الیکشن کا معرکہ کسی کے لیے بھی آسان نہیں

ڈاکٹر منصور نورانی  پير 11 دسمبر 2023
mnoorani08@hotmail.com

[email protected]

ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں کس کی جیت ہوگی اورکون اسلام آباد میں حکومت کرے گا، ابھی کچھ بھی واضح نہیں ہے۔سارے تبصرے اورتجزئیے مفروضوں پر مبنی ہیں۔پاکستان پیپلزپارٹی اور اس کی قیادت کو شک اورشبہ ہے کہ مقتدر قوتیں میاں نوازشریف کو دوبارہ برسراقتدار لانا چاہتی ہیں۔

اسی لیے پارٹی کے لوگ پہلے دن سے اس بارے میں نہ صرف بیانات دے رہے ہیں بلکہ اپنے بیانات میں مسلم لیگ نون اور خاص کر میاں نوازشریف کو تواترکے ساتھ ہدف تنقید بناتے دکھائی دے رہے ہیں۔

اُن کا خیال ہے کہ میاں نوازشریف ایک بار پھر کسی کے لاڈلے بنے ہوئے ہیں۔ اکتوبر سے لے کر آج تک اُن کی لندن سے واپسی کے بعد جس طرح اُن کی مشکلیں آسان ہوتی جارہی ہیں اوراُن کے خلاف بنائے گئے پچھلے سارے مقدمات ختم ہوتے جارہے ہیں۔

عام تاثر یہی بنتا جارہا ہے کہ وہی اس بار پھر وزیراعظم بن جائیں گے۔ مگر حیرانی کی بات یہ ہے کہ خود مسلم لیگ نون کو اپنی اس کامیابی کا مکمل یقین نہیں ہے اوروہ اسی لیے تمام سیاسی پارٹیوں اورالیکٹیبلز سے سمجھوتے اورسیٹ ایڈجسمنٹ کرتی نظر آرہی ہے، اگر اسے اتنا ہی یقین ہوتا جس طرح بلاول بھٹو زرداری کو گمان اوریقین ہے تو وہ بھلایہ سب کچھ کیوں کررہی ہوتی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بلاول صاحب ایک طرف میاں نوازشریف کو لاڈلے ہونے کاطعنہ دے رہے ہوتے ہیں تو دوسری جانب اُن کی دیگر سیاسی شخصیات سے اتخابی اتحادکی کوششوں کو بھی ناپسندیدہ نظروں سے دیکھ رہے ہیں، یہ کام چونکہ اس سے پہلے ہمیشہ زرداری صاحب کیاکرتے تھے اور اپنی اس حکمت عملی کو وہ دوستی اورمفاہمتی سیاست کانام دیاکرتے تھے مگر اس بار یہ کام میاں نوازشریف نے اُن سے پہلے شروع کرکے اُن کے ارادوں پر بظاہر پانی پھیر دیا ہے شاید اسی لیے وہ برہم اورنالاں نظر آرہے ہیں۔

سیاست میں کوئی چیز حتمی نہیں ہوتی ۔الیکشن میں ابھی تقریبا ً دوماہ باقی ہیں اوراِن دومہینوں میں کچھ بھی انہونی بات ہوسکتی ہے۔اسی لیے ابھی سے کوئی بھی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتاہے کہ کون سی پارٹی برسراقتدار آئے گی۔

صوبہ سندھ تک سب لوگوں کو سوفیصدی یقین ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی ہی اس صوبے میں اپنی حکومت بنائے گی۔ کیا یہ یقین بذات خود الیکشن کے منصفانہ ہونے پر شک وشبہات پیدا نہیں کرتا، اگر یہ یقین کارکردگی کی بنیاد پر ہوتا تو اس میں کسی کو بھی شک یااعتراض نہ ہوتا۔ لیکن پندرہ سالوں سے صوبہ سندھ میں مسلسل برسراقتدار رہنے والی پاکستان پیپلزپارٹی کی کارکردگی کوئی اتنی بھی اچھی اورمتاثرکن یاقابل ستائش نہیں رہی ہے کہ یہاں کے لوگ اسے ایک بار پھراس صوبے میں حق حکمرانی عطاکردیں۔

وڈیروں اورجاگیرداروں سمیت اس صوبے کی مخدوم خاندانوں کی اکثریت کا تعلق چونکہ پیپلزپارٹی سے ہے لہٰذا اُن کے زیراثر ہاری اورمحکوم لوگ ناچاہتے ہوئے بھی نمک حلالی پرمجبور ہوتے رہے ہیں ، حالانکہ انھیں اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے حالات اس طرح شاید ہی کبھی تبدیل ہوسکتے ہیں۔جس دن اُن کے حالات اچھے ہوگئے وہ اِن جاگیرداروں کے اثر اورتسلط سے باہر نکل آئیں گے۔پیپلز پارٹی بھی یہ اچھی طرح جانتی ہے اسی لیے وہ اس صوبے کے حالات بدلنے میں دلچسپی اورگرم جوشی نہیں دکھاتی ہے۔

اٹھارویں آئینی ترمیم نے اس ملک کی صوبائی حکومتوں کومالی طور پراچھا خاصہ امیرکردیا ہے مگر افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ اس ترمیم کے ثمرات صوبوں کے غریب افراد تک قطعاً نہیں پہنچے ہیں ۔ساری دولت کہاں چلی جاتی ہے، یہ ایک ایسا معمہ ہے جس کاسراغ لگانے والا ہی مجرم اورصوبائی خود مختاری کادشمن تصور کیاجائے گا۔

آصف علی زرداری نے اپنے دور صدارت میںاس اٹھارویں ترمیم کو پاس کرواکے صوبائی حکومتوں اور وزراء کے لیے دولت کے وہ خزانے کھول دیے ہیں جن سے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے فیضیاب ہوتے رہیں گے ۔

پیپلز پارٹی کے لیے سندھ میں الیکشن جیتنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ سارے ملک میں کسی بھی سیاسی پارٹی کو یقین نہیں ہوتاکہ وہ اپنے اپنے صوبوں میں الیکشن جیت کروہاں حکومت بناپائیں گے مگر پاکستان پیپلزپارٹی ایک واحد جماعت ہے جسے پورا اورکامل یقین ہوتاہے کہ سندھ صوبے کی حکمرانی انھی کاحق اور مقدر ہے۔ تو عام انتخابات کے متوقع نتائج کے بارے میں ویسے تو کوئی بھی سیاسی پارٹی یہ نہیں کہہ سکتی کہ وہ یہ معرکہ جیت جائے گی لیکن پاکستان پیپلزپارٹی کو یہ بھرپور یقین اور اطمینان ہے کہ وہ اس ایک صوبے میں تو ہرحال میں الیکشن جیت جائے گی۔

اب آئیے دیگر سیاسی پارٹیوں کی طرف، پاکستان تحریک انصاف اس وقت خود اپنی حرکتوں کی وجہ سے مشکلات کاشکار ہے، وہ اگر نو مئی کا کارنامہ سرانجام نہ دیتی تو پھرشاید کوئی بھی اسے یہ الیکشن جیتنے سے روک نہیں سکتا۔

حالانکہ اس کی کارکردگی بھی کوئی اتنی اچھی نہیں رہی کہ اسے لوگ اس بناء پردوبارہ برسراقتدار لے آتے مگر مظلومیت اور محرومیت کا عنصرہماری قومی سیاست میں ہمیشہ اہم رہا ہے جس کافائدہ وہ بہرحا ل آسانی سے اُٹھاسکتی ہے۔مسلم لیگ نون کو ابھی تک اگراس کے چاہنے والوں کی حمایت حاصل ہے تو صرف اس کی کارکردگی کی وجہ سے۔ ورنہ اس کے کھاتے میں عوام کی ہمدردی کا کوئی بھی اضافی عنصر شامل نہیں ہے۔

اس کی مقبولیت کو جو نقصان پہنچا ہے وہ میاں شہباز شریف کی سولہ ماہ کی حکومت کی وجہ سے پہنچا،وہ اگر اس وقت اقتدار قبول نہ کرتی توشاید آج اُسے الیکٹیبلز اوردیگر سیاسی گروپوں سے سیٹ ایڈجسمنٹ کی اتنی حاجت نہ رہتی۔جس نے عدم اعتماد کی تحریک کی پلاننگ کی تھی حکومت بھی اسی کے سپرد کردی جاتی تو اچھا تھا۔

آصف علی زرداری اس عدم اعتماد کی تحریک کا کریڈٹ اپنے نام کرتے ہیں اورساتھ ہی ساتھ وہ شہبازشریف کو وزیراعظم بنانے کااحسان بھی جتاتے دکھائی دیتے ہیں تو اصولا ہونا تو یہی چاہیے تھا کہ جس نے یہ ساری گیم پلان کی تھی ،اس سولہ ماہ کی حکومت بھی اسے ہی سنبھالنی چاہیے تھی مگر زرداری صاحب نے مسلم لیگ نون کو اکثریتی پارٹی کا جھانسہ دیکر یہ مصیبت بھی اسی کے گلے میں ڈال دی، اور اب بڑی آسانی سے اس دورکی مشکلات سے خود کوبری الذمہ کرتے ہوئے ساری مہنگائی کا ذمے دار مسلم لیگ نون کوقراردیتے پھررہے ہیں۔

مسلم لیگ نون کو الیکشن جیتنے کے لیے آج جن مشکلات کاسامنا ہے وہ شہبازشریف کی اسی سولہ ماہ کی حکومت کا شاخسانہ ہے۔ اپنے اس دور کی وجہ سے وہ اپنے کئی اچھے کارکنوں سے بھی محروم ہوگئی ہے ۔ مفتاح اسمعٰیل، دانیال عزیز اور شاہد خاقان عباسی جیسے مخلص ورکر پارٹی کا اثاثہ تھے۔انھیں کھوکرپارٹی نے شاید خود اپنا نقصان کیا ہے۔

اس وقت سیاسی میدان میں اگر کوئی دل جمعی سے جلسے کررہا ہے تو وہ بلاول بھٹو ہی کررہے ہیں باقی لوگ فی الحال سیاسی اتحاد بنانے میں مصروف ہیں۔ بلاول بھٹو کی دلی آرزو بھی یہی ہے کہ وہ اس ملک کے ایک باروزیراعظم بنکر تاریخ میں اپنا نام لکھوالیں۔

انھوں نے خود کو جلسوں کی سیاست میں مصروف کیا ہوا ہے تو والد محترم کوہمیشہ کی طرح سیاسی جوڑتوڑ کا ٹارگٹ دیا ہوا ہے، ویسے میدان ابھی سب کے لیے کھلا ہوا ہے، کسی کو بھی پتا نہیں ہے کہ کون یہ معرکہ فتح کرے گا۔

قیاس آرائی یہی کہ جارہی ہے کہ اس بارکسی کو بھی سادہ اکثریت نہیں مل پائے گی ۔ دیگر جماعتوں اورشخصیات سے ملکر ہی ایک قوی یامخلوط حکومت بن پائے گی ۔ اس لیے یہ کہنا کچھ غلط بھی نہ ہوگاکہ اصل سیاسی معرکہ الیکشن کے نتائج کے بعد ہی شروع ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔