سال کے ایک سو چالیس دن

شیریں حیدر  ہفتہ 10 فروری 2024
 Shireenhaider65@hotmail.com

[email protected]

اس ملک میں کسی بچے یا استاد سے پوچھیں کہ سال میں، آپ کے تعلیمی کیلنڈر پر کتنے دن ہوتے ہیں تو آپ کو جواب ملے گا، ’’ ایک سو چالیس دن!‘‘ اب ہم ان دنوں کا جائزہ لیتے ہیں جو کہ ہمارے ہاں تین سو پنسٹھ دنوں میں سے منفی ہوتے ہیں۔

گرمیوں کی چھٹیاں 75‘ سردیوں کی چھٹیاں 21 ‘چھٹیوں کے علاوہ ہفتہ اور اتوار40‘ عیدالضحی3‘ عیدالفطر3‘ عید میلاد النبی1‘ یوم عاشورہ2‘ جمعۃ الوداع1‘ یوم آزادی1‘ یوم پاکستان1‘ یوم اقبال 1‘ دو امتحانات کی تیاری کی چھٹیاں 14‘ اساتذہ اور والدین کی سہ ماہی میٹنگ4‘ اسکولوں کی مختلف تقاریب18‘ اسکول کا سالانہ ٹرپ1‘ دھند کی وجہ سے اسکول کی بندش 10۔ یہ سب چھٹیاں ملا کر 196 دن کی چھٹیاں بنتی ہیں۔

سال کے تین سو پنسٹھ دنوں میں سے اگر یہ دن منہا کر دیے جائیں تو بقایا 169 دن بنتے ہیں، ان میں سے چار دن اور منہا کردیے جائیں جن میں کہ بچے کو اپنے ذاتی وجوہات کی بنا پر چھٹی کرنا پڑ جاتی ہے تو بقایا دن بچ جاتے ہیں 165 ۔ جو لوگ اس محکمے میں ہیں، انھیں بخوبی اندازہ ہے کہ یہ وقت ان بچوں کا سال بھر کا سلیبس پڑھانے کے لیے بہت کم ہیں۔

ان ایک سو پنسٹھ دنوں میں سے وہ دن بھی منہا کریں کہ جس دوران بچوں کے امتحانات ہو رہے ہوتے ہیں اور سلسلہء تعلیم نہیں ہوتا تو وہ پچیس دن اور نکل جاتے ہیں، ان دنوں میں بھی بیچ میں کسی دن امتحان ہوتا ہے اور کسی دن چھٹی۔ سال کے تین سو پنسٹھ دنوں میں سے فقط 140 دن… پور ے سال کی فیس ادا کی جاتی ہے اور اساتذہ پورے سال کی تنخواہ لیتے ہیں مگر کام کیا ہو رہا ہے؟

چند دن میں انتخابات ہونے والے ہیں اور اس دوران اساتذہ ڈیوٹی پر مامور ہوں گے، چھٹی کا دن ہو گا، اس دن کی تنخواہ انھیں یوں بھی مل رہی ہو گی مگر الیکشن کی ڈیوٹی کے نام پر انھیں اور بھی اضافی تنخواہ ملے گی۔

اسکولوں کی بسوں والے ان دنوں کے پیسے بھی بچوں کے والدین سے وصولتے ہیں جن دنوں میں چھٹیاں ہوتی ہیں اور بچے اسکول نہیں جا رہے ہوتے۔ بعض نجی اسکولوں کی اپنی اپنی ٹرانسپورٹ ہوتی ہے اور سال کے آغاز میں ہی پورے سال کے ٹرانسپورٹ کے اخراجات وصول کر لیے جاتے ہیں۔

اس پر کوئی چیک نہیں ہے، بچوں کے والدین چیختے رہ جاتے ہیں کہ جب بچے اسکول نہیں جا رہے ہیں تو بس کا کرایہ کس لیے دیں مگر سب بے کار۔ حتی کہ اگر کوئی بچہ دو ماہ کے بعد اسکول چھوڑ کر جا رہا ہو تو اسکول کی سیکیورٹی فیس وغیرہ تو اسے واپس ہو جاتی ہے مگر بقایا دس ماہ کا بس کا کرایہ واپس نہیں ملتا جو کہ اسے نئے اسکول میں جا کر پھر نئے سرے سے دینا پڑتا ہے ۔

چند برس پہلے کینیڈا جانے کا اتفاق ہوا تو ٹورنٹو کے نواح میں ایک آبشار دیکھنے کے لیے جانے کا پروگرام بنا، جب ہم وہاں پہنچے تو علم ہوا کہ ہمیں اپنی گاڑیاں آبشار سے کافی دور پارک کرنا تھیں اور اس سے آگے ہم بسوں پر جائیں گے، وہ بسیں ہم سے کوئی کرایہ نہیں لیں گی۔

ہم جب اپنی گاڑی پارک کر کے وہاں پہنچے جہاں سے ہمیں بسیں لینا تھیں تو دیکھا کہ جتنی بھی بسیں وہاں چل رہی تھیں، ان پر مختلف اسکولوں کے نام لکھے ہوئے تھے۔ استفسار کرنے پر علم ہوا کہ وہ اسکولوں کی ہی بسیں تھیں اور انھیں چلانے والے بھی وہ ڈرائیور تھے جو کہ معمول میں اسکولوں کی بسیں چلاتے ہیں۔ اسکولوں کی چھٹیوںکے دوران ان بسوں کو مختلف سیاحتی مقامات پر چلایا جاتا ہے۔

اسی طرح اسکولوں کے اساتذہ کو چھٹیوں کے دوران لازمی کوئی نہ کوئی تربیت کرنا ہوتی ہے یا اور اس کے ساتھ کوئی بھی کمیونٹی سروس کا کام دیا جاتا ہے۔ اساتذہ کو بچوں کی طرح چھٹیاں نہیں ملتیں ۔ انھیں تنخواہ ملتی ہے تو اس کے عوض انھیںکام کرنا ہوتا ہے، کوئی بھی وہاں بغیر کام کے تنخواہ نہیں حاصل کر سکتا ۔ ہمارے اساتذہ کو آپ چھٹیوں کے دوران ایک دن کے لیے بھی کسی کام سے بلا لیں تو وہ بڑبڑاتے ہیں۔

ہمارے ہاں عام اسکولوں میں اساتذہ کو بچوں کی چھٹیاں ختم ہونے سے ایک ہفتہ پہلے اسکولوں میں طلب کر لیا جاتا ہے کہ وہ اسکول آ کر اگلی ٹرم کے پلان تیار کریں، کلاس روم تیار کریں اور آپس میں میٹنگ کر کے طے کریں کہ کس استاد نے کس کلاس کا کیا مضمون لینا ہے، اڑھائی ماہ کی چھٹیاں گزار کر بھی اس ایک ہفتے کی طلبی پر ہمارے اساتذہ اس قدر نالاں ہوتے ہیں کہ کیا ذکر کیا جائے۔

سب سے بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں تعلیم کی اہمیت کو سمجھا ہی نہیں گیا، نہ ہی اسے کسی بھی چیز پر فوقیت دی جاتی ہے، یوں جیسے اسکول جانا ترجیحات میں، سب سے آخری نمبر پر ہو۔ جس تعلیم کی اہمیت کو لگ بھگ سو برس پہلے ہمارے دانش وروں، لیڈروں اور سیاسی دانوں نے سمجھ لیا تھا، ہم آج ریورس گئیر میں چلتے ہوئے، اس سے ناواقف ہو گئے ہیں۔ جہاں سہولیات سے زندگی آسان اور بہتر ہو تی جا رہی ہے، وہاں ہمارا تعلیمی نظام بد سے بدتر ہوتا جا رہا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔