے تھے شاہ لطیف اور شاہ لطیف میں سمویا تھا رومی۔پھر تھا کبیر اور کبیر میں بستا تھا رومی اور رومی میں رہتے تھے شمس تبریز۔تبریز میں سموئے تھے بہزاد اور بہزاد میں بستے تھے جنید بغدادی، منصور حلاج بھی تھے اور رابعہ بصری بھی۔ ان میں کوئی ولی تھا تو کوئی درویش۔

یہ سب پیر نہ تھے اور نہ ہی پیر پرست تھے۔ یہ سب اپنے وقت کے باغی تھے، نقاد تھے۔ یہ وہ رقم کرتے تھے اور کہتے تھے جو اس وقت کے افکار و نظریات ، آقاوؤں کے خلاف بولتے تھے۔ آزادی اور حق کا نعرہ لگاتے تھے۔

میرے بچپن کی یادوں میں ایک تصویر ہے جس میں ذوالفقار علی بھٹو میرے ساتھ بیٹھے ہیں۔ یہ تصویر ہے 1969کی ہے جب بھٹو صاحب نوابشاہ ہمارے گھر آئے تھے۔ان کا ہمارے گھر آنا، عوامی لیگ کے رہنما سے ملنا اور رات کو ٹھہرنا کس حوالے سے تھا وہ ایک الگ موضوع ہے لیکن مجھے اس تصویر سے بہت انسیت ہے۔ان کی گردن جس کو پھانسی کے پھندے نے چھوا میں نے وہ گردن بہت قریب سے دیکھی تھی۔

کون چڑھتا ہے اپنے وطن اور لوگوں کے لیے سولی پر! ہاں وہ صرف بھٹو تھا، جس نے پھانسی کو قبول کیا۔ ضروری نہیں کہ ہم بھٹو کے مرید ہوں لیکن ان سے پیار کرنا اور خراجِ تحسین پیش کرنا یہ ان کا حق ہے، جس عدالت کے حکم پر بھٹو صاحب کو سولی پر لٹکایا گیا، وہ ہی عدالت آج اپنے فیصلے کا احتساب کرنے جا رہی ہے۔ یقینا بھٹو بے گناہ ثابت ہوںگے مگر وہ گردن جس میں پھانسی کا پھندہ ڈالا گیا اس گردن کو بوسہ دینے کی چاہ ، میں آج بھی رکھتا ہوں۔

ان صوفیوں کی روایتیں سب الست ، سب سچ ہیں بس اگر یہ پیری اور مریدی نہ ہوتی۔ اگر ہوتی بھی تو اس کے توسط سے علم کی شمعیں روشن ہوتیں نہ کہ توہم پرستی اور جہالت کا اندھیرا۔وہ لوگ ہی عجیب تھے جو عشق کو عظیم کر گئے اورکیا ہے یہ عشق! جو مجھے سمجھ آیا ہے وہ ہے بے خودی کی کیفیت، اپنی ذات سے علیحدگی جس کی پہنچ روحانی بھی ہے اور حقیقی بھی۔اس عشق میں کوئی پا بہ جولاں چلا،کوئی مست و الست، کوئی خاردار تاروں پر،تو کوئی باغی بن گیا۔ وہ اس راہ کا مسافر ہو، جس پر حکم صادر ہو، وطن بدر ہو یا اسیری میں ہو۔

کتنی مختصر ہے یہ زندگی اور اگر چھوٹی سی زندگی کو بھی عیش و آرام کے حوالے کردیا جائے تو پھر بچتا ہی کیا ہے۔ بقول شاہ کے ’’ بیٹھنا نہیں ہے، یہ زندگی بس چلتے جانا ہے۔‘‘ اس چھوٹی سی زندگی میں حسد کرنا، منفی سوچ رکھنا کسی عیا شی سے کم نہیں، پھر اگر ایسے لوگوں پر ترس کھایا جائے تو مطلب ایسے لوگوں کو ہدایت ہی نہیں ملی۔

میری ارضِ وطن پر کئی درویش، فقیر، جوگی، بیراگی آئے ، بسے اور اپنے وقت کے قرض ادا کیے اور چلے گئے، جو درِ عشق تھے، نہ جسم ٹھہرے نہ جاں ٹھہرے۔غالب بھی اسی بستی کے باسی تھے، وہ ایسے خیال کو کچھ اس طرح سے رقم کرتے ہیں؛

جاں دی، دی ہوئی اس کی تھی

حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہو

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔