دسمبر، آر ایل این جی کی درآمد18ماہ کی بلندترین سطح پر پہنچ گئی

سلمان صدیقی  اتوار 24 دسمبر 2023
گیس کی طلب 6,500 ایم ایم سی ایف ڈی اور رسد4,300 ایم ایم سی ایم ہے، طاہر عباس۔ فوٹو:فائل

گیس کی طلب 6,500 ایم ایم سی ایف ڈی اور رسد4,300 ایم ایم سی ایم ہے، طاہر عباس۔ فوٹو:فائل

کراچی: آر ایل این جی کی درآمد18ماہ کی بلندترین سطح پر پہنچ گئی۔

پاکستان کی جانب سے گزشتہ ایک سال کے دوران پہلی بار اسپاٹ مارکیٹ سے دو کارگو خریدنے کا آرڈر دینے کے بعد دسمبر2023 میں آر ایل این جی کی درآمد 18 ماہ کی بلندترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور دسمبر میں درآمد کردہ کارگوز کی تعداد 11ہوگئی ہے۔

واضح رہے کہ انٹرنیشنل اسپاٹ مارکیٹ میں آر ایل این جی کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور سردیوں کے دوران گیس کی بڑھتی ہوئی طلب نے حکومت کو اسپاٹ مارکیٹ سے کارگو خریدنے پر آمادہ کیا۔

ریسرچ ہیڈ، عارف حبیب لمیٹڈ طاہر عباس نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ پاکستان نے 16 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے ریٹ پر دو کارگو خریدے ہیں، جو دسمبر میں پہنچ جائیں گے، اس کے علاوہ پی ایس او اور پی ایل ایل بھی قطر انرجی ایل این جی اور گنور سے 10.67 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے اوسط ریٹ پر 9 کارگوز خرید چکے ہیں، اس سے قبل جولائی 2022 سے لے کر نومبر تک 17 ماہ کے دوران پاکستان نے ہر ماہ اوسط 8 سے 10 کارگو خریدے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آر ایل این جی مہنگی، اوگرا کا نوٹیفکیشن جاری

یاد رہے کہ پاکستان نے 2022 کی سردیوں میں اسپاٹ مارکیٹ میں آر ایل این جی کی قیمت 40 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی سطح پر پہنچنے کے بعد کارگو کی خریداری روک دی تھی، اور لوڈ منیجمنٹ کے ذریعے مقامی گیس پر انحصار شروع کردیا تھا، امکان ہے کہ درآمد کردہ گیس گھریلو استعمال کیلیے ہی فراہم کی جائے گی، کیوں کہ بزنس میں بلند قیمت کی وجہ سے درآمدی گیس استعمال کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے اور مقامی گیس کو ترجیح دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ سالانہ بنیادوں پر مقامی گیس کے ذخائر میں 9 فیصد کمی کی وجہ سے پاکستان کا درآمدی گیس پر انحصار بڑھ رہا ہے۔

طاہر عباس نے مزید کہا کہ پاکستان میں مقامی ذرائع سے روزانہ 3,200 ملین کیوبک فٹ گیس حاصل کی جارہی ہے، جبکہ 11 کارگوز سے 1,100 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دستیاب ہوگی، اس طرح دسمبر کے سرد ترین مہینے میں صارفین کیلیے 4,300 ایم ایم سی ایم گیس دستیاب ہوگی، جبکہ ضرورت 6,500 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، اس کمی کو پورا کرنے کیلیے لوڈشیڈنگ کا سہارا لیا جائے گا۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔