پاکستان میں مادری زبانوں کی بدحالی (پہلا حصہ)

جمیل مرغز  جمعرات 22 فروری 2024
jamilmarghuz1@gmail.com

[email protected]

21فروری کوہر سال دنیا بھر میں مادری زبانوں کا دن منایا جاتا ہے‘ ملک میں کبھی اردو اور بنگالی کی جنگ اور اب اردو اور انگریزی کا تنازعہ ‘درمیان میں ’’ زمین کے حقیقی فرزندوں‘‘ (Sons of the soil) کی قومی اور مادری زبانیں کہیں کونے میں پڑی توجہ کی منتظر ہیں‘حالانکہ پاکستان میں بسنے والی قومیتوں کا لباس‘رسم و رواج ‘ثقافت و تہذیب‘موسیقی اور زبانیں بہت خوبصورت ہیں‘بدقسمتی سے پاکستان کے حکمران طبقے اس سر زمین پر موجود حقیقتوں کو تسلیم کرنے سے ابھی تک انکاری ہیں‘ شاید پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں یہ عجوبے موجود ہیں کہ ’’فارسی پاکستان میں کسی کی قومیت کی مادری یا قومی زبان نہیں لیکن پاکستان کا قومی ترانہ فارسی میں ہے۔

عربی کسی پاکستانی قومیت کی زبان نہیں ہے لیکن اسے طلبہ کو پڑھانے کی وکالت ہوتی ہے ، پاکستان میں اردو شاید دو تین فیصد آبادی کی مادری زبان ہوگی لیکن اس کو قومی زبان کا درجہ دے دیا گیا ہے‘ انگریزی بھی کسی کی زبان نہیں لیکن اس کو سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے ‘شیروانی پاکستان میں بسنے والے کسی قومیت و ثقافتی اکائی کا لباس نہیں ہے لیکن اس کو پاکستان کے قومی لباس کا درجہ دیا گیا ہے بلکہ قائد اعظم کی تصویر کو بھی زبردستی شیروانی پہنائی جا چکی ہے حالانکہ انھوں نے زندگی میں شاید بوجہ دو چار بار شیروانی پہنی ہوگی‘ پاکستان کے کسی علاقائی ثقافت میں پینٹ کوٹ موجود نہیں ہے لیکن پاکستان میں یہ سرکاری لباس ہے۔

ہمارے بیوروکریٹس،سیاسی رہنما اور ٹاپ بزنس مین لاکھوں روپے مالیت کے کوٹ پتلون گرمی میں بھی پہن کر فخر محسوس کرتے ہیں‘یہ احساس کمتری کی انتہا ہے‘ حالانکہ وزیر اعظم اور دیگر رہنماء شلوار قمیص میں بہت خوبصورت اور بارعب لگتے ہیں‘ شلوار قمیص اور واسکٹ ہمارا قومی لباس ہونا چاہیے ۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں رہنے والی قومیتوں کا لباس ‘ثقافتیں‘رسم و رواج‘موسیقی اور زبانیں بہت خوبصورت ہیں لیکن اس ثقافتی رنگا رنگی کو ہمیشہ نظریہ پاکستان، حب الوطنی کے خلاف سمجھا گیا۔ پاکستان کی قوم پرست سیاسی قیادت اور دانشوراردو کو پاکستان میں رابطے کی زبان سمجھتے ہیں۔

ستم ظریفی یہ کہ مذہبی پارٹیاں اردو کے بجائے عربی کو پاکستان کی قومی زبان قرار دینے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آج تک اس کے بنیادی مسائل کو بھی حل نہیں کیا جا سکا‘آئین اور نظام حکومت کی بات اگر نہ بھی کریں تو یہ سوال تو لازمی کرنا ہوگا کہ پاکستان کی ریاست کی ساخت کیا ہے؟کیا یہ یک قومی ریاست ہے یا کثیر القومی ریاست؟ شکر ہے کہ یہ حقیقت اب تقریباً سب باشعور لوگ تسلیم کرنے لگے ہیں کہ پاکستان ایک کثیر القومی ر یاست ہے ‘جماعت اسلامی بھی اب قومیتوں کے حقوق کی بات کرتی ہے۔

1948میں اردو زبان کو پاکستان کی قومی زبان اردو قرار دی گئی لیکن ‘ مشرقی پاکستان یعنی مشرقی بنگال میں احتجاجی تحریک شروع ہوئی ‘بنگالیوں کا موقف تھا کہ پاکستان کی 55فی صد آبادی کی زبان بنگالی ہے ‘اصولاً تو ملک کی سب سے بڑی زبان کو قومی زبان کا درجہ ملنا چاہیے ‘اگر پاکستان کے حکمران اس پر تیار نہ ہوں تو کم از کم مشرقی پاکستان کی قومی زبان بنگالی ‘اسی طرح پنچابی‘ سندھی‘ پشتو اور بلوچی قومی زبانیں قرا ر دی جائیں‘ چونکہ یہ قومیتیں ایک دوسرے کی زبان نہیں سمجھتیں اور آپس میں رابطہ مشکل ہوتا ہے اس لیے اردو کو رابطے کی زبان کا درجہ دیا جائے ‘ بین الاقوامی رابطے کی زبان انگریزی ہی ٹھیک ہے۔

اس تحریک نے شدت پکڑی اور 21 فروری 1952کو بنگالی زبان کی تحریک کے حق میں ڈھاکا میں طلبائ‘ مزدوروں‘ دانشوروں اور عوام کا بہت بڑا جلوس نکلا ‘اس جلوس پر بغیر کسی اشتعال کے سیکیورٹی فورسز نے گولیاں برسائیں اور تقریباً ایک درجن طلباء اور نوجوان شہید اورسیکڑوں لوگ زخمی ہوئے ‘اس تحریک کی یادمیں ہر سال 21فروری کو تقریبات منائی جاتی ہیںاور اس طرح یہ دن بنگالی قوم پرستی کا مظہر بن گیا۔

اس تحریک کے بطن سے بنگالی قومی تحریک ابھری جس نے بنگلہ دیش کو جنم دیا‘ اس دن کی اہمیت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1999میں اقوام متحدہ نے اس دن کو مادری زبانوں کا دن قرار دیا‘ یہ دن ہر سال مادری زبانوں کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے‘ بنگالی زبان کی تحریک نے یہ ثابت کیا کہ پاکستان کے حکمران طبقے ابتداء ہی سے عوامی مطالبات کو ٹھکرا کر اپنی مضبوط مرکز کی پالیسی کو چھوٹی قومیتوں پر نافذ کرنے کی حکمت عملی پرعمل پیرا ہیں ۔ (جاری ہے)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔