کھاد کا بحران شدید، گندم کی فصل متاثر ہونیکا خدشہ

خبر ایجنسیاں  پير 11 دسمبر 2023
جننگ فیکٹریوں میں کپاس کی 7753000 گانٹھ کی آمد گزشتہ سال سے 81.1 فیصد زیادہ، اعداد و شمار۔ فوٹو: ایکسپریس ویب

جننگ فیکٹریوں میں کپاس کی 7753000 گانٹھ کی آمد گزشتہ سال سے 81.1 فیصد زیادہ، اعداد و شمار۔ فوٹو: ایکسپریس ویب

لاہور / اسلام آباد: ملک کے مختلف شہروں میں کھاد کا بحران شدت اختیار کرگیا جس کے باعث کسانوں کو کھاد حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

کھاد کی قیمت میں 15 روز میں 1500 کا اضافہ ہو گیا، کھاد بلیک میں 5 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔ ننکانہ، راجن پور اور جنوبی پنجاب کے دیگر اضلاع کسان کھاد کے لیے رل گئے، حافظ آباد میں مہنگے داموں کھاد فروخت کرنے پر متعدد ڈیلرز کو 2 لاکھ 85 ہزار روپے جرمانہ کر دیا گیا۔

ڈپٹی کمشنر نے کہا کنٹرول ریٹ پر کھادوں کی فراہمی کے لییریونیو افسران کی ڈیوٹیاں لگائی ہیں۔ این ایف ڈی سی کے اعداد و شمار کے مطابق نومبر میں یوریا کی کھپت میں سالانہ بنیادوں پر 5 فیصد اضافہ جبکہ ڈی اے پی کی کھپت میں 11 فیصد کمی ریکارڈ، نومبر میں ملک میں 630000 ٹن یوریا کی کھپت ریکارڈ جو گزشتہ سال نومبر کے مقابلہ میں 5 فیصد زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چینی، یوریا کھاد و دیگر ممنوعہ اشیا کی اسمگلنگ ناکام

گزشتہ سال نومبر میں ملک میں 583000 ٹن یوریا کی کھپت ریکارڈکی گئی تھی۔ کیلنڈر سال کے پہلے 11 ماہ میں 6014000 ٹن یوریا کی کھپت ریکارڈکی گئی۔ نومبر میں 230000 ٹن ڈی اے پی کھاد کی کھپت ریکارڈجو گزشتہ سال نومبر کے مقابلہ میں 11 فیصد کم، گزشتہ سال نومبر میں 236000 ٹن ڈی اے پی کی کھپت ریکارڈ کی گئی تھی۔ کیلنڈرسال کے پہلے 11 ماہ میں 1370000 ٹن ڈی اے پی کی کھپت ریکارڈ کی گئی ہے۔

وزیرِ صنعت و تجارت گوہر اعجاز نے نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ کھاد بنانے والی فیکٹریوں کو ہدایت کر دی کہ پیداوار اور سپلائی میں کمی نہ آنے دیں، حکومت نے درآمدی کھاد کے آرڈرز بھی کر دیے۔ ادھر پنجاب میں یوریا کھاد کا بحرا ن زیادہ ہے جس سے گندم کی فضل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

دریں اثنا متحدہ عرب امارات میں کام کرنے والے پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں نومبر سالانہ بنیادوں پر 8 فیصد کی نمو ریکارڈ کی گئی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔