تہذیب دوپٹے کی۔۔۔

صائمہ سمیر  منگل 9 جنوری 2024
فوٹو : فائل

فوٹو : فائل

انسان میں مذکر مونث کی تفریق یا فرق لباس اور پہناوؤں سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ یا یوں کہیے کہ یہ فرق ’تفریق‘ نہیں بلکہ انفرادیت ہے، جو صنف نازک اور صنف قوی کو ایک دوسرے متمیز اور ممتاز بھی بناتی ہے۔ ایسے ہی دوپٹہ بھی ہمارے ہاں عام طور پر خواتین میں نسوانیت اور شرم وحیا کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

آنچل ایک علامت ہے، جسے شعرا سے لے کر ادیبوں تک، سبھی نے اپنے اپنے انداز میں اپنے قلم کے ذریعے سو سو رنگوں سے باندھا ہے۔ صنفِ نازک کی شخصیت کو ایک منفرد اور اچھوتا احساس دیتا ہوایہ انداز اور یوں خواتین کا اپنے سر کو ڈھانپنا ہماری تہذیب کی ایک روشن روایت ہے۔

یہ روایت ہماری خواتین کو دل کشی عطا کرتی ہے۔ دوپٹہ ہماری خواتین کی ایک الگ ہی پہچان ہے، یہ ہماری مذہبی اور سماجی اقدار کا آئینہ دار بھی ہے۔ مشرقی عورت کا تصور کرتے ہی ہمارے ذہن میں دوپٹہ آجاتا  ہے۔ مشرقی عورت کی پہچان میں جہاں بہت سی چیزیں شامل ہیں، وہاں اس کے آنچل کو نمایاں اور بنیادی حیثیت حاصل ہے، جو کہ مشرقی خواتین کی خاص نشانی ہے۔

دوپٹہ زمانہ قدیم سے ہی مشرقی خواتین کے لباس کا حصہ رہا ہے۔ پہلے خواتین دوپٹے کے معاملے میں زیادہ حساس نہیں تھیں، اس لیے کسی بھی سوٹ کے ساتھ کوئی بھی دوپٹہ پہن لیا جاتا تھا، جیسے جیسے زمانے نے ترقی کی، فیشن میں بھی تبدیلی آتی گئی۔ کچھ خواتین دوپٹہ فیشن کے طور پربھی اوڑھتی ہیں اور کچھ اسے ضروری سمجھتی ہیں۔

آنچل ہمارے ہاں کی خواتین کا ایک خاص حوالہ ہے۔ سر ڈھانپنا دنیا بھر کی مسلمان خواتین کا ابھی ایک الگ خاصہ ہے، لیکن ہر جگہ اس کا طریقہ اور نوعیت الگ نظر آتی ہے، جیسا کہ ہمارے ہاں سر ڈھکنے کے لیے دوپٹے کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی نہیں لباس سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اسے بھی خوب مختلف فیتوں اور کشیدہ کاری سے بھی آراستہ کیا جاتا ہے، مختلف رنگوں اور کناریوں سے اس کی خوب صورتی میں اضافہ کیا جاتا ہے۔

بہت سی خواتین دوپٹے کو گوٹے کناری اورشیشوں کی کڑھائی سے سجاتی ہیں۔ دھاگوں کی کڑھائی شیڈورک اورآڑکنڈی کے دوپٹوں کی بھی آج کل بہت مانگ ہے۔ جالی اور دوپٹے کے چاروں طرف چوڑی پٹی کی شکل میں تلے اور نقش کاری کا کام بھی خاصا پسند کیا جاتا ہے۔

دوپٹے پر سلمہ ستارے اور موتی کا کام بھی خواتین نہایت شوق سے کرواتی ہیں، جب کہ دوپٹے میں کہیں کہیں متضاد رنگ کا کپڑا لگا کر کڑھائی کے لباس کو مزید دل فریب بنایا جا سکتا ہے۔ سیاہ رنگ پر سفید اور سنہری تلے کا کام اور نقاشی کا استعمال لباس میں نکھار پیدا کرتا ہے۔ فیبرک ہینڈ پینٹنگ، ٹائی اینڈ ڈائی، سلک آرٹ ورک، ایمبرائیڈری، گلئیٹر اور ایک ترتیب سے کروشیہ کا کام بھی بہت مقبول ہے۔

ہینڈ پینٹڈ دوپٹے کی بات کیجیے تو اس نے اپنے آغاز سے ہی رنگوں کی جادو نگری کے باعث بہت مقبولیت حاصل کی ہے، جو آج بھی بر قرار ہے۔

اس کے ساتھ گلیڑ، سلک کلر، ٹائی اینڈ ڈائی، فیبرک  پینٹنگ نے بھی اس خوب صورتی میں اضافہ کیا، بڑے عرض کے دوپٹے میں خوب صورت ڈیزائننگ اور رنگوں کا نزاکت سے استعمال کسی بھی عام سوٹ کو خاص بنا سکتا ہے۔فیبرک پینٹنگ میں فلورل، جیومیٹریکل اور ایسٹریکل ڈیزائنز کے ساتھ ہر دور، ہر تہذیب کے عکس و آہنگ کو بڑی عمدگی سے یک جا کیا جاتا ہے اور خواتین اس طرح کہ دوپٹہ پہن کر بہت خوب صورت نظر آتی ہیں۔

ٹائی اینڈ ڈائی کی رنگائی سے دوپٹے کو مختلف گرہیں لگا کر یا دھاگے سے باند کر بڑی مہارت سے رنگا جاتا ہے، جس سے رنگ اپنی مختلف ہی بہار دکھاتے ہیں ۔

یہ کام آپ سلک کلر سے بھی بہت آسانی سے کر سکتی ہیں، جیسے جیسے زمانہ ترقی کی منازل طے کرتا گیا، اس آرٹ میں جدت اور خوب صورتی آتی گئی، دلہن کے لیے مایوں اور منہدی کے سوٹ کے ساتھ ٹائی اینڈ ڈائی دوپٹے گوٹے، ترتیب کے ساتھ منفرد اور دل کشی میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ اس ہنر کو مہارت سے سیکھ کر خواتین اسے روزگار کا ذریعہ بھی بنا سکتی ہیں۔ پلین سوٹ کے ساتھ چنری اسٹائل دوپٹہ لے لیا جائے تو ایک عام سوٹ بھی خاص بن سکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔