بلاول بھٹو اور اروند کجریوال کے دس وعدے

راجہ کامران  ہفتہ 30 دسمبر 2023
دونوں سیاسی رہنماؤں نے بجلی کے معاملے کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنایا ہے۔ (فوٹو: فائل)

دونوں سیاسی رہنماؤں نے بجلی کے معاملے کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنایا ہے۔ (فوٹو: فائل)

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گڑھی خدابخش میں سابق وزیراعظم شہید بے نظیر بھٹو کی برسی پر خطاب کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے منشور کا اعلان کیا۔ منشور کے اعلان کے ساتھ ہی مجھے احساس ہوا کہ پیپلز پارٹی میں ماضی میں معیشت اور سیاست کے حوالے سے جو گہری سوچ پائی جاتی تھی، شاید اب وہ معدوم ہوگئی ہے۔

یا پھر پیپلز پارٹی نے اپنی صوبائی حکومت کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے ’روٹی، کپڑا اور مکان‘ کے وعدے سے پیچھے ہٹنے کےلیے ایک حکمت عملی اپنائی ہے۔ اور اس میں کوئی نئی سوچ اور نیا نظریہ لانے کے بجائے پارٹی کی منشور تیار کرنے والی ٹیم ملکی حالات سے زیادہ سرحد پار کی تیزی سے مقبول ہونے والی سیاسی جماعت ’عام آدمی پارٹی‘ اور اس کے سربراہ اروند کجریوال سے متاثر نظر آئی اور اس کے سال 2022 میں اعلان کردہ منشور کا طرز اپنانے کے علاوہ بجلی کے حوالے سے بھی عام آدمی پارٹی کے طریقہ کار کو اپنایا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے عوامی فلاح و بہبود کے حوالے سے 10 وعدے کیے ہیں۔ جس میں پارٹی کے پرانے نعرے ’روٹی، کپڑا اور مکان‘ کا ذکر نہ کرتے ہوئے تین سو یونٹ استعمال کرنے والوں کو مفت بجلی دیں گے، پاکستان پیپلز پارٹی ’’بھوک مٹاؤ پروگرام‘‘ شروع کرے گی، ہر ڈویژن میں ’’یوتھ سینٹر‘‘ بنائیں گے، بینظیر انکم سپورٹ کی طرح کسانوں کےلیے ’’ہاری کارڈ‘‘ بنا کر دیں گے، حکومت بنائی تو مزدوروں کو ’’بینظیر مزدور کارڈ‘‘ بنا کر دیں گے۔

جس طرح بلاول بھٹو زرداری نے اپنے انتخابی منشور میں دس نکات، اہداف یا وعدوں کا اعلان کیا اسی طرح گزشتہ سال بھارت میں دلی کے ریاستی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال نے بھی 10 وعدے اپنے عوام سے کیے تھے۔ دونوں سیاسی رہنماؤں نے بجلی کے معاملے کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنایا ہے۔

کجریوال نے بطور اپوزیشن لیڈر بجلی کے حوالے سے دلی میں بجلی فراہم کرنے والی دونوں کمپنیوں اور مرکزی حکومت کے خلاف سخت موقف اختیار کیا تھا۔ اور اقتدار میں آتے ہی بہت سے کاموں میں سے سب سے پہلے بجلی کے معاملے کو ترجیح دی، جس سے دلی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ جو کہ 6 سے 8 گھنٹے تھی، اس کو ختم کیا۔ ساتھ ہی بجلی کے بلوں میں بھی عوام کو رعایت دینے کا سلسلہ شروع کیا۔ اس طرح کجریوال نے دلی میں 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والوں کو بل کی ادائیگی معاف کردی ہے، جو کہ بجلی کے صارفین کا 72 فیصد بنتا ہے۔ اسی طرح بھارتی پنجاب میں حکومت بنانے کے بعد 50 لاکھ صارفین، جن کے بلوں میں شکایت تھی، کے تمام واجبات معاف کردیے ہیں۔

بجلی کے بلوں میں اضافے سے پاکستان کے عوام بھی بری طرح پریشان ہیں۔ پاکستان میں بجلی کا معاملہ وفاق کے پاس ہے۔ اور اس بات کی کوشش کی گئی کہ اس شعبے کو یا کم از کم بجلی کی تقسیم کے شعبے کو صوبوں کے حوالے کردیا جائے۔ مگر ابھی تک بجلی وفاق کا شعبہ ہے۔ بجلی کی قیمت جس تیزی سے بڑھی ہے۔ اس نے عوام اور صنعت کاروں کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔ پی ڈی ایم کی حکومت، جس کا حصہ بلاول بھٹو خود رہے، کی بجلی کی قیمت کے حوالے سے پالیسی سے خود کو فاصلہ کرتے ہوئے بلاول کا کہنا ہے کہ انہوں نے صرف وزارت خارجہ پر توجہ دی۔ باقی پی ڈی ایم حکومت کے اقدامات کو اور کارکردگی سے خود کو فاصلہ کرتے ہیں۔ اسی حکومت جس کا حصہ بلاول بھٹو رہے، اس نے اپنے اقتدار کے دوران بجلی کئی مرتبہ مہنگی کی اور جو کام متخب حکومت نہ کرسکی ان کاموں کا الزام اتحادیوں پر ڈال رہے ہیں۔ بلاول بھٹو نے بجلی کی قیمت میں کمی کے بجائے کم استعمال کرنے والے افراد کو ریلیف دینے کا اعلان کیا ہے۔ یعنی 300 یونٹ تک بجلی مفت دینے کا اعلان بھی عام آدمی پارٹی کی جانب سے دلی میں پہلے 200 یونٹس اور پنجاب میں 300 بجلی مفت دینے کے وعدے سے ملتا جلتا ہے۔

مگر بلاول بھٹو جانتے ہیں کہ اگر ملک میں بجلی مہنگی ہوئی ہے تو اس میں 1992 میں ان کی والد کی متعارف کردہ پاور پالیسی کا بڑا ہاتھ ہے۔ جس کے بعد ملک میں تھرمل بجلی کی پیداوار کرنے والے آئی پی پیز لگانے کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ اور اب یہ حالت ہے کہ بجلی کی فروخت کی مکمل قیمت حکومت وصول کرنے سے قاصر ہے تو دوسری طرف اس شعبے کا گردشی قرضہ دن بہ دن بڑھتا چلا جارہا ہے۔ گردشی قرضے 5 ہزار 511 ارب روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ اس میں بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ 2 ہزار 611 ارب روپے اور گیس کے شعبے کا گردشی قرضہ 2 ہزار 900 ارب روپے ہے۔

پاکستان کے بجلی کے شعبے پر اپنی رپورٹ میں عالمی بینک نے انکشاف کیا ہے کہ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں بجلی 45 فیصد سے زائد مہنگی ہے۔ بجلی مہنگی ہونے کا اعتراف وفاقی نگران وزیر برائے توانائی محمد علی بھی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بجلی کی قیمت 15 سینٹس فی یونٹ ہے جبکہ خطے کے دیگر ممالک میں بجلی 8 سے 9 سینٹس فی یونٹ پر فروخت ہورہی ہے۔ اور اب بلاول بھٹو اس بجلی کی قیمت کو بنیاد بنا کر الیکشن لڑنے جارہے ہیں۔ مگر اصل مسئلہ پاکستان میں بجلی کی مفت فراہمی کے بجائے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں کمی کرنا ہے۔

کجریوال کی سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی سال 2015 سے اقتدار میں ہے۔ اور دلی میں کیے جانے والے اقدامات کی روشنی میں اس پارٹی کو پنجاب میں بھی مقبولیت ملنا شروع ہوئی اور نہ صرف دلی میں پارٹی نے اپنا اقتدار مضبوط کیا بلکہ بھارتی پنجاب میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی۔ عام آدمی پارٹی نے نہ صرف عوام کو ریلیف اور سہولتیں فراہم کی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دلی کی خسارے میں چلنے والی حکومت کو ٹیکس ریٹ کم کرنے کے باوجود بچت کے بجٹ میں تبدیل کیا ہے۔ دوسری طرف بلاول بھٹو کی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ اور وفاق میں 2008 میں بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد حکومت بنائی۔ اس کے بعد سے صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو مسلسل سندھ میں اپنی حکومت بنا رہی ہے۔ مگر گزشتہ 15 سال کی حکومتی کارکردگی اس قابل نظر نہیں آرہی، جس کی بنیاد پر وہ دیگر صوبوں کے عوام سے ترقی کا وعدہ کرسکیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا بلاول بھٹو اپنی پارٹی کی صوبہ سندھ میں کارکردگی کی بنیاد پر دیگر صوبوں میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں؟ اس کا جواب تو وقت دے گا مگر بلاول اور زراداری کی بے نظیر بھٹو کے یوم شہادت پر کی جانے والی تقاریر میں سندھ حکومت کی کارکردگی کا بہت زیادہ ذکر نہیں ملتا۔

ویسے بھی پاکستان میں کسی سیاسی جماعت نے اپنے منشور پر عمل نہیں کیا ہے۔ اور یہی محسوس ہوتا ہے کہ منشور ایک ایسی سیاسی دستاویز ہے جس میں عوام سے خوشنما وعدے تو کیے جاتے ہیں، مگر اس پر عمل کوئی حکومت نہیں کرتی۔ اور بلاول کے 10 وعدے بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی لگتے ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

راجہ کامران

راجہ کامران

بلاگر سینئر اکانومی جرنلسٹ ہیں۔ پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا میں کام کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر ہینڈل @rajajournalist پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔