تخلص بیتی

محمد علی عمران خان  اتوار 18 فروری 2024
اردو کے معروف شعراء کے انتخابِ تخلص کی دل چسپ داستاں ۔ فوٹو : فائل

اردو کے معروف شعراء کے انتخابِ تخلص کی دل چسپ داستاں ۔ فوٹو : فائل

( حصہ دوم )

نواب میرزا داغ

فصیح الملک، طوطی ہندوستان نواب میرزا داغ ؔکے تخلص سے متعلق احسن ؔمارہروی اور افتخار ؔعالم مارہروی اپنی ادبی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’’بزمِ داغ ؔ‘‘ میں بیان کرتے ہیں کہ ’’ایک روز مرزا کہنے لگے کہ بچپن میں میرے کئی بار چیچک نکل چکی ہے مگر خدا کی قدرت ملاحظہ ہو کہ میرے جسم پر کہیں چیچک کا داغ نہیں، اس کمی کو میرا تخلص داغ ؔرکھ کر پوا کردیا گیا ہے۔ چیچک سے جسم تو دغیلا نہ ہوا مگر نام پر داغ ضرور لگ گیا۔ اپنے اس تخلص سے متعلق وہ اپنی غزل کے ایک مقطع میں بھی اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں:

؎داغ ؔکا نام سنا، سن کے تنک کر بولے!!

کیا یہ انسانوں کے بھی نام ہوا کرتے ہیں؟‘‘

مرتضی احمد خان میکشؔ

محمد صالح طاہر اپنی کتاب ’’مرتضیٰ احمد خان میکش ؔ کی ادبی خدمات‘‘ میں لکھتے ہیں،’’ادیب، شاعر اور صحافی مرتضیٰ احمد خان انتہائی دین دار اور پابند صوم وصلوٰۃ تھے، مگر ریاضؔ خیرآبادی کی طرح اپنی شخصیت کے برعکس اپنے لیے میکشؔ کا تخلص پسند کیا۔

قادیانی تحریک کے دوران جب وہ ایک انکوائری کمیشن کے روبرو پیش ہوئے تو کمیشن کے سربراہ جسٹس محمد منیر نے پوچھا،’’آپ مولانا ہیں تو پھر میکش ؔکا تخلص کیوں اختیار کیا؟ اس پر میکش ؔصاحب بولے، حضور!! بندہ صرف تخلص کی حد تک گناہ گار ہے اور میکش ؔبھی مئے عرفان کی رعایت سے ہے اور کچھ نہیں۔‘‘ جب کہ حسرت ؔموہانی ، انہیں مرتضی احمد خان کو ازراہ مذاق کہا کرتے تھے’’آپ ’میکش‘ ہیں یا ’نَے کش‘ ہیں؟‘‘ (فارسی لفظ نے کا مطلب ہے نہیں، جب کہ کش کا مطلب ہے پینے والا یعنی نہ پینے والا)۔

تلوک چند محروم ؔ

تلوک چند محروم ؔکی شخصیت اور شاعری کے حوالے سے تحریر کردہ ڈاکٹر زینت اللہ جاوید کی کتاب میں تلوک چند محرومؔ اپنے تخلص کی بابت بیان کرتے ہیں،’’میری طبیعت شروع ہی سے غم پسند واقع ہوئی۔ اسکول کی کتابوں میں رقت آمیز مضامین پڑھ کر اکثر جماعت میںہی میرے آنسو نکل آتے تھے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بیس پچیس لڑکوں کی جماعت میں جب پہلی بار ’فسانۂ آزاد‘ کا ایک مضمون ’محمود کا پھانسی پانا اور چھوٹے بچے کا بلبلانا‘ پڑھا گیا تو میں اکیلا ہی ایک ایسا طالب علم تھا جس کی آنکھیں نم ناک ہوئی تھیں۔ بعدازآں جب میں ہائی اسکول پہنچا تو میں نے اپنا تخلص بدلنے کا ارادہ کیا۔

کانپور سے شائع ہونے والے ادبی رسالے ’’زمانہ‘‘ کے ایڈیٹر منشی دیا سنگم نرائن سے خط و کتابت کے دوران میں نے انہیں اپنے تخلص محرومؔ بدلنے کے ارادے سے آگاہ کیا اور اپنے لیے پروازؔ کا تخلص تجویز کیا، حتٰی کہ چند رباعیات بھی پرواز ؔتخلص کے ساتھ اشاعت کے لیے بھیجیں۔ لیکن انہوں نے اس تجویز کو رد کیا اور مجھے سابقہ تخلص محروم ؔپر ہی قائم رہنے کا مشورہ دیا جسے میں نے مان لیا اور آج تک اس پر کاربند ہوں۔‘‘ تلوک چند کے اسی تخلص کے ضمن میں سید محمد ازہر شاہ قیصر اپنی کتاب ’’یادگار زمانہ ہیں جو لوگ‘‘، میں لکھتے ہیں،’’لاہور کے ادباء و شعراء نے تلوک چند محروم ؔکے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کی جس کے شرکاء میں روزنامہ ’زمیندار‘ کے ایڈیٹر ظفر علی خان بھی شامل تھے۔ تقریب کے اختتامی مراحل میں جب ظفر علی خان اسٹیج پر تشریف لائے تو انہوں نے تلوک چند محروم ؔسے متعلق اپنی پنی تقریر اس شعر پر ختم کی:

؎وہ کون ہے نہ ملا جس کو بوسۂ لبِِ لعل؟

تلوک چند ہی بے چارہ رہ گیا محرومؔ!‘

آرزو ؔلکھنوی

اردو شاعری کے اساتذہ میں شمار کیے جانے والے آرزو ؔلکھنوی کے حوالے سے سید مجاہد حسین حسینی اپنی کتاب ’’آرزو لکھنوی حیات اور شاعری‘‘ میں رقم طراز ہیں کہ ’’استادالاساتذہ علامہ آرزوؔ لکھنوی کا اصل نام ’سید انور حسین تھا۔‘ ان کے والد میر ذاکر حسین بھی شاعر تھے جو یاس ؔتخلص کیا کرتے تھے، جب کہ ان کے بڑے بھائی سید فضل حسین شاعری میں اپنا تخلص قیاس ؔاستعمال کرتے تھے۔ والد اور بھائی کی نسبت سے آرزو ؔلکھنوی نے سخن وری کے ابتدائی عرصے میں اپنے لیے آس کاؔ تخلص پسند کیا۔ لیکن کچھ عرصے بعد آس ؔکی بجائے امید ؔتخلص کرنے لگے۔ اس عرصے کے دوران کی کہی گئی غزل کا مقطع ہے:

؎سوالِ وصل پہ کرتے ہو کیوں امیدؔ کو قتل!!

تمہارے دل میں بتاؤ کہ یہ سمائی کیا؟

لیکن اپنے اس تخلص سے بھی آپ مطمئن نہ ہوئے اور بالآخر آرزو ؔکا تخلص اختیار کیا جو تادمِ آخر آپ کے نام کے ساتھ رہا۔ آرزو ؔکو اپنے تخلص سے بہت پیار تھا، جس کا اظہار انہوں نے اپنے درج ذیل شعر میں کیا ہے:

؎میں آرزو ؔ ہی رہوں گرچہ نامراد سہی

پکار اگر تو اسی نام سے پکار مجھے!!!‘‘

اردو شاعری کی صنعت غیرمنقوط کے لیے آرزو ؔاپنا تخلص ’’مراد‘‘ اؔستعمال کیا کرتے تھے۔ اس صنعت میں آرزو ؔکے بطور مراد ؔتخلص کے دو اشعار ملاحظہ ہوں:

؎دردِ دل کا عدم مآل ہوا

وصل کا آسرا سوال ہوا

مدعا دل کا آؤ کہہ لو مرادؔ

کہ وہ، اور سامع سوال ہوا

محمد الدین فوقؔ

عارف نقوی اپنی کتاب ’’یادوں کے چراغ ‘‘میں لکھتے ہیں،’’پنجاب کے پہلے اردو اخبار ’کوہ نور‘ کے آخری ایڈیٹر محمد الدین فوقؔ اپنی سخن وری کے آغاز میں شوق ؔتخلص کرتے تھے اور سخنؔ شاہ جہاںپوری سے اصلاح لیتے تھے۔

انہوں نے جب اپنی ایک غزل ادبی رسالہ ’انتخاب‘ میں برائے اشاعت بھیجی تو رسالے کے مدیر نے وہ غزل اس نوٹ کے ساتھ واپس بھیج دی کہ ’’محمد ظہیر احسن شوقؔ عظیم آبادی کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے شوق کی غزل اس رسالے میں نہیں چھپ سکتی، بہتر ہے کہ آپ اپنا تخلص تبدیل کرلیں۔‘‘ تب محمد الدین شوق صاؔحب نے اپنے لیے ’’فوق ؔ‘‘کا تخلص پسند کیا اور تا حیات اسی کو اپنائے رکھا۔

ساحرؔ لدھیانوی

ہندوستانی ادیب اور صحافی نریش کمار شاد کی کتاب ’’پانچ مقبول شعرائ‘‘ میں، معروف شاعر اور نغمہ نگارساحرؔ لدھیانوی کتاب کے مصنف کو انٹرویو دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ان کا حقیقی نام ’’عبدالحئی‘‘ تھا، لیکن جب انہوں نے شعری دنیا میں قدم رکھا تو انہیں ایک تخلص کی ضرورت پیش آئی۔ لیکن وہ یہ فیصلہ نہیں کرپا رہے تھے کہ کونسا تخلص اختیار کیا جائے؟ ایک روز اسی کشمکش میں بیٹھے کلامِ اقبال کا مطالعہ کر رہے تھے کہ علامہ اقبال کا تحریر کردہ داغ ؔدہلوی کا مرثیہ پڑھا، جب اس شعر پہ پہنچے:

؎اس چمن میں ہوں گے پیدا بلبلِ شیراز بھی

سیکڑوں ’’ساحر‘‘ بھی ہوں گے صاحبِ اعجاز بھی

’’کیوںکہ میں بھی بزعم خود اپنے آپ کو سیکڑوں میں ایک شمار کرتا تھا اس لیے اپنے تخلص کے لیے مجھے ساحرؔ کا لفظ موزوں معلوم ہوا اور میں نے یہی تخلص اپنے لیے اختیار کیا۔‘‘

 ساغرؔ نظامی

سیماب ؔاکبرآبادی کے شاگرد راز ؔچاند پوری اپنی ادبی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’’داستانِ چند‘‘ میں لکھتے ہیںکہ ’’مکندہ راؤ کے علاقے میں میرآصف کے مکان پر ایک طرحی مشاعرہ منعقد ہوا۔ مصرعۂ طرح تھا:

؎حسرت ٹپک رہی ہے کسی کی نگاہ سے

مشاعرے میں استاد سیمابؔ مجھ سمیت دیگر شاگردوں کے ساتھ شامل تھے۔ مشاعرہ شروع ہونے سے پہلے استاد کے ایک محبوب شاگرد ضمیر عالم ساحر ؔ اکبرآبادی ایک تیرہ چودہ سالہ خوش صورت طالب علم کو حلقۂ تلامذہ میں شامل کرنے کی غرض سے ہماری جائے قیام پر تشریف لائے۔ بعد از تسلیمات و آداب نووارد لڑکے نے اپنی غزل استاد کے گوش گزار کی۔ سیماب اؔکبرآبادی نے غزل کی اصلاح کی مگر غزل میں مقطع نہ تھا۔ استفسار پر ساحر ؔنے جواب دیا،’’موصوف ابھی تخلص سے خالی ہیں، آپ تجویز کردیں تو زہے نصیب۔‘‘ استاد نے میری طرف دیکھا تو میں نے عرض کیا،’’ساحر ؔکا دوست ساغرؔ۔‘‘ چناںچہ اسی وقت استاد نے اس تخلص کے ساتھ فی البدیہہ مقطع موزوں کر کے غزل کو مکمل کر دیا:

؎ساغرؔ ہم ان کے سامنے رکھ دیں گے آئینہ

نبٹا کریں گے آپ وہ اپنی نگاہ سے

اور یوں یہ کم سن شاعر صمد علی خان علی گڑھی ادب کی دنیا میں ساغرؔ نظامی کے نام سے مشہور ہوا۔

مجروح ؔسلطان پوری

معروف غزل گو اور ہندوستانی فلم انڈسٹری کے مشہور گیت نگا ر مجروح ؔسلطان پوری مرزا اسلم بیگ کو دیے گئے اپنے سوانحی انٹرویو بعنوان،’’مجروح ؔسلطان پوری: مقام اور حیات‘‘ میں اپنے تخلص کے انتخاب سے متعلق بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں،’’ان کا حقیقی نام اسرار حسن خان تھا۔

۱۹۳۹ میں جب انہوں نے باقاعدہ غزل گوئی کا آغاز کیا تو شروع کی دو تین غزلوں میں اسرارؔ تخلص ہی برتا، لیکن جب تھوڑی شہرت ملی تو محسوس ہوا کہ اسرار ؔبطور تخلص تو نہیں چلے گا، کیوںکہ اس میں انفرادیت اور توجہ حاصل کرنے کا کوئی خاص پہلو نہ تھا۔ اس لیے میرے لیے نئے تخلص کا انتخاب کرنے کو میرے ادب پرور دوستوں کی ایک باقاعدہ کمیٹی تشکیل دی گئی، جس نے اردو کے تمام شعراء کے قلمی ناموں کو کھنگالا، کافی بحث و مباحثے کے بعد سوز ؔشاہ جہاں پوری کی ہدایت پر غالب کے شاگرد میر مہدی مجروحؔ کے نام سے اکتساب کیا گیا اور یوں میں اسرار حسن خان سے مجروح ؔسلطان پوری ہوگیا۔‘‘

مجاؔز لکھنوی

منظر سلیم اپنی کتاب ’’مجازؔ، حیات اور شاعری‘‘ میں لکھتے ہیں،’’مجاز ؔانٹرمیڈیٹ تک آگرہ میں رہے، جہاں وہ فانیؔ بدایونی کے طرزِ کلام سے سے متاثر ہونے کی وجہ سے اپنی ابتدائی شاعری تخلص شہیدؔ استعمال کرتے رہے۔ آگرہ میں ہی انہیں بہترین غزل کہنے پر گولڈ میڈل ملا، ان کا دوسرا تخلص اسیرؔ، تیسرا اسرارؔ ، اور آخری مجازؔ تھا، جس کے بارے میں مجازؔ کہا کرتے تھے،’’لوگ حقیقت پسندی سے دور بھاگتے ہیں اور حقائق کو ناپسند کرتے ہیں۔

اس لیے ان کے لیے مجاز میں زیادہ کشش ہے۔‘‘ مجاز ؔکے تخلص کے ضمن میں ہی ایک لطیفہ ہے کہ مجاز ؔبمبئی میں تھے۔ کسی مارواڑی سیٹھ، جس نے مجازؔ کا بہت نام سن رکھا تھا اور ان سے غائبانہ عقیدت بھی رکھتا تھا۔ مجازؔ سے ملاقات کی۔ بات چیت کے بعد جب مجازؔ جانے لگے تو اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا،’’مجاز ؔصاحب! کیا میں آپ کا تخلص پوچھ سکتا ہوں؟‘‘ پہلے تو مجاز ؔنے اسے بغور دیکھا، پھر گردن جھکا کر چپکے سے بولے،’’اسرار الحق۔۔۔‘‘

احمد فرازؔ

جداگانہ اندازِسخن کے حامل رومانوی شاعر احمد فرازؔ، اپنی سخن وری کے آغاز میں ’’شرؔر برقی‘‘ تخلص رکھتے تھے۔ تخلص شرؔر تھا جب کہ اپنے والد سید محمد برق ؔکی نسبت سے برقی بھی ساتھ لکھتے تھے، مگر زیادہ عرصہ یہ تخلص ان کا ساتھ نہ دے سکا، جس کی وجہ ایک معمولی سا واقعہ بنا۔

تفصیل جس کی کچھ یوں ہے، ایک بار ان کے کسی دوست نے انہیں کہا کہ گذشتہ رات وہ ٹھیک سے سو نہیں پایا کیوںکہ اس کے غسل خانے کا نل کھلا رہ گیا اور ساری رات پانی شرررر۔۔۔شرررر۔۔۔بہتا رہا۔‘‘ سید احمد شاہ کے لیے ’شرر، شرر‘ کا صوتی اثر سوہانِ روح ثابت ہوا اور یوں اگلے ہی روز کوہاٹ کا شرر برقی، احمد فراز ؔبن چکا تھا۔ اس نئے ادبی نام نے ہی انہیں شہرت کی بلندیوں سے ہم کنار کیا اور فراز صاحب کو کہنا پڑا:

؎اور فراز ؔ چاہییں کتنی محبتیں تجھے؟

ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا

آغا شورش ؔکاشمیری

مزاحمتی صحافت کا معتبر حوالہ، منفرد انشاء پرداز، بے باک مقرر اور شاعر آغا شورش ؔکاشمیری کا حقیقی نامؔ ’’عبدالکریم‘‘ تھا۔ سخن وری کے ابتدائی دور میں ایک طویل عرصے تک ان کا تخلص الفتؔ ؔرہا، جب کہ اپنی صحافتی تحریروں کے لیے وہ ’’اسرار بصری‘‘ کا قلمی نام استعمال کرتے تھے۔

ان کے تخلص شورش ؔکے بارے میں ان کی شخصیت اور ادبی خدمات پر تحریر شدہ اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے میں سردار علی لکھتے ہیں،’’ان کی ادبی ہنگامہ خیزیوں، مزاج کی سیماب صفتی اور ان کی افتادطبع کی جولانیوں سے متاثر ہوکر شاعر مزدور احسان دانش ؔنے ان کے لیے شورش کاؔ تخلص تجویز کیا، جسے عبدالکریم الفت ؔنے بسروچشم قبول کیا، اور آغا کا سابقہ ان کے قریبی دوستوں کا رہین منت تھا۔

ان کے تتبع میں ہی ان کے چھوٹے بھائی اقبال نے یورش اؔور ان کے دوست چونی لال نے کاوش ؔکا تخلص اختیار کیا جو کہ اہتماماً دانش ؔ کا ہم قافیہ رکھا گیا۔‘‘ مقبول انور داؤدی نے پہلی مرتبہ روزنامہ سیاست میں انہیں آغا شورش ؔکاشمیری لکھنا شروع کیا جو بعد ازآں اس قدر مقبول ہوا کہ آج تک انہیں اسی نام سے پکارا اور لکھ آجاتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔