خواتین کا معاشی، معاشرتی اور نفسیاتی استحصال افسوسناک...رویے بدلنا ہونگے!

اجمل ستار ملک / احسن کامرے  پير 11 دسمبر 2023
فوٹو : وسیم نیاز

فوٹو : وسیم نیاز

صنفی بنیاد پر ہونے والے تشدد کے خاتمے کے حوالے سے شعور بیدار کرنے کیلئے ہر سال دنیا بھر میں 25 نومبر سے 10 دسمبر تک 16 روزہ خصوصی مہم چلائی جاتی ہے۔

اس کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک خصوصی مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں اکیڈیمیا اورسول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی خواتین کو مدعو کیا گیا۔ فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

 ڈاکٹر عظمیٰ عاشق خان

(سربراہ جینڈر سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی)

ہم حکومت پر تنقید کرتے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ حکومت سب کچھ اکیلے نہیں کر سکتی، اس میں عوام کا ساتھ انتہائی اہم ہوتا ہے۔ عوامی رویے، ثقافت، گرومنگ و دیگر چیزیں اہم ہوتی ہیں۔ ہمارے پاس یونیورسٹی میں جو طلبہ آتے ہیں۔

ان کی بنیادیں رکھی جا چکی ہوتی ہیں، عمارت بن چکی ہوتی ہے، اس حالت میں انہیں تبدیل کرنا خاصاََ مشکل ہوتا ہے۔ ہم انہیں مستقبل کے والدین کے طور پر دیکھتے ہیں لہٰذا جہاں سے یہ عمارت بنتی ہے، ہمیں وہاں پر معاملات ٹھیک کرنے ہیں۔ اس کیلئے گھر سے لے کر سکول تک اور سکول سے یونیورسٹی تک، طلبہ کی تربیت کرنا ہوگی۔

ہمارے سماجی رویوں کی وجہ سے خواتین کو مسائل درپیش ہیں۔ ہم شروع سے ہی لڑکے، لڑکی میں تفریق کرتے ہیںحالانکہ اگر باہر کا ماحول کسی چھوٹی لڑکی کیلئے خراب ہے تو کوئی چھوٹا بچہ بھی اتنی ہی خطرناک صورتحال سے دوچار ہوسکتا ہے۔

ہم یہ سوچ بچپن سے بچے کے ذہن میں ڈال دیتے ہیں جس سے مسائل جنم لیتے ہیں۔ دنیا میں صرف عورت ہی نہیں بلکہ مرد پر تشدد کی بات بھی ہوتی ہے، خواجہ سراء کو بھی دیکھا جاتا ہے، مرد مشکل صورتحال میں خودکشی بھی کرتے ہیں، حالات سے تنگ آکر نشہ کی طرف راغب ہوتے ہیں لہٰذا ہمیں بہترین معاشرے کی تشکیل کیلئے سب کو ساتھ لیکر چلنا ہوگا۔

مرد و خواتین، دونوں ہی ورک فورس کا حصہ ہیں لیکن عورت کی ذمہ داریاں کام کے بعد بھی زیادہ ہوتی ہیں، ہمارے ہاں یہ رویہ ہے کہ جو خاتون کم بولے، چپ کر کے سہہ لے، اسے اچھا تصور کیا جاتا ہے۔

ہمیں لڑکوں کی تربیت کرنا ہوگی، انہیں جینڈر سنسٹائزیشن کی ضرورت ہے۔ جب بھی کسی ایک طبقے کی آواز دبا دی جائے تو پھر ردعمل آتا ہے، ہمارے معاشرے میں خواتین کو اسلامی اور قانونی حقوق نہیں دیے جا رہے، خاتون کو وہ اختیار بھی حاصل نہیں جو دین اسلام نے دیا ہے۔سوال یہ ہے کہ کتنے افراد ایسے ہیں جو لڑکی کی پیدائش پر خوش ہوتے ہیں؟ قانون وراثت آیا تو ابتداء میں بہت کم کیس رپورٹ ہوتے تھے۔

اس قانون پر خاندانوں کی سطح پر شور ہوا۔ سوال یہ ہے کہ ایسی نوبت ہی کیوں آئے کہ خاتون کو وراثت کا حق مانگنا پڑے؟ بہنیں بھائیوں کیلئے اپنا حصہ چھوڑ دیتی ہیں، بھائی کیوں نہیں؟ یہ مقابلے بازی نہیں ہے لیکن کیا اس میں ہمارے رویے غلط نہیں؟ عورت کا تھانے، کچہری میں جانا غلط سمجھا جاتا ہے۔

اس میں ادارہ جاتی مسائل بھی ہیں لیکن کیا اسے حق نہیں کہ وہ اپنے حق کیلئے ریاست سے رجوع کرے؟میرے نزدیک تشدد کی روک تھام کیلئے خواتین کو ان کے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے، انہیں معاشی طور پر بااختیار بنانا ہوگا۔

 ڈاکٹر سونیا عمر

(ایسوسی ایٹ پروفیسر سوشل ورک ڈیپارٹمنٹ، جامعہ پنجاب)

دنیا بھر میں اکیڈیمیا تھنک ٹینک ہوتا ہے، اس کی تحقیقات سے استفادہ کیا جاتا ہے اورانہیں پالیسی میں شامل کیا جاتا ہے۔ دنیاکے ترقی یافتہ ممالک جی ڈی پی کا 4 فیصد تعلیم پر خرچ کرتے ہیں، ہمارے ہاں ایک فیصد بھی خرچ نہیںکیا جاتا، نہ ہی پالیسی سازی میں اکیڈیمیا کی تحقیق اور ماہرین سے کوئی رائے لی جاتی ہے جس کی وجہ سے ہمارے مسائل حل نہیں ہورہے۔

میں نے جنوبی پنجاب میں’ ’میٹرنل ہیلتھ‘‘ پر تحقیق کی ۔ وہاں خواتین کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ دوران زچگی اور بچے کی پیدائش کے بعد ماں کی موت کی شرح زیادہ ہے۔دنیا میں ہمارا پانچوں نمبر ہے جبکہ نومولود کی اموات کے لحاظ سے 180 ممالک میں ہمارا دوسرا نمبر ہے جو افسوسناک ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ کم عمری کی شادی اور اینٹی نیٹل کیئر کا نہ ہونا ہے۔

خواتین کو ٹرانسپورٹ کا مسئلہ بھی درپیش ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے علاج معالجے کے لیے ہسپتال نہیں جا تی۔ہمارے ہاں شرح خواندگی انتہائی کم ہونے کی وجہ سے خواتین کے مسائل گھمبیر ہوتے جا رہے ہیں۔ ہماری آبادی کا 49 فیصد خواتین ہیں جن میں سے 9 فیصد تعلیم کے حصول کیلئے یونیورسٹی تک پہنچتی ہیں جبکہ 24 فیصد لیبر فورس کا حصہ ہیں، ان کا معاشی استحصال ہو رہا ہے جو وائلنس کی ایک شکل ہے۔

انہیں خاندان میں بھی مالی معاملات کے اختیارات نہیں دیے جاتے، گھریلو فیصلہ سازی میں بھی ان کی شمولیت نہیں ہے ۔ افسوس ہے کہ گھر سے لے کر اداروں تک، خواتین کا استحصال ہو رہا ہے، ان کے ساتھ امتیازی رویے برتے جارہے ہیں یہی وجہ ہے کہ خواتین کے حقوق و تحفظ کے حوالے سے پاکستان آخری نمبروں پر ہے ۔یہ ہمارے لیے باعث شرم ہے۔

2010ء میں خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف قانون آیا۔ یہ ورک پلیس ہراسمنٹ کے حوالے سے تھا مگر آج بھی خواتین کو اس قانون کے بارے میں علم نہیں، اس بارے میں خواتین کو آگاہی دینا ہوگی۔وائلنس مردوں پر بھی ہوتا ہے، ترقی یافتہ ممالک میںا س پر بات ہوتی ہے، اسی لیے ہم جینڈر بیسڈ وائلنس کی بات کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی وجہ سے ہراسمنٹ ایک نئے انداز میں بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آرہی ہے جس سے نمٹنے کیلئے ہم بالکل تیار نہیں ہیں۔ اس حوالے سے تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے جامع حکمت عملی بنانا ہوگی، تشدد کی رپورٹنگ کو یقینی بنانا ہوگا، متاثرین کی حوصلہ افزائی اور مجرم کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی، سوشل میڈیا کو بطور ٹول استعمال کرکے معاشرے میں آگاہی دی جائے۔ میرے نزدیک خواتین کو تعلیم دینے سے ان کے بیشتر مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔

خواتین کے حوالے سے چلنے والی تحریک کی سمت درست نہیں۔ پاکستانی خاتون کو کھانا گرم کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، وہ یہ صلاحیت رکھتی ہے کہ گھر اور کام کو بہترانداز میں مینج کرسکے ۔ ایسا نہیں ہے کہ ہمارے ہاں سب خراب ہے۔ دنیا میں پہلی مرتبہ 1919ء میں خاتون کو ووٹ ڈالنے کا حق ملا، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں خواتین کی کیا صورتحال رہی ہوگی۔ ہمارے ہاں خواتین کو حقوق حاصل ہیں تاہم جہاں مسائل انہیں دور کرنا ہوگا۔

 حفصہ مظہر

(نمائندہ سول سوسائٹی)

ورلڈ اکنامک فورم کی جینڈر انڈیکس رپورٹ کے مطابق خواتین کے حقوق و تحفظ، ان کی شمولیت اور ان پر ہونے والے تشدد کے حوالے سے پاکستان گزشتہ چار برسوں سے دنیا میں مسلسل آخری نمبروں پر رہا ہے ، ہمارے بعد صرف یمن کا نمبر تھا۔

اس مرتبہ کچھ بہتری آئی ہے جس کے بعد ہمارا نمبر 146 ممالک میں سے 142 واں ہے، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے ہاں خواتین کی صورتحال کتنی ابتر ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں صنفی تشدد کے حوالے سے کوئی اعداد و شمار نہیں ہیں۔اس حوالے سے کوئی تحقیق یا سروے موجود نہیں، صرف پولیس میں رپورٹ ہونے والے کیسز کا ڈیٹا ہے جو اصل جرائم سے کئی گنا کم ہے۔

ہمارے ہاں بیشتر کیس تو رپورٹ ہی نہیں ہوتے جس کی بہت ساری وجوہات ہیں جن میں ہمارے معاشرتی رویے، پولیس و دیگر اداروں کا کلچر جیسے عوامل شامل ہیں۔ کم عمری کی شادی جرم ہے مگر اس کے باوجود 30 فیصد لڑکیوں کی شادی 15 برس سے کم عمر میں کر دی جاتی ہے جس سے ان کی زندگی متاثر ہو رہی ہے، صحت کے مسائل پیدا ہورہے ہیں،ا ن بچیوں پر تشدد بھی کیا جاتا ہے اور ان کا استحصال بھی ہوتا ہے جو افسوسناک ہے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو دنیا میں ہر تین میں سے 1 خاتون تشدد کا شکار ہے۔ اس کا مطلب صرف جسمانی تشدد نہیں ہے بلکہ خواتین کا معاشی، معاشرتی اور نفسیاتی استحصال بھی ہورہا ہے جو قابل تشویش ہے۔ ہمارے ہاں بھی ایسی ہی صورتحال ہے جس کو دیکھنا ہوگا۔ اس وقت 20 ملین بچے سکول نہیں جاتے جن میں سے 14 ملین لڑکیاں ہیں۔

یہ لڑکیاں سکول نہ جانے کی وجہ سے مختلف قسم کے تشدد اور جبر کا شکار ہوتی ہیں،ان کی جلد شادی کر دی جاتی ہے، یہ معاشی طور پر خودمختار نہیں ہوتی جس کے باعث ان کی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ خواتین کے حوالے سے حکومتی سطح پر اچھے اقدامات ہوئے ہیں۔تحفظ نسواں قانون کے تحت وائلنس اگینسٹ ویمن سینٹر بنایا گیا۔

اس منصوبے کیلئے خطیر رقم درکار ہے جس کے باعث اس میں تاخیر ہوئی۔ اب اس قانون میں ترمیم کرکے تمام دارالامان کو وائلنس اگینسٹ ویمن سینٹرز میں تبدیل کیا جا رہا ہے،اس میں پولیس، محکمہ صحت، قانون سمیت متعلقہ اداروں کیلئے ریفرل سسٹم بنایا جا رہا ہے جو اچھا اقدام ہے، اس سے متاثرین کو مدد ملے گی۔ یہ سینٹرز پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بنائے جا رہے ہیں، اس میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور این جی اوز بھی تعاون کر رہی ہیں۔

یہ سینٹرز اہم ہیں کیونکہ خواتین پر تشدد میں اضافہ ہورہا جس کی حوصلہ شکنی کرنا ضروری ہے۔پہلے خواتین پر تشدد و دیگر مسائل پر بات نہیں ہوتی تھی،سول سوسائٹی نے کمیونٹی کی سطح پر ڈائیلاگ کرائے جس سے کافی بہتری آئی ہے۔ ہم ابھی بہت پیچھے ہیں، خواتین کے مسائل بہت زیادہ ہیں جن کے حل کیلئے دن رات ایک کرنا ہوگا۔

افسوس ہے کہ ہم نے برسوں سے خواتین پر تشدد کو نارمل سمجھ رکھا ہے، گھروں میں بھی اسے معمولی بات یا مرد کی حاکمیت سمجھ کر برداشت کر لیا جاتا ہے۔اندرون سندھ، جنوبی پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے علاقوں میں خواتین پر تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔

میرے نزدیک تعلیم، شعور اور آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔ ہمیں معاشرے کو آگاہی دینی ہے اور وائلنس کے خلاف زیرو ٹالرنس کی طرف جانا ہے۔

عوام کو آگاہی دینے میں سول سوسائٹی کا کردار انتہائی اہم ہے۔ ہم اس حوالے سے اپنا کردار بہترین انداز میں ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس وسائل محدود ہیں لہٰذا حکومت کو بڑے پیمانے پر آگاہی مہم چلانا ہوگی۔اس میں روایتی میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔