شلجم اعظم کی ولادت

سعد اللہ جان برق  بدھ 21 فروری 2024
barq@email.com

[email protected]

مملکت ناپرسان عالی شان سے ایک بہت بڑی بریکنگ نیوز بڑے زور وشور کے ساتھ آئی ہے کہ وہاں کل بہت بڑے جشن کی تیاریاں بڑے وسیع پیمانے پر ہورہی ہیں کیونکہ ناپرسان کے بڑے بڑے ماہرین نے بڑی محنت اور پسینہ بہا کر ایک بہت بڑا شلجم اگایا ہے جو ایک بہت بڑا کارنامہ ہے کیونکہ اب دنیا میں اب تک جتنے بھی بڑے بڑے شلجم بڑے بڑے ممالک نے اگائے ہیں یہ ناپرسانی شلجم ان سارے بڑے بڑے شلجموں سے بڑا ہے۔

اس کا وزن پورے دس کلو گرام ہے جب کہ اس سے پہلے جو سب سے بڑا شلغم مملکت ’’ناگمان‘‘ نے اگایا تھا، اس کا وزن صرف 999 اعشاریہ999گرام تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس پر نوکروڑ ، نو لاکھ، نو ہزار، نو سو، نناوے روپے خرچہ آیا اور صرف(999) ماہرین نے صرف 9سال میں یہ کارنامہ اگایا ہے جن میں 99ماہرین مختلف ممالک میں تحقیق کے لے بھیجے گئے اور 99 ممالک کے سرکاری دورے کیے ہیں۔

99 افراد کے وفود لے کر۔حکومت ناپرسان نے اعلان کیا ہے کہ اس سہ روزہ جشن میں 999 افراد کو سونے کے تمغے دیے جائیں گے اور تین روز تک ہر محکمہ کم ازکم نو کانفرنسیں منعقد کرے گا اور شرکاء کے کھانے پینے کا انتظام پنج ستارہ ہوٹلوں میں کرے گا، جشن پر نو ارب نوکروڑ ،نولاکھ، نو ہزار، نو سو نناوے روپے خرچہ آئے گا۔جو کالانعاموں سے وصول کیا جائے۔  مخصوص فنڈ کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

جس کا نام ہے صدرمملکت کا شلجم فنڈ رکھا گیا ہے۔اس جشن کے موقع پر 99 ممالک سے 999 ثقافتی طائفے مدعو کیے گئے ہیں جو جگہ جگہ ناچ گانے کا مظاہرہ کریں گے اور ان میں صدرمملکت کے خصوصی شلجم فنڈ کے لیے فنڈریزنگ بھی کی جائے گی۔اس تاریخی اور عظیم الشان شلجم کو عام نمائش کے لیے ناپرسان کی راجدھانی انعام آباد اکرام آباد میں ایک خصوصی عمارت میں رکھا گیا ہے، اس عمارت کا نام بھی شلجم محل رکھا گیا ہے اور اس روڈ کو شاہراہ شلجم سے موسوم کیا گیا۔اس عظیم شلجم کی زیارت کرنے والوں سے 999روپے بطور داخلہ ٹیکس وصول کیے جائیں گے۔باخبر ذرایع سے معلوم ہوا ہے کہ اس شلجم کا ایک سونے کا ماڈل تیار کرنے کے لیے بھی کسی غیر ملکی فرم کوٹھیکہ دیا گیا ہے۔

اس سونے کے شلجم کے ساتھ ایک اور شلجم چاندنی کا بھی رکھا جائے گا اور دونوں کو ایک ترازو کے الگ الگ پلڑوں میں رکھا جائے گا۔اور ان پر ان کا وزن بھی لکھا جائے گا۔چاندنی کے شلجم پر نو ہزار، نو سو نناوے اعشاریہ نناوے گرام جب کہ ناپرسانی سونے کے شلجم پر دس کلو گرام کا ٹیگ لگایا جائے گا۔جشن شلجم کے اعلان پر ملک بھر میں ہر طرف کے بورڈز، بل بورڈز ، پوسٹرز اور بینرز کی بہار آگئی ہے۔

شلجم کی تصویر والی ٹوپیاں اور بیج بھی ہر دکان میں دستیاب ہیں، یہ مطالبہ بھی کیا جارہا ہے کہ شلجم کو قومی سبزی قرار دیا جائے لیکن اس مطالبے کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ مملکت ایک الٹ پلٹ ملک ہے ، یہاں کسی چیز کو قومی قرار دینے کے بعد مکمل طور پر ترک کردیا جاتا ہے مثلاً قومی کھیل ہاکی ہے اور ناپرسان والے کرکٹ پر جان دیتے ہیں، قومی پھول یاسمین ہے لیکن پرستار گوبھی کے ہیں، قومی رنگ سبز ہے لیکن پسند سرخ رنگ کو کرتے ہیں اور اس کے لیے ہمیشہ ایک دوسرے کا خون بہاتے ہیں۔اور اگر شلجم کو قومی سبزی قرار دیا گیا۔تو ’’مولی‘‘ کے پجاری ہوجائیں گے۔یا آلو پر ٹوٹ پڑیں گے۔

اس تاریخی شلجم کی پیدائش پر خورسند ہوکر ناپرسان کے صدر محترم نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ شلجم پر مزید ریسرچ جاری رکھی جائے بلکہ آلو، پیاز ،ٹماٹر، لہسن اور مولی گاجر پر بھی ماہرین بٹھادیے جائیں اور سرکاری افسروں کو بیرون ملک ریسرچ کے لیے بھجوایا جائے جو دفاتر میں ایک ایک ’’مرلہ میز‘‘ کے پیچھے بیٹھ کر ’’کام نہ کرنے‘‘ کے قومی کام کو فروغ دے رہے ہیں اور ان کی جگہ نئے ملازمین رکھے جائیں۔تاکہ ’’کام نہ کرنے‘‘ کا قومی کام بھی جاری رہے۔

دریں اثنا ایک زرعی سائنسدان نے جو جنگلات پر پی ایچ ڈی کرچکے ہیں ایک کتاب فوری طور پر لانچ کی ہے، شلجم کے’’420 طبی فوائد‘‘۔اس کتاب کو فسٹ پرائز دیا گیا ہے اور مصنف کو ملک کا سب سے بڑا سول ایوارڈ تفویض کیا گیا۔

اس سے پہلے حکیم طوطیانوش عرف شلجم شناس نے بھی ایک کتاب لکھی تھی لیکن اس میں شلجم کے صرف چارسو انیس فوائد گنوائے گئے تھے اور اس چارسو بیس کتب میں ایک فائدے کا اضافہ کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ اگر شلجم کا پانی کسی اندھے کی آنکھوں میں ٹپکایا جائے تو وہ دن کے ساتھ رات کو بھی سب کچھ صاف صاف دیکھنے لگے گا اور اس کے خواب بھی بلیک اینڈ وائٹ کے بجائے ٹیکنیکلر ہوجائیں گے۔دریں اثنا نہایت’’ثقہ‘‘ ذرایع سے معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے اس بے مثال شلجم کی ولادت پر آئی ایم ایف سے استدعا کی ہے کہ اب تو ہم ترقی پزیر سے ترقی نصیب ہوگئے ہیں۔

اس لیے قرضے کی اگلی قسط عطا فرمائی جائے لیکن اس درخواست کو لے کر جب چار وزیروں کی سربراہی میں دو جہازوں پر مشتمل وفد آئی ایم ایف سے درخواست گار ہوا تو پانچ دن کے مزاکرات کے بعد آئی ایم ایف نے کہا کہ پہلے جاکر اپنے ملک میں شلجم کھانے والوں پر ٹیکس لگاؤ ،اس کے بعد ہم ’’منجور نا منجور‘‘ کا جواب دیں گے۔

ادھر حزب اختلاف کے لیڈر’’چوں چاں‘‘ نے بیان دیا ہے کہ اس قیمتی شلجم کو ملک کے اندر رکھنے کے بجائے آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھا جائے تو قسط بھی آسانی سے مل جائے گی اور شلجم بھی محفوظ ہاتھوں میں پہنچ جائے۔ناپرسان میں کچھ پتہ نہیں کہ کب کوئی سربراہ اس پر ہاتھ صاف کردے۔آئی ایم ایف والے ویسے بھی گاجر مولی شلجم کے رشتہ دار ہوتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔