پنجاب اسمبلی میں ن لیگ کی ڈبل سنچری مکمل، مریم نواز کی وزیر اعلیٰ بننے کی راہ ہموار

ندیم چوہدری  جمعرات 22 فروری 2024
فوٹو فائل

فوٹو فائل

 لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کو پنجاب اسمبلی میں 200 سے زائد اراکین کی حمایت مل گئی اور امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ مریم نواز کثرت رائے سے وزیراعلیٰ بن جائیں گی۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے خواتین و اقلیتی مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کے بعد مسلم لیگ ن کے کل اراکین کی تعداد 201 ہو گئی جبکہ  اتحادی جماعتوں کے اراکین کو ملا کر ایوان میں مجموعی اکثریت 230 تک پہنچ گئی ہے۔

8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن نے 137 نشستیں حاصل کیں جبکہ اب تک 23 آزاد اراکین نے مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کیا جس کے بعد ایوان میں مسلم لیگ ن کے اراکین کی تعداد 160 تک پہنچ گئی۔

اس حواب سے جمعرات کو الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب اسمبلی میں خواتین اور اقلیتی مخصوص نشستوں پر کامیاب امیدواروں کے ناموں کی فہرست جاری کردی۔ جس کے مطابق مجموعی طور پر 42 خواتین کے نام شامل ہیں جن میں سے 36 خواتین کا تعلق پاکستان مسلم لیگ ن سے ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی تین، پاکستان مسلم لیگ کی دو اور استحکام پاکستان پارٹی کی ایک خاتون بھی مخصوص نشستوں پر رکن پنجاب اسمبلی بننے میں کامیاب ہوئی ہیں۔

مزید پڑھیں: سندھ اور پنجاب میں سیاسی جماعتوں کو مخصوص نشستیں مختص، نوٹی فکیشن جاری

 

الیکشن کمیشن نے اقلیتی اراکین کی مخصوص نشستوں پر 5 کامیاب لیگی امیدواروں کے ناموں کا بھی اعلان کیا جس کے بعد پنجاب اسمبلی میں لیگی اراکین کی تعداد 201 ہو گئی ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان پیپلزپارٹی کے 13، پاکستان مسلم لیگ ق کے اور استحکام پاکستان پارٹی کے 6 اراکین کی حمایت بھی مسلم لیگ ن کو حاصل ہے جس کے بعد پنجاب اسمبلی میں حکومتی اتحاد کی اکثریت 230 تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ شہباز شریف، حمزہ شہباز، علیم خان سمیت کچھ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی دونوں کی نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں جبکہ بھکر سے عامر عنایت دو صوبائی نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں۔

جمعہ کو پنجاب اسمبلی کے پہلے اجلاس سے پہلے ان اراکین کی جانب سے پنجاب اسمبلی کی ایک نشست سے دستبردار ہونے کا امکان ہے جس کے بعد ان کی خالی کردہ نشستوں پر ضمنی انتخابات ہوں گے۔

آزاد حیثیت میں منتخب ہو کر مسلم لیگ ن میں اب تک شامل ہونے کا اعلان کرنے والوں میں  پی پی 48 پسرور سے خرم ورک، پی پی 49 پسرور سے رانا فیاض،  پی پی 90 بھکرسے احمد نواز نوانی، پی پی 92 اور 93 بھکر سے عامر عنایت شاہانی، پی پی 94 چنیوٹ سے  تیمور لالی، پی پی 96 چنیوٹ سے سید ذوالفقار علی شاہ،  پی پی 97 چنیوٹ سے ثاقب چدھڑ،  پی پی 128 جھنگ سے کرنل (ر) غضنفر قریشی، پی پی 132 ننکانہ سے سلطان باجوہ،  پی پی 180 قصور سے احسن رضا خان، پی پی 195 پاکپتن سے عمران اکرم ، پی پی 205 خانیوال سے  اکبر حیات ہراج، پی پی 212 خانیوال سے  اصغر حیات ہراج شامل ہیں۔

اسکے علاوہ پی پی 225 لودھراں سے شازیہ ترین، پی پی 240 بہاولنگر سے محمد سہیل، پی پی 242 بہاولنگر سے کاشف نوید پنسوتہ، پی پی 249 احمد پور شرقیہ سے محمد گزین عباسی، پی پی 272 مظفر گڑھ سے  رانا عبدالمنان ساجد، پی پی 283 لیہ سے علی اصغر گورمانی، پی پی 288 ڈی جی خان سے حنیف پتافی، پی پی 289 ڈی جی خان۔ سے محمود قادر خان لغاری اور پی پی 297 راجن پور سے  خضر حسین مزاری شامل ہیں۔

پنجاب اسمبلی میں اسپیکر اور ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کا انتخاب خفیہ رائے شماری سے ہونا ہے جبکہ وزیراعلی کا انتخاب اوپن ووٹنگ سے ہو گا۔ لیگی ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کی نامزد وزیراعلی پنجاب مریم نواز کا سوا دو سو سے زائد ووٹ لے کر قائد ایوان منتخب ہونے کا امکان ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔