ملک میں رواں ہفتے 23اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا

ارشاد انصاری  جمعـء 23 فروری 2024
فوٹو: فائل

فوٹو: فائل

 اسلام آباد: ملک میں فروری کے تین ہفتے مہنگائی کی شرح میں مسلسل کمی کے رجحان کے بعد حالیہ ہفتے پھر مہنگائی کی شرح میں معمولی اضافہ ہوا، مہنگائی کی شرح میں 0.04 فیصد کا معمولی اضافہ دیکھنے مں آیا۔

سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 30.68 فیصد کی سطع پر آگئی ہے تاہم ملک میں مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر 22ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517روپے ماہانہ آمدن رکھنے والا طبقہ متاثر ہوا۔ اس طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح 35.39 فی صد رہی۔

وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ایک ہفتے کے دوران 23 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ 8 اشیاء کی قیمتوں میں کمی ہوئی اور 20 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مستحکم رہی ہیں۔

اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ایک ہفتے کے دوران ٹماٹر، چینی، دالیں اور پیٹرولیم مصنوعات سمیت کئی اشیاء مہنگی ہوئیں جن میں ٹماٹر کی قیمتوں میں 22.71فیصد، ڈیزل کی قیمتوں میں3.02فیصد، پیٹرول کی قیمتوں میں ایک فیصد، چکن کی قیمتوں میں 1.22 فیصد، چینی اور دال مونگ کی قیمتوں میں 0.54فیصد، بیف کی قیمتوں میں 0.74 فیصد، مٹن کی قیمتوں میں 0.86 فیصد اور دہی کی قیمتوں میں 0.71 فیصد جبکہ آگ جلانے والی لکڑی کی قیمتوں میں 0.20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

انڈے کی قیمتوں میں 11.19 فیصد، آلو قیمتوں میں 0.23فیصد، پیاز کی قیمتوں میں 14.42 فیصد، ککنگ آئل کی قیمتوں میں 0.75 فیصد، آٹے کی قیمتوں میں 0.36 فیصد، ایل پی جی کی قیمت میں 1.82 فیصد، ویجیٹیبل گھی کی قیمتوں میں 0.11 فیصد اور سرسوں کے تیل کی قیمتوں میں 0.33 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں 25.33فیصد، 17 ہزار 733روپے سے 22 ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں 29.15فیصد، 22 ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں 35.39فیصد رہی۔

اسکے علاوہ، 29 ہزار 518روپے سے 44ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح 32.72 فیصد رہی جبکہ 44 ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح 28.228 فیصد رہی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔