تشدد

شکیل فاروقی  جمعـء 23 فروری 2024
S_afarooqi@yahoo.com

[email protected]

جنسی تشدد سے مراد وہ تشدد ہے جو کسی بھی مخصوص جنس کی بنا پرکیا جاتا ہے۔ اِس میں تذکیر و تانیث کی کوئی تفریق نہیں ہے۔

تشدد کا نشانہ بننے والا کوئی بھی فرد مرد، عورت یا مخنث ہوسکتا ہے۔ تشدد ایک منفی طرزِ عمل ہے جو انسانی معاشرے کو غیر انسانی معاشرے سے جدا کرتا ہے۔

ہر چند کہ انسان ترقی کی منزلوں پر منزلیں طے کر رہا ہے لیکن اِس کے باوجود تشدد ہے کہ کم ہونے کے بجائے اُس میں اضافہ پر اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے جو تہذیب و تمدن کی سراسر نفی ہے۔

تشدد کسی ایک ملک یا قوم تک محدود نہیں ہے بلکہ اِس کا وجود ہر معاشرہ میں پایا جاتا ہے۔ تشدد میں بوڑھے، نوجوان اور بچے کی کوئی تمیز نہیں ہوتی اور اِس کی وجہ بھی ضروری نہیں ہے۔ تشدد زبانی، جسمانی بھی ہوسکتا ہے حتیٰ کہ معذور شخص بھی اِس کا ہدف بن سکتا ہے۔

ضروری نہیں کہ یہ کسی ردعمل کے طور پرکیا جائے۔ تشدد کرنے والے شخص پر ایک جنون سا طاری ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے ہوش وحواس کھو بیٹھتا ہے۔ بس یوں کہہ سکتے ہیں کہ اِس کی بنیاد نفسیاتی ہوتی ہے۔

تشدد کے نتائج مختلف صورتوں میں مختلف ہوسکتے ہیں، مثلاً اِس کی وجہ سے کوئی انسان اپنے کسی عضو یا اعضاء سے محروم ہوسکتا ہے اور کوئی عورت زچگی کی حالت میں اِس کا نشانہ بن سکتی ہے۔ وطنِ عزیز میں تشدد کا شکار ہونے والوں میں بچے اور خواتین بالخصوص لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے۔

دفاتر، فیکٹریوں سمیت اِس کا ارتکاب کسی بھی جگہ پر ہوسکتا ہے اور اِس کے مرتکب افراد میں اَن پڑھ اور تعلیم یافتہ اشخاص میں کوئی بھی شامل ہوسکتا ہے۔ اِس میں کسی عمر، قبیلہ، فرقہ، برادری یا عقیدہ، مذہب کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

غیر اخلاقی اور ظالمانہ رسومات بھی اِس کا بہت بڑا سبب ہے۔ کاروکاری کی رسم اِس کی ایک انتہائی بدنما مثال ہے۔ جبری شادیاں اور انتقاماً کی جانے والی کارروائیاں بھی اِس قسم کی رسومات میں شامل ہیں۔ شاید آپ کو یہ سن کر حیرت ہو کہ آج بھی ایسا معاشرہ موجود ہے جہاں خواتین کی ختنہ کا چلن جاری ہے۔

یہ بات بھی کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے کہ کم عمری کی شادیاں آج کے دور میں بھی کی جا رہی ہیں جس سے معاشرتی پستی کا باآسانی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اِس سے انکار ممکن نہیں ہے کہ جنسی تشدد کے انسداد کے لیے وقتاً فوقتاً قوانین بنائے جا رہے ہیں اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری دونوں سطحوں پر مسلسل اقدامات اُٹھائے جا رہے ہیں۔

یہ بات غور طلب ہے کہ زنا بِالجبر اور بدکاری کی وارداتوں کی خبریں کبھی اخبارات میں اِکّا دُکّا نظر آیا کرتی تھیں لیکن اب تو شاید ہی کوئی دن ایسا جاتا ہو جب اِس قسم کی خبریں نظر نہ آتی ہوں۔

قوانین اپنی جگہ پر ضرور موجود ہیں لیکن اُن کا نفاذ روز بروز کمزور پڑتا جارہا ہے اور صورتحال دن بہ دن بگڑتی جارہی ہے۔ تشدد کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ کوئی گلی کوچا، محلہ، بازار یا علاقہ چوری، ڈکیتی، قتل و غارت گری سے محفوظ نہیں ہیں۔ راہ چلتے لوگوں پر حملہ کر کے اُن کو زدوکوب کیا جا رہا ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بس نظر آرہے ہیں۔

لوٹ مار کے واقعات کھلے عام ہو رہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ جرائم پیشہ لوگ مادر پِدر آزاد ہیں۔ظلم و تشدد کا بازار گرم ہے اور مجرم کھلے بندوں دندناتے پھر رہے ہیں۔ جہاں تک جنسی جرائم کا تعلق ہے تو اُس کے کئی اسباب ہیں جس میں سوشل میڈیا سرِ فہرست ہے۔ گستاخی معاف اِس میں سوشل میڈیا بالخصوص فیس بُک کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ ایسی فلمیں اور مواد بے لگام ہیں جو دعوتِ گناہ دینے کی سب سے بڑی تربیت گاہ ہے۔

اِس قسم کے مواد کی کھلے عام تشہیر کے انتہائی خوفناک اور بھیانک معاشرتی مسائل سامنے آرہے ہیں جن کی وجہ سے ہماری نوجوان نسل تیزی کے ساتھ بگاڑکی جانب جارہی ہے اور ناکام شادیوں کی تعداد میں ہو شربا اضافہ انتہائی تشویشناک حدود کو چھو رہا ہے۔ اِس کا بہت بڑا سبب مغرب زدگی ہے جس میں عریانی سرِفہرست ہے۔

بچوں کی کم عمری میں شادی کے واقعات ملک کے چاروں صوبوں میں عام ہیں لیکن صوبہ سندھ کو اِس بات کا کریڈٹ دینا پڑے گا کہ اِس میں اِن واقعات کے انسداد کے معاملے میں بہت زیادہ قانون سازی کی گئی ہے۔تشدد کا ذکر چھڑا ہے تو سیاستدانوں سے معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ بات نکلی ہے تو بہت دور تلک جائے گی۔ اپنے حریفوں کو زیر کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کی رَوِش عام ہوچکی ہے جس کی وضاحت کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ بس کم کہے کو زیادہ سمجھا جائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔