مالی سال 23-24؛ بجٹ خسارے کے تخمینے میں 14 فیصد اضافہ

شہباز رانا  بدھ 21 فروری 2024
بیرونی قرضوں کے حصول کا تخمینہ 17.7 ارب ڈالر سے کم کرکے 11.4 ارب ڈالر کردیا گیا (فوٹو: فائل )

بیرونی قرضوں کے حصول کا تخمینہ 17.7 ارب ڈالر سے کم کرکے 11.4 ارب ڈالر کردیا گیا (فوٹو: فائل )

اسلام آباد: نگران وفاقی حکومت نے بجٹ خسارے کا تخمینہ 14 فیصد بڑھا دیا ہے۔

وزارت خزانہ کے جاری کردہ سالانہ قرض پروگرام کے تحت نگران وفاقی حکومت نے بجٹ خسارے کا تخمینہ 14 فیصد اضافے کیساتھ 7.5 ہزار ارب روپے سے بڑھا کر 8.54 ہزار ارب روپے کردیا ہے، جو کہ ملکی معیشت کا 8 فیصد ہے، اس طرح قومی اسمبلی سے منظورہ شدہ بجٹ خسارے کے تخمینے میں 1.03ہزار ارب روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے، تاہم بیرونی قرضوں کے حصول کے تخمینے میں 6 ارب ڈالر کی کمی کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں بجٹ خسارہ 2407 ارب روپے سے تجاوز

رپورٹ کے مطابق پاکستان کو 25.5 ہزار ارب روپے کے قرض درکار ہیں، یہ جی ڈی پی کا24 فیصد بنتے ہیں، جبکہ سسٹین ایبل فنانسنگ کیلیے یہ شرح جی ڈی پی کے 15 فیصد سے زائد نہیں ہونی چاہیے، دوسری طرف حکومت نے بیرونی قرضوں کے حصول کا تخمینہ 17.7 ارب ڈالر سے کم کرکے 11.4 ارب ڈالر کردیا ہے، اس طرح بیرونی قرضوں کے تخمینے میں 6.3 ارب روپے کی کمی کی گئی ہے، جبکہ گھریلوں قرضوں پر انحصار بڑھا ہے، اور یہ31 ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 34.2 ہزار ارب روپے ہوگئے ہیں۔

وزارت خزانہ نے 1.5 ارب ڈالر کے یورو بانڈ جاری کرنے کا منصوبہ بھی ترک کردیا ہے، جبکہ غیر ملکی تجارتی قرضوں کے حصول کے تخمینے کو بھی 4.5 ارب ڈالر سے کم کرکے 2.5 ارب ڈالر کر دیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔