پی ایس ایل کو ٹیسٹ میچ نہ بنائیں

سلیم خالق  پير 11 دسمبر 2023
پی ایس ایل کے مقابلے پر یو اے ای کی آئی ایل ٹی ٹوئنٹی اور جنوبی افریقی لیگ بھی کھڑی ہو رہی ہیں، وہاں ڈالرز بھی زیادہ ہیں (فوٹو: فائل)

پی ایس ایل کے مقابلے پر یو اے ای کی آئی ایل ٹی ٹوئنٹی اور جنوبی افریقی لیگ بھی کھڑی ہو رہی ہیں، وہاں ڈالرز بھی زیادہ ہیں (فوٹو: فائل)

ہم پاکستانیوں کو ہر کام آخری وقت میں کرنے کی عادت ہے، شناختی کارڈ ، پاسپورٹ کی تجدید ہو یا کچھ اور بیشتر افراد کو آخر میں ہی یاد آتا ہے پھر ہم بھاگ دوڑ شروع کرتے ہیں تاکہ بروقت تکمیل ممکن ہو سکے، انفرادی طور پر تو ایسا چل جاتا ہے لیکن جب بات ادارے کے لیول پر کسی بڑے ایونٹ کی ہو تو معاملہ بگڑ سکتا ہے۔

ایسا ہی پی ایس ایل کے ساتھ ہو رہا ہے، نواں ایڈیشن 2 ماہ کی دوری پر ہے اور ابھی یہی نہیں پتا کہ براڈ کاسٹر کون ہو گا، ٹی وی پروڈکشن کون کرے گا؟ میچز کہاں پر ہوں گے؟ تاریخیں کیا ہیں؟ ہر کام تعطل کا شکار لگتا ہے، پی ایس ایل کو ٹیسٹ میچ نہ بنائیں اس کے کام بھی ٹی ٹوئنٹی کی طرح تیزی سے کریں۔

مسئلہ یہ ہے کہ چیئرمین مینجمنٹ کمیٹی ذکا اشرف کسی کو نکالنے کا ارادہ کریں تو لوگ عدالت جانے کی دھمکیاں دینے لگتے ہیں، جب آپ کا ماتحت یہ سمجھے کہ یہ تو مجھے برطرف کر ہی نہیں سکتا تو اس کا خوف ختم ہو جاتا ہے اور پھر وہ سہل پسندی سے کام کرتا ہے، موجودہ آفیشلز کو یہ بھی لگتا ہے کہ ہماری جگہ کوئی اور آ بھی نہیں سکتا کیونکہ موجودہ انتظامیہ کو تقرریوں کے اختیارات ہی نہیں، لہذا وہ مطمئن بیٹھے ہیں۔

95 فیصد اسٹاف کی ہمدردیاں سابقہ حکام کے ساتھ ہیں، وہ اس آس میں بیٹھے ہیں کہ بورڈ میں تبدیلی آئے گی، ’’گو سلو‘‘ پالیسی اپنا لی گئی، اس کا نقصان ذکا اشرف سے زیادہ بورڈ اور لیگ کو ہو رہا ہے، خیر اب پیر کو شاید ذکا اشرف کی وزیر اعظم سے ملاقات ہو جائے اور انھیں کچھ اختیارات ملیں ورنہ تو معاملات ایسے ہی چلتے رہیں گے۔

نائلہ بھٹی کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ وہ کس کے قریب ہیں، گذشتہ دنوں ایک میٹنگ سے وہ ناراض ہو کر چلی بھی گئی تھیں،صہیب شیخ نے عہدہ تو سنبھال لیا لیکن کر کیا رہے ہیں شاید وہی جانتے ہوں، کھلاڑیوں سے معاہدے و دیگر معاملات شعیب خالد سنبھالے ہوئے ہیں، ان کے نوجوان کندھوں پر بہت بھاری ذمہ داری ڈالی گئی ہے، یہ کام کسی تجربہ کار آفیشل کے سپرد کرکے انھیں ساتھ رکھتے تو مناسب رہتا، شعیب کو سابقہ آفیشل عمران احمد خان کی مدد نہ ملے تو مزید مشکلات ہوں،عثمان واہلہ ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ بننے کے بعد بظاہر تو پی ایس ایل سے دور ہیں لیکن دل وہیں دھڑکتا ہے۔

وہ آفیشل طور پر کوئی ذمہ داری پانے کیلیے بے چین ہیں، گذشتہ دنوں میری ایک ٹویٹ پر انھوں نے ناراض ہو کر ردعمل دیا، میں جانتا ہوں وہ لیگ سے باضابطہ طور پر منسلک نہیں لیکن پلیئرز کی کیٹیگریز اور شیڈول وغیرہ بنانے میں ان کا پورا ’’تعاون‘‘ حاصل ہوتا ہے، خیر اب تبدیلیوں کا وقت نہیں انہی لوگوں کو پی ایس ایل کا نواں ایڈیشن کرانا ہے، یہ سوچیں کہ  اگر لیگ کامیاب ہوئی تو صرف ذکا اشرف کا نام نہیں ہوگا تمام آفیشلز کی تعریفیں ہوں گی۔

کوئی کہیں کام کرے تو اسے شخصیت نہیں ادارے سے وفادار ہونا چاہیے، اس بار براڈ کاسٹ رائٹس فروخت کرنے کا کام  ڈائریکٹر کمرشل بابر حمید کے سپرد ہے، انھوں نے خاصی سست رفتاری سے پراسس آگے بڑھایا جس پر فرنچائزز بھی ناخوش ہیں کیونکہ انھیں آمدنی کا بڑا حصہ رائٹس سے ہی ملے گا، خیر اب ٹینڈر جاری ہو چکے امید ہے اچھی ڈیل ہو گی،الیکشن کی وجہ سے لیگ کو یو اے ای منتقل کرنے کی تجویز بھی زیرغور آئی لیکن ’’بلی کی گردن میں گھنٹی باندھنے کو کوئی تیار نہ ہوا‘‘ پی سی بی نے معاملہ فرنچائزز پر ڈالا، ان کا کہنا تھا کہ ہم کیوں آپ ہی فیصلہ کریں، حکومت ظاہر ہے سیکیورٹی فراہم کرنے سے کیوں انکار کر سکتی ہے۔

اس لیے اب میچز چار شہروں کراچی، لاہور،ملتان اور راولپنڈی میں ہی ہوں گے، شیڈول پر بھی فرنچائزز ایک پیج پر نظر نہیں آتیں، پشاور زلمی کا مطالبہ ہے کہ ہمارے شہر کو بھی میزبانوں میں شامل کریں، ملتان سلطانز اپنے شہر میں فائنل کرانا چاہتے ہیں، کئی کا کہنا ہے کہ لاہور میں سردی بہت ہو گی وہاں کے بجائے کراچی سے ایونٹ کا آغاز کریں، خیر یہ بورڈ کی صوابدید ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرے لیکن اس معاملے کو جلد حل کر لینا چاہیے، اس بار لیگ میں زیادہ بڑے کھلاڑی بھی شامل نہیں ہوں گے۔

آپ ڈرافٹ کی لسٹ دیکھ لیں تو اندازہ ہو جائے گا ،البتہ پی ایس ایل کے اصل اسٹارز ہمارے اپنے پلیئرز ہی ہیں، لوگ بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی وغیرہ کو ہی دیکھنے امڈ آتے ہیں، ٹکٹوں کی فروخت سے فرنچائزز کو بھی فائدہ ہوتا ہے لہذا وہ چاہتی ہیں کہ ایسے شہروں میں میچز ہوں جہاں زیادہ لوگ آئیں، کراچی پر اسی لیے اعتراض کیا جا رہے ہے کہ وہاں گراؤنڈ بھر نہیں پاتا، یہ بات درست ہے لیکن صرف اسی وجہ سے شہر میں کم میچز نہیں رکھے جا سکتے، اسی طرح پشاورکا اسٹیڈیم اگر تیار ہے تو وہاں ضرور میچز کرانا چاہیئں۔

بہرحال اب وقت کم ہے طوفانی رفتار میں کام کریں، پی ایس ایل کے مقابلے پر یو اے ای کی آئی ایل ٹی ٹوئنٹی اور جنوبی افریقی لیگ بھی کھڑی ہو رہی ہیں، وہاں ڈالرز بھی زیادہ ہیں اس لیے ہمیں اپنی لیگ کو اور آگے لے کر جانا ہوگا تاکہ وہ بدستور کامیاب رہے، ڈالرز سے یاد آیا کہ غیرملکیوں کو تو ٹھیک ہے اپنے کرکٹرز کو کیوں ڈالرز میں ادائیگی ہوتی ہے، انھیں کون سا آلو ٹماٹر ڈالرز میں خریدنے ہوتے ہیں، پہلے سنا تھا روپے میں پیمنٹ پر اتفاق ہو گیا لیکن اب پھر الگ باتیں سامنے آ رہی ہیں بہرحال اس معاملے کو بھی حل ہونا چاہیے۔

اس وقت سب کو اپنے اختلافات بھلا کرپی ایس ایل پر توجہ دینا چاہیے، گوکہ انتظامی ٹیم زیادہ اچھی نہیں ہے لیکن اب جو لوگ ہیں انہی سے امیدیں رکھنی چاہئیں کہ بااحسن انداز میں انعقاد کرالیں گے، فرنچائزز میں بھی اب اتفاق نظر نہیں آتا، خاص طور پر بعض کھلاڑیوں کو اپنی ٹیم میں لینے کیلیے جو جوڑ توڑ کیا گیا اور نوٹ چلے اس نے بڑے بڑے سیاستدانوں کو مات دے دی، ماضی میں یکجا ہو کر مالکان نے اپنا ریونیو شیئر تک بڑھوا لیا تھا اب بھی انھیں ایک رہنا چاہیے،بورڈ اور فرنچائزز ایک پیج پر ہو جائیں تو نویں ایڈیشن کا بھی بااحسن انداز ممکن ہو سکے گا۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔