پریم ناتھ ؛ ہندی فلم نگری کا پشاوری سپوت

نوید جان  اتوار 18 فروری 2024
فوٹو : فائل

فوٹو : فائل

ہندی فلم نگری کے نامور اداکار پریم ناتھ ملہوترا21 نومبر1926کو خیبر پختون خوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور شہرکے کریم پورہ کی ایک گلی میں پیدا ہوئے۔

ان کے والد رائے بہادر کرتار ناتھ ملہوترا پشاور میں ڈی آئی جی پولیس تعینات تھے۔ پریم ناتھ کی پیدائش کے دن پشاورکے علاقے چوک ناصر خان میں ہولناک آگ لگی تھی جس نے بہت بڑے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا، اس آگ میں سینکڑوں گھر جل کر راکھ ہوگئے۔ اس دور میں پشاورکے گھروں میں لکڑی بہت زیادہ استعمال کی جاتی تھی۔ اتفاق کی بات ہے کہ اسی دن دریائے نربداکی قیامت خیزطغیانی نے بھی بڑے وسیع علاقے میں تباہی مچا دی تھی۔

پریم ناتھ اپنے والدین کی پہلی اولاد تھے، ان کے بعد ان کے چھوٹے بھائی راجندر ناتھ اورنریندر ناتھ دوسرے اورتیسرے نمبر پر تھے۔ پریم ابھی ماں کی گود ہی میں تھے کہ ان کے والد کا تبادلہ جزائرانڈیمان (کالاپانی) ہوگیا، وہاں چار برس کی تعیناتی کے بعد ان کا ہندوستان واپس تبادلہ ہوا۔ پریم نے ابتدائی تعلیم ناگپورکے سینٹ جان سکول سے حاصل کی، بعدازاں مارس کالج لکھنو سے گریجویشن کی ڈگری حاصل  کی۔

اس دوران ان کے والد کا تبادلہ ہوتا رہا جس کی وجہ سے ان کی تعلیم بھی متاثر رہی۔ تاہم اٹھارہ سال کی عمر میں بی اے کی ڈگری حاصل کر لی۔ ان کے والدین کی خواہش تھی کہ وہ آئی سی ایس کریں لہذا انہیں آلہ آباد کے لاء کالج میں داخل کرا دیاگیا لیکن قانون کی تعلیم میں ان کا دل نہ لگا۔ انہیں بچپن سے اداکاری کا شوق تھا، وہ اپنے پھوپھی زاد بھائی پرتھوی راج کے بڑے شیدائی تھے۔

ایک مرتبہ انہوں نے ایک خط میں پرتھوی راج سے اپنے اداکار بننے کی خواہش کا اظہار بھی کیا لیکن پرتھوی راج نے پریم کو تعلیم جاری رکھنے کا مشورہ دیا اورگریجویشن کے بعد فلموں میں قسمت آزمائی کی نصیحت کی تھی۔

دوسری جانب پریم کے والد نے انہیں وکالت کی تعلیم چھوڑنے کی اجازت تو دے دی لیکن وہ فلمی زندگی کے سخت خلاف تھے۔ مجبوراً پریم فوج میں بھرتی ہوگئے اور نو ماہ تک اندورکی فوجی چھائونی میں سخت تربیت حاصل کرتے رہے لیکن جلد ہی وہ گھبراگئے اور وہاں سے بھاگ کربمبئی آگئے۔ اس وقت ان کی جیب میں صرف سو روپے تھے۔

بمبئی میں پریم نے پرتھوی راج کے گھر میں رہائش اختیار کرلی۔ یہ نومبر 1944 کا زمانہ تھا، پریم نے پرتھوی تھیٹر کے ڈراموں میں حصہ لینا شروع کردیا۔ 1945 کا پورا سال تھیٹرکی نذر ہوگیا جہاں پر ان کی دوستی اپنے ہم عمر راج کپور سے ہوئی جو ان کے ساتھ ڈراموں میں حصہ لیتے تھے، ان دونوں نے پرتھوی تھیٹر کے کئی ڈراموں شکنتلا، پتن، آہوتی اوردیوار وغیرہ میں اکھٹے کام کیا، اس تھیٹر میںپریم کی تنخواہ 750 روپے ماہوار تھی، انہی دنوں راج کپورکی ملاقات پریم کی بہن کرشنا سے ہوئی اور وہ پہلی نظر ہی میں کرشنا کی محبت میں گرفتار ہوئے بعدازاں ان کی کرشنا سے شادی ہوگئی۔

بیس برس کی عمر میں پریم کو بمبئی کے ایک فلمی ادارے عالم آرٹ پروڈکشنزکی ایک فلم ’’دولت کے لیے‘‘ میں اداکاری کا چانس ملا، اس فلم کے ہدایت کار اے رشید اور موسیقار اے کے پریم تھے۔ اداکاروں میں ممتاز، پریم ناتھ، دلاور، فیروزہ، عالم، شیخ، مقبول اورسیانی نمایاں تھے۔ یہ فلم اگست 1947کو بمبئی میں ریلیز ہوئی، اس فلم کی نمائش کے موقع پر بمبئی میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے تھے جس سے بہت جانی و مالی نقصان ہوا۔

1948 میں پریم کو اپنے بہنوئی راج کپور نے اپنی پہلی فلم ’’آگ‘‘ میں ایک مصورکاکردار دیا، اس فلم کے ہدایت کار راج کپور اور موسیقاررام گنگولی تھے۔ اداکاروں میں نرگس، راج کپور، کامنی کوشل، پریم ناتھ، نگار سلطانہ اورششی راج نمایاں تھے۔ یہ فلم اپنی دلکش موسیقی کے باوجود کوئی خاص کامیابی حاصل نہ کرسکی۔

پریم کی بطور ہیرو پہلی فلم اے بی سی پروڈکشنزکی فلم ’’اجیت‘‘ تھی جس میں اس کی ہیروئن مونیکاڈیسائی تھی۔ اس فلم کے ہدایت کار ایم بھوتانی اورموسیقار گوبندرام تھے۔ فلم ’’بادل‘‘ کے دوران پریم ناتھ، مدھوبالا جن کی اس وقت عمر محض سترہ برس تھی، پر فریفتہ ہوگئے اورانہوںنے مدھو بالاسے اظہار محبت بھی کیا، لیکن اس وقت مدھوبالا کے دل ودماغ پر دلیپ کمار چھائے ہوئے تھے۔ ایک وقت میں پریم ناتھ آشا پاریکھ کے زلفوں کے بھی اسیرہوگئے تھے لیکن 1953میں پریم کی زندگی میں اداکارہ بینا رائے نے قدم رکھا۔ ان کی پہلی ملاقات ورما فلمزکی فلم’’عورت‘‘ کے سیٹ پر ہوئی، پہلی ملاقات ہی میں پریم دل ہار بیٹھا۔ عورت کی فلم بندی کے ساتھ ساتھ ان کی محبت بھی پروان چڑھتی رہی، یہاں تک کہ فلم کی تکمیل کے بعد دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔

فلم عورت کے ہدایت کار بی ورما اور  موسیقار شنکر جے کشن تھے، بعدا زاں پریم نے بینا رائے کے ساتھ پی این فلمز کی فلم ’’شگوفہ‘‘ نوکلاکیتن کی فلم’’ ہمارا وطن‘‘ اور این سی فلمزکی فلم ’’چنگیز خان‘‘ وغیرہ میں بطور ہیروکام کیا۔ 1954میں پریم نے اپنا فلم ساز ادارہ پی این فلمز قائم کیا اور ایک فلم ’’پرزنر آف گولکنڈہ ‘‘ بنائی۔ اس فلم کے فلم ساز ہدایت کار اورہیرووہ خود تھے، موسیقی جگن ناتھ نے ترتیب دی، اداکاروں میں بینا رائے، پریم ناتھ، سو بھناسا مرتھ، ہیرالال، آغا اورککو نمایاں تھے۔

پریم کی شہرت اورناموری کاآغاز راج کپورکی شہرہ آفاق فلم’’برسات‘‘ سے ہوا جس میں انہوں نے نرگس اور راج کپورکے ساتھ بطورسیکنڈ ہیروکام کیا۔ فلم میں اس کی ہیروئن ایک نئی اداکارہ ’’نمی‘‘ تھی جو نامورگلوکارہ وحیدن بائی کی بیٹی اور اداکارہ جیوتی کی بھانجی تھی۔ اس فلم کے ہدایت کار راج کپور اورموسیقار شنکر جے کشن تھے۔

یہ ان موسیقاروں کی بھی پہلی فلم تھی، فلم 1949میں ریلیز ہوئی اور باکس آفس پر سپرہٹ ثابت ہوئی۔ اسی سال پریم کے والد پولیس ڈیپارٹمنٹ سے ریٹائرہوگئے۔ اپنے والد کی ریٹائرمنٹ کے بعد پریم نے جبلپور میں ایمپائر تھیٹر خرید لیا اوراپنے والد سے درخواست کی کہ وہ اس سینماکے دیکھ بھال کی ذمہ داری قبول کرلیں۔

1951میں پریم نے کیشپ پروڈکشنزکی فلم ’’آرام‘‘ میں مدھوبالا اوردیوآنند کے ساتھ ’’عاشق نامراد‘‘ فیمس پکچرزکی فلم ’’دوستارے‘‘ میں ثریا اوردیوآنند کے ساتھ ایک منچلے محبوب اور ڈاکومینٹری آف انڈیا کی ایک فلم ’’ہندوستان ہمارا‘‘ میں ایک دیش بندھو کاکردار ادا کیا لیکن ان کو اصل شہرت 1952 میں ریلیز ہونے والی محبوب پروڈکشنزکی رنگین فلم ’’آن‘‘ سے ملی جس میں انہوں نے ایک گھمنڈی شہزادے کاکردار اداکرکے فلم ناقدین کو چونکا دیا۔ اس فلم کے ہدایت کار محبوب خان اورموسیقار نوشاد تھے۔ مرکزی کردار دلیپ کمار، نادرہ اور نمی نے اداکئے، یہ فلم پریم کے فلمی کیرئیرکا سنگ میل ثابت ہوئی، اس فلم میں ان کا یہ ڈائیلاگ عوام میں بے حد مقبول ہوا تھا: ’’جب چیونٹی کی موت آتی ہے تو اس کے پرنکل آتے ہیں‘‘

’آن‘ کی بے مثال کامیابی کے بعد پریم نے متعدد فلموں بادل، گھر جوائی اور ساقی میں مدھو بالا، ’بزدل‘ ،’مہمان‘ اور ’درد دل‘ میں نمی ، ’نوجوان‘ میں نلنی جیونت ، ’شوخیاں‘ میں ثریا، ’انجان‘ میں وجینتی مالا، ’پربت‘ میں نوتن، ’آب حیات‘ میں ششی کلا، ’سگائی‘ میں ریحانہ، ’جاگیر‘ میں میناکماری، ’فورٹی ڈیز‘، ’ڈاکٹر شیطان‘ ، ’چوبیس گھنٹے‘ اور ’گیمبلر‘ میں شکیلہ، ’سن آف سند باد‘ میں نشی، ’بس کنڈیکٹر‘، ’سارا جہاں ہمارا‘، ’میرابھائی میرادشمن‘ اور ’اپنا گھر‘ میں شیاما، ’قاتل‘ میں چترا اور ’پٹھان‘ میں ممتاز کے ساتھ مرکزی کردار ادا کئے۔ یہ پریم کا پہلا فلمی دور تھا، انہوں نے اپنے دورکی تمام خوبصورت اور ناموراداکاروں کے ساتھ بطور ہیرو کام کیا۔

بطور فلمساز پریم ناتھ نے ایک تاریخی فلم ’’واجد علی شاہ‘‘ پر کام شروع کیا تھا اس فلم کے موسیقار ہردے ناتھ تھے، لتاجی نے ان سے اتنا تعاون کیا کہ فلم کے تین گانے صرف ایک روپیہ معاوضہ لے کرریکارڈ کرائے۔ فلم کو ضرورت سے زیادہ انقلابی قرار دے کر سنسربورڈ نے اتنی زیادہ ترامیم کیں کہ فلم کا حلیہ بگڑ گیا، بڑی مشکلوں سے فلم ریلیز ہوئی اور پہلے ہفتے میں ہی بری طرح ناکام ہوگئی۔ اس فلم کی ناکامی سے پریم کا دل ٹوٹ گیا، انہوں نے خود ساختہ جلاوطنی اختیارکرلی اوردنیا کے مختلف ملکوں میں گھوم پھرکر اپنا غم غلط کیا۔

وطن واپسی پر پریم نے اپنی فلمی زندگی کے دوسرے دورکاآغاز کیا ، انہوں نے ایک فلم ’’بمبئی فلیٹ 417‘‘ شروع کی جو ڈبوں ہی میں بند ہوکر رہ گئی، مجبوراً انہیں پانچ پنجابی اورایک تامل فلم میں کام کرنا پڑا۔ اس دوران پریم نے بطور فلم ساز وہدایت کار ایک فلم ’’سمندر‘‘ بنائی ، موسیقار مدن موہن تھے ، اداکاروں میں بینارائے، پریم ناتھ، نشی اورراجندرناتھ نمایاں تھے۔

پریم نے اس فلم میں سمندری ڈاکو کاکردار ادا کیا۔ فلم کی فلم بندی کے لیے تمام فن کاروں کو بیس روز تک کھلے سمندر میں رہنا پڑا ، سمندر کا یہ علاقہ شارک مچھلیوں کا مسکن تھا، تمام خطرات کے باوجود پریم نے سمندر میں چھلانگ لگا کر سین فلم بند کرایا، ایک مرتبہ ان کی کشتی کی ایک بڑے جہاز سے ٹکر بھی ہوئی مگر قسمت نے یاوری کی اور وہ محفوظ رہے۔ یہ فلم 1957میں ریلیز ہوئی مگر کوئی خاص کامیابی حاصل نہ کرسکی۔

1982 میں پریم کو دل کا دورہ  پڑا جس کے بعد انہوں نے شراب، سگریٹ اورگوشت وغیرہ سب کچھ چھوڑدیا۔ پریم نے اپنے پندرہ سالہ خود ساختہ جلاوطنی  کے دور میں ہمالیہ کے وسیع برفانی علاقے چھان مارے۔ انہوں نے سادھوئوں اور رشیوں سے ملاقاتوں کی خاطر انتہائی دشوار گزار راستوں کو خچر پر بیٹھ کر عبور کیا۔

کوہ کیلاش پر ایک ڈاکومینٹری فلم بھی بنائی، انہوں نے 450 میل کا طویل سفر چھ ہمراہیوں کے ساتھ تبت اوراس کے آس پاس علاقوں کا کیا۔ 1957 میں جب چین نے ہندوستان پر حملہ کیا تو پریم کو چینی جاسوس قرار دے کر قید کر لیا گیا، چین کے وزیر اعظم چو این لائی نے صرف ایک سال قبل ہندوستان کا دورہ کیا تھا، وہ پریم کو پہنچانتے تھے، ان کی سفارش پر پریم کو قید سے رہائی ملی۔

پریم نے ایک برس تک عملی سیاست میں بھی حصہ لیا، وہ سوتنترا پارٹی کے رکن رہے مگر بعد ازاں انہوں نے سیاست کو خیر باد کہہ دیا۔ پریم نے مجموعی طورپر 130 فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ پریم نے ہندی اورانگریزی میں دو کتابیں بھی تصنیف کیں، ان کتابوں کے موضوعات میں قدرت، محبت، جنگ، سیاست اور فلسفہ شامل تھے۔ ان کے دوشعری مجموعے ’’محبت کے آنسو‘‘ اور’’دل کے آنسو‘‘ شائع ہوئے، یہ نظمیں انہوں نے سری لنکا میں قیام کے دوران کہی تھیں۔ پریم کو اداکاری کے ساتھ ساتھ موسیقی سے بھی جنون کی حد تک لگائو تھا، موسیقار رنگین ناتھ ان کے استاد تھے۔

ان سے پریم نے کئی راگ سیکھے تھے۔ جس کے بعد پریم ناتھ نے کئی فلموں میں گلو کاری کے جو ہربھی دکھائے۔ پندرہ برس تک فلموں سے کنارہ کشی کے بعد پریم کے تیسرے دور کا آغاز 1970 میں گولڈی فلمز کی فلم’’جونی میرا نام‘‘ سے شروع ہوا تھا ، اس فلم کے ہدایت کار وجے آنند اورموسیقار کلیان جی آنند تھے۔ اس فلم کامعاوضہ انہیں پینتیس ہزار روپے ملا۔ پریم نے جن فلموں میں کریکٹر رول کئے، ان  میں شہید بھگت سنگھ، سکندر اعظم، امرپالی، پیار محبت، تیسری منزل، بہاروں کے سپنے ، مہوا، دو بچے دس ہاتھ، گورا اورکالا، راجہ جانی، رانی میرا نام، اور شورشامل ہیں۔

1967میں پریم نے ایک امریکی ٹی وی سیریز ’’مایا‘‘ میں کام کیا، 1969میں پریم نے ایک امریکی فلم’’کیز‘‘میں فٹ بال کے کھلاڑی کاکردار اداکیا۔ 1971میں پریم نے ایک انگریزی فلم ’’کاماسترا ‘‘میں فریال کے ساتھ کام کیا، 1985میں پریم کی آخری فلم ’’ہم دونوں‘‘ ریلیزہوئی جس کے بعد وہ فلموں سے ریٹائر ہوگئے۔

بینارائے سے پریم کے دو بیٹے کرشن ناتھ اورکیلاش ناتھ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ ان کا ارادہ اپنے باپ کی طرح اداکاربننے کا تھا لیکن پریم کے مشورے سے انہوں نے فلم سازی کو منتخب کیا، بعدازاں وہ ٹی وی سے وابستہ رہے۔ پریم کرشن نے ٹی وی سیریل ’’کتھا ساگر‘‘ اورمونٹی نے ’’دھمال‘‘ جیسے سپرہٹ ٹی وی پروگرام پیش کئے۔ پریم ناتھ کے چھوٹے بھائی راجندر ناتھ اورنریندر ناتھ انڈین فلموں کے نامورکامیڈین تھے ۔ معروف انڈین ولن پریم چوپڑا پریم کے بہنوئی ہیں، پریم چوپڑانے پریم ناتھ کی ایک بہن اوما چوپڑاسے شادی کی تھی۔

1993 میں بننے والی لارنس ڈی سوزا کی فلم ’’دل تیرا عاشق‘‘  اور1997میں بننے والی راکیش ناتھ کی فلم’’محبت‘‘ کو پریم ناتھ کی یادوں سے معنون کیاگیا تھا۔ پریم ناتھ کاانتقال  3 نومبر 1992کودل کادورہ پڑنے سے ہوا، اس وقت ان کی عمر 66 برس تھی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔