نظام حکومت کا مستقبل

سلمان عابد  جمعـء 23 فروری 2024
salmanabidpk@gmail.com

[email protected]

وفاق اور صوبوں میں حکومت سازی کا عمل کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے۔ حکومت سازی کے اس کھیل میں اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن نے اپنے اپنے سیاسی تحفظات کا اظہار بھی کھل کر کیا ، نواز شریف ذاتی طور پر مرکز میں حکومت بنانے کے حق میں نہیں تھے ۔

وہ اپنی توجہ کا مرکز پنجاب میں کارکردگی کو بنانا چاہتے تھے ، بلاول بھٹو بھی مسلم لیگ ن کے ساتھ مل کر وفاق میں حکومت بنانے کے حق میں نہیں تھے ۔لیکن حالات کے تقاضوں سے انحراف کرنا ان بڑی جماعتوں کے لیے ممکن نہ تھا ۔ البتہ حکومت سازی کے کھیل میں آصف زرداری نے اپنے کارڈ اچھے کھیلے اور آئینی عہدے حاصل کرنے میں کامیاب رہے ۔

اقتدار کے کھیل کا مفاہمتی فارمولہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن میں طے ہوا ہے، اس میں مجموعی طور پر پیپلز پارٹی نے زیادہ حصہ کمایا ہے ۔یہ بات پہلے سے ہی کہہ دی گئی تھی کہ اگلی حکومت پی ڈی ایم جیسے اتحاد کی ہوگی اور اس کی سربراہی نواز شریف کے بجائے شہباز شریف کے پاس ہی ہوگی ۔اگرچہ پنجاب میں مریم نواز کو وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بٹھایا جارہا ہے مگر شہباز شریف ہی مسلم لیگ ن کے محاذ پر فیصلہ کن کردار ادا کریںگے ۔

اب سوال یہ ہے کہ اقتدار کے اس کھیل کے ایک اہم کھلاڑی مولانا فضل الرحمن بھی ہیں ۔ وہ کافی نالاں بھی ہیں اور لہجے میں کچھ سختی بھی غالب ہے ۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا مولانا کو اتحادی حکومت میں ایڈجسٹ کیا جائے گا یا وہ ایوان سے باہر کی سیاست میں اس حکومتی نظام کو چیلنج کریں گے ۔

ایسا نہیں کہ مولانا اس اقتدار کے بٹوارے میں حصہ دار بننے کے لیے تیار نہیں، ان کے سامنے ایک طرف بلوچستان میں بننے والی حکومت ہے تو دوسری طرف وہ بلوچستان کے مینڈیٹ کو بنیاد بنا کر خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں گورنر شپ چاہتے ہیں ،جب کہ ایم کیو ایم سندھ میں گورنر شپ چاہتی ہے ۔

اس لیے اگر شہباز شریف نے اپنی حکومت چلانی ہے تو انھیں پیپلزپارٹی ، جے یو آئی ، ایم کیو ایم سمیت سب کو ساتھ لے کر چلنا پڑے گا ۔کیونکہ اتحادی جماعتیں زیادہ سے زیادہ عہدے ہیں اور ذمے داری کا بوجھ مسلم لیگ ن پر ڈالنا چاہتی ہیں ۔ یہ ہی وہ بنیادی نقطہ ہے جہاں آگے چل کر حکومتی اتحادی جماعتوں کے درمیان اقتدار کی تقسیم سمیت دیگر معاملات میں رسہ کشی دیکھنے کو ملے گی۔

مرکز میں مخلوط حکومت کئی طرح کے مسائل کو پیدا کرے گی۔ پنجاب کے مقابلے میں مرکزی حکومت کی سیاسی و معاشی سمیت انتظامی یا داخلی وخارجی پیچیدگیوں میں شہباز شریف آسانی سے حکومت نہیں کرسکیں گے۔

ایک طرف ان کے سامنے داخلی حکومتی مسائل ہوں گے تو دوسری طرف ان کو پی ٹی آئی سمیت دیگر علاقائی سطح پر موجود جماعتوں کی مضبوط حزب اختلاف کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ یہ سامنا شہباز حکومت کو ایوان کے اندر بھی کرنا ہوگا اور ایوان سے باہر ہونے والے سیاسی جنگ کی صورت میں بھی ہوگا ۔ کیونکہ جس طرح سے انتخابی نتائج کو متنازعہ بنانے کی مہم چل رہی ہے اس کے نتیجے میں سیاست استحکام سے زیادہ ٹکراؤ یا سیاسی تقسیم زیادہ بڑھے گی۔

عمران خان اور پی ٹی آئی خاموشی سے نہیں بیٹھیں گے ۔ پی ٹی آئی کو نظرانداز کرکے اس حکومتی سیاسی نظام کو آگے بڑھانا ممکن نہیں اور نہ ہی پی ٹی آئی بطور حزب اختلاف اس حکومت کو آرام سے حکومت کرنے دے گی ۔

اس کا مطلب واضح ہے کہ آنے والے حالات میں بھی ہم’’ سیاسی دنگل‘‘ دیکھتے رہیں گے ، جس بھی انداز میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی اتحادی حکومت میں باہمی تضادات اور ٹکراؤ نمایاں ہوگا تو اسی بنیاد پر حزب اختلاف کی سیاست کو نئی طاقت بھی ملے گی اور وہ حکومت کو دفاعی پوزیشن پر لاکر کھڑا کردے گی۔

مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی سابقہ 16ماہ کی حکومت بڑے سیاسی بوجھ کے طور پر سامنے آئی تھی اور اس کا ایک بڑا عوامی ردعمل انتخابی نتائج میں خاص طور پر مسلم لیگ ن کو اٹھانا پڑا ہے ۔ اسی طرح اگر مخلوط وفاقی حکومت پہلے چھ ماہ میں کچھ بڑے اقدامات نہ اٹھاسکی اور ملکی سیاسی و معاشی حالات میں بہتری کا کوئی امکان پیدا نہ کرسکی تو یہ خود ایک نئے سیاسی و معاشی بحران کو جنم دینے کا سبب بنے گا ۔

شہباز شریف حکومت سے لوگوں کو بہت زیادہ توقعات معاشی میدان میں ہیں ۔ لوگ بجلی ، گیس ، پٹرول اور ڈیزل سمیت روزمرہ کی اشیا یا ادویات کی قیمتوں میں کمی چاہتے ہیں ۔کیونکہ اس وقت سب سے بڑا بوجھ عوامی سطح پر بڑھتی ہوئی مہنگائی ،بلوں کی مدد میں ناانصافی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کی کمی ، عدم تحفظ اور معاشی استحصال ہے۔

اس لیے شہباز شریف حکومت کو یہ بات اچھی طرح سمجھنی چاہیے کہ لوگوں کو خوشنما نعرے ، بڑے بڑے میگا منصوبے اور سیاسی جگالی نہیں بلکہ عملی طور پر ان کو معاشی محاذ پر ایک بڑا عوامی ریلیف درکار ہے ۔ کیونکہ آمدنی اور اخراجات میں بڑھتا ہوا عدم توازن ہی معاشی ناانصافی اور معاشی استحصال کو جنم دینے کا سبب بن رہا ہے ۔اس وقت جو ملک میں معاشی محاذ پر بڑا بحران یا غیر معمولی حالات ہیں اس کا علاج یقینی طور پر معاشی سطح پر سخت گیر پالیسیوں کی بنیاد سے جڑا ہوا ہے ۔

ہمیں واقعی سیاسی ہو یا معاشی میدان غیر معمولی اصلاحات اور فوری عملدرآمد کا نظام درکار ہے۔ یہ سب کچھ کسی بھی طور پر سمجھوتوں اور کمزور حکومتی نظام کی گاڑی کی صورت میں ممکن نہیں۔ اس ملک کی طاقت ور اشرافیہ اور حکمران یا ریاستی طبقات کا یہ روایتی حکومتی یا ریاستی نظام کچھ بھی تبدیل نہیں کرسکے گا اور پہلے سے موجود مشکلات میں اور زیادہ مسائل کو پیدا کرے گا۔

بدقسمتی یہ ہے کہ ایک طرف موجودہ داخلی سیاسی ، معاشی اور سیکیورٹی کے حالات کی بنیاد پر ایک بڑی مفاہمت کی سیاست پر زور دیتے ہیں اور کوئی نئے سیاسی وجمہوری یا معاشی میثاق کی بات پر دلیل دیتے ہیں۔لیکن اس وقت جو ملک میں سیاسی تقسیم ہے اس کی جڑیں محض اقتدار یا حکمرانی کے کھیل تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کی بڑی جھلکیاں اس کمزور ریاستی نظام سے جڑی نظر آتی ہیں۔ لیکن ہم ابھی سیاسی تقسیم کے اس کھیل میں اور زیادہ شدت کے ساتھ اپنی و پسند و ناپسند کی بنیاد پر رنگ بھر رہے ہیں ۔

یہ جو ہمیں اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف غصہ کو نکالنے کا جنون ہے، اس کا نتیجہ مفاہمت نہیں بلکہ لڑائی ہے ۔ اول، تو ہمیں مفاہمت کی سیاست کے معنی سمجھنے ہوںگے اور مفاہمت کو خاندانی سیاسی بٹواروں کی جنگ سے باہر نکالنے کی ضرورت ہے ۔

جب بھی مصنوعی انداز سے سیاسی مسائل کا حل غیر سیاسی انداز سے نکالا جائے گا وہ مسائل کو حل نہیں بلکہ اور زیادہ بگاڑ کو پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔ دوئم، ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ روایتی حکمرانی کے کھیل کی کہانی کافی حد تک کمزور ہوگئی ہے اور اس کہانی کی بنیاد پر چلنے والا کوئی بھی مصنوعی سیاسی نظام کسی بھی صورت میں نہ تو اپنی ساکھ قائم کرسکے گا اور نہ ہی عوامی مفادات کو تحفظ دے سکے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔