فخر زمان نے شاہین آفریدی کو بے خوف کپتان قرار دے دیا

سلیم خالق  منگل 12 دسمبر 2023
فارم میں واپسی کے لیے تکنیک کے حوالے سے کچھ خاص نہیں کیا، اوپنر۔ فوٹو: ایکسپریس ویب

فارم میں واپسی کے لیے تکنیک کے حوالے سے کچھ خاص نہیں کیا، اوپنر۔ فوٹو: ایکسپریس ویب

اوپنر فخر زمان نے شاہین شاہ آفریدی کو بے خوف کپتان قرار دے دیا۔

پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ www.cricketpakistan.com.pk کو خصوصی انٹرویو میں فخرزمان نے کہا کہ شاہین شاہ آفریدی کی کپتانی میں فائٹنگ اسپرٹ ہے، وہ پی ایس ایل میں کپتان بنے تو ٹیم کو ٹائٹل جتوا کر مجھ سمیت بہت سے لوگوں کو غلط ثابت کردیا، ہر میچ کے ساتھ ان کی قیادت میں بہتری نظر آئی،وہ تمام پلیئرز کو ساتھ لے کر چلتے ہیں، لاہور قلندرز کیلیے انھوں نے بہترین پرفارم کیا، کپتان میں یہی بے خوفی ہونا چاہیے،میری دعا ہے کہ انھیں جو ٹیم ملے اس میں فٹنس کے مسائل نہ ہوں، ورلڈکپ میں نسیم شاہ کی انجری سے مشکل ہوئی تھی۔

دورہ نیوزی لینڈ کی تیاری کے سوال پر فخرزمان نے کہا کہ ہم نے اتنی زیادہ کرکٹ کھیلی لی فارم اچھی ہو تو اب  کنڈیشنز سے زیادہ فرق نہیں پڑتا،گیند بیٹ پر آرہی ہے، ٹیم کمبی نیشن بھی اچھا ہے،ہم اچھا کھیل پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: فخر زمان کی ہارڈ ہٹنگ نے پاکستان ٹیم کو بھی چارج کر دیا

ورلڈکپ کے دوران فارم میں واپسی کے سوال پر فخرزمان نے کہا کہ ہم عام طور پر معمول کی پریکٹس ہی جاری رکھتے ہیں، کوشش تو تھی کہ لمبی اننگز کھیلوں مگر ایشیا کپ میں سری لنکن پچز میرے اسٹائل کے موافق نہیں تھیں، میں نیٹ پریکٹس میں بہت محنت کر رہا تھا، پہلے اگر 200 گیندیں کھیلتا تھا تواس سے زیادہ کھیلیں،ذہنی طور پر تو کام ہوتا ہے مگر تکنیک کے حوالے سے میں نے کچھ خاص کرنے کی کوشش نہیں کی، ویسی ہی پریکٹس کی جیسی پہلے کرتا رہا تھا،کوچز سے بات چیت ہوتی رہی، انٹرنیشنل پلیئرز نے بھی کال کی کہ یہ کرلو تو بہتر ہوگا،اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کوئی غلطی کررہا ہوں تو نہ کروں۔

دورہ آسٹریلیا، پاکستانی اسکواڈ زبردست، اچھے مقابلے ہوں گے

فخرزمان نے کہا کہ دورئہ آسٹریلیا کیلیے پاکستانی اسکواڈ زبردست ہے، اس میں کئی تجربہ کار کرکٹرز شامل ہیں،ہم آسٹریلوی کنڈیشنز کو آسان نہیں سمجھ سکتے مگر مجھے امید ہے کہ اچھے مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔

نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں شرکت کے حوالے سے فخرزمان نے کہا کہ ہم نوجوان کرکٹرز کی صلاحیتیں دیکھتے ہوئے خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہوا،دیہی علاقوں میں بھی بڑا ٹیلنٹ چھپا ہے، الگ کنڈیشنز میں کھیلنے کا تجربہ اچھا رہا۔

یہ بھی پڑھیں: ورلڈکپ؛ فخر زمان نے پاکستان کیلئے تیز ترین سینچری بناڈالی

’’تیز نہ کھیلے تو ہار جائیں گے‘‘ کیویز کیخلاف یہ سوچ کر میدان میں اترا

فخرزمان نے کہا کہ نیوزی لینڈ کیخلاف ورلڈکپ میچ میں یہ سوچ کر میدان میں اترا کہ تیز نہ کھیلے تو ہار جائیں گے،ون ڈے میں دونوں اینڈ سے نئی گیند کا استعمال ہوتا ہے،یہی سوچ تھی کہ اچھا آغاز کریں تو ہدف حاصل کرنے کا سوچ سکتے ہیں،میرا نیچرل کھیل ہی جارحانہ ہے،خوش قسمتی سے وہ میرا دن بھی تھا،اس لیے بڑی اننگز کھیلنے میں کامیاب رہا۔

ابتدائی میچز باہر بیٹھ کر دیکھنے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ آپ اسکواڈ کا حصہ رہے ہوں تو ذہن میں آتا ہے کہ کاش میں کھیل رہا ہوتا، مگر یہ پاکستان کی ٹیم ہے، اگر آپ ناکام اور دوسرا کوئی پرفارم کررہا ہو تو اسی کو موقع ملتا ہے،باہر بیٹھ کر آپ سیکھتے ہیں،توانائی یکجا کرنے کا موقع بھی ملتا ہے،بہرحال جب بھی چانس ملے تو 100فیصد پرفارم کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: فخر زمان کی شاندار بیٹنگ کی بدولت پاکستان نے نیوزی لینڈ کو شکست دے دی

چھکے صرف مضبوط جسامت سے نہیں لگتے، تینوں فارمیٹس کھیلنا چاہتا ہوں

فخرزمان نے کہا کہ چھکے صرف مضبوط جسامت سے نہیں لگتے،اگر بے خوف انداز سے کھیلے اور بیٹ کا سوئنگ تیز ہو تو کوئی بھی چھکا لگا سکتا ہے،کرکٹ میں چوکے کی بانسبت چھکا لگانا آسان کام ہے، بس درست انداز میں بیٹ گھمانا ہوتا ہے، اگر پریکٹس کریں تو چھکے لگا سکتے ہیں، کئی کرکٹرز جسمانی طور پر اتنے مضبوط نہیں لگتے مگر بڑے بڑے چھکے لگاتے ہیں۔

’’بیزبال‘‘ کے انداز میں جارحانہ ٹیسٹ کھیلنے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ ٹیسٹ میچز ہی اصل کرکٹ ہیں، میری تو خواہش ہے کہ تینوں فارمیٹ کی کرکٹ کھیلوں،جب بھی موقع ملے ڈومیسٹک 4روزہ میچز کھیلنے سے لمبی کرکٹ کھیل سکتا ہوں،ٹیسٹ سے تکنیک اور کارکردگی میں بہتری لانے کا موقع ملتا ہے،یہ کسی بھی بیٹر کی پہلی ترجیح ہونا چاہیے۔

پی ایس ایل میں لاہور قلندرز کی جانب سے ہی ایکشن میں ہوں گا

فخر زمان نے کہا کہ لاہور قلندرز نے مجھے ابھی ریلیز کیا ہے مگر میں پی ایس ایل میں اسی ٹیم کی جانب سے کھیلوں گا،یاد رہے کہ گذشتہ کئی سیزنز سے فخر زمان قلندرز کی ہی نمائندگی کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’’قسم کھاتا ہوں شاہین کی کپتانی کیلئے لابنگ نہیں کی‘‘

ورلڈکپ میں پاکستان کی مضبوط ٹیم سامنے آئے گی

فخرزمان نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں کسی ٹیم کے بارے میں ہم پیشگوئی نہیں کرسکتے،کسی اچھے دن کمزور ٹیم بھی مضبوط حریف کو ہرادیتی ہے،میزبان ملکوں کی کنڈیشز کو دیکھتے ہوئے جس طرح کی پلاننگ ہورہی ہے میں امید کرتا ہوں کہ پاکستان کی مضبوط ٹیم سامنے آئے گی۔

ون ڈے کرکٹ میں کسی بیٹر کی ٹرپل سنچری بھی بن سکتی ہے

فخرزمان نے کہا کہ کرکٹ اتنی تیز ہوگئی کہ ون ڈے کرکٹ میں کسی بیٹر کی ٹرپل سنچری بھی بن سکتی ہے، ابھی نہیں تو اگلے 10برسوں میں ایسا ہو جائے گی،اگر کسی اوپنر کا دن ہو تو اس کیلیے یہ سنگ میل عبور کرنے کا زیادہ موقع ہوگا۔

بُرے وقت میں بھی مداحوں کی جانب سے بڑی سپورٹ ملی

ورلڈکپ میں شاندار اننگز کے بعد پرستاروں کی تعداد بڑھنے کے سوال پر فخرزمان نے کہا کہ صرف پاکستان ہی نہیں ایشیا میں لوگ کرکٹ سے بڑا لگائو رکھتے ہیں، اچھی کارکردگی سے پذیرائی بھی ملتی ہے،پرفارمنس نہ ہوتو لوگ ناراض بھی ہوتے ہیں، ہمارے ذہن میں بھی ہوتا ہے کہ فینز کیلیے کچھ کرنا ہے،بُرے وقت میں بھی مجھے بڑی سپورٹ ملی،اس لحاظ سے خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں، سوشل میڈیا اکائونٹ میرا منیجر چلاتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔