چاول کی قیمت کم ہو سکتی ہے

محمد ابراہیم خلیل  ہفتہ 24 فروری 2024

گاہک دکاندار سے الجھ رہا تھا کہ چند دن قبل چاول 160 روپے فی کلو دے رہے تھے، دکاندار نے گاہک کی تسلی کرنا چاہی اور اسے بتایا کہ’’ نیا مال آیا ہے، نئے چاول آئے ہیں، پرانے چاول اب ختم ہوگئے ہیں۔‘‘ دکاندار کے اس جملے نے میرے ذہن پر دستک دی تو یاد آیا کہ چاول تو پرانے اچھے ہوتے ہیں۔

گاہک کی سمجھ میں دکاندارکی نئی چاول کی بات سمجھ نہیں آرہی تھی کیونکہ چاول کی فصل کو مارکیٹ میں آئے ہوئے کئی ماہ ہوگئے۔ گاہک نے پھر پوچھا کہ ’’ یہ روز، روز چاول کی قیمت کیوں بڑھ رہی ہے؟ ‘‘ دکاندار نے زچ ہوکرکہا کہ ’’ جب چاول بڑی مقدار میں برآمد کر دیا جائے گا تو مہنگے ہوں گے۔‘‘ یہ جواب سن کرگاہک لاجواب ہوگیا۔

ادھر میں چاول کی پیداوار میں الجھا ہوا تھا کہ ملک کے کئی اضلاع باسمتی و دیگر اقسام کے چاول کی پیداوار میں مشہور بھی ہیں اور پاکستانی چاول دنیا بھر میں مشہور بھی ہے۔

سوچ رہا تھا کہ پاکستان میں چاول کی بڑی مقدار پیدا ہوتی ہے پھر چاول مہنگے کیوں ہو رہے ہیں؟ دکاندار سے برآمد کی بات سنتے ہی میرا ماتھا ٹھنکا۔ روشنی کی کرن نظر آئی، چاول کیسے سستے ہوں گے اس کی گتھی بھی سلجھنے کی امید پیدا ہوئی۔

آئیے! اس کے لیے برآمدی اعداد وشمار کا سہارا لیتے ہیں۔ چند روز قبل پی بی ایس کی ٹریڈ رپورٹ کے مطابق جولائی 2023 تا جنوری 2024 تک 29لاکھ چوبیس ہزار میٹرک ٹن چاول برآمد کر دیا گیا جس سے ملک کو ایک ارب 65 کروڑ86 لاکھ 14ہزار ڈالرز کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ یہ تو بہت خوش آیند بات نظر آ رہی تھی، ملک کو چاول کی مد میں سالانہ دو ارب ڈالر سے زائد کا زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ یہاں7ماہ میں ہی باسمتی سے اتنا زیادہ زرمبادلہ حاصل ہو گیا۔

پاکستان بڑی مقدار میں باسمتی چاول برآمد کرتا ہے اور باسمتی کے علاوہ چاول کی دیگر اقسام جوکہ سستی فروخت کر دی جاتی ہے اس کی دنیا میں بڑی مانگ ہے۔ خاص طور پر افریقی ممالک پاکستان سے سستے داموں خریدتے ہیں جسے پی بی ایس علاوہ باسمتی چاول میں شامل کر کے اسے ظاہر کرتی ہے۔

پاکستان کے ساتھ بھارت بھی چاول کا بہت بڑا ایکسپورٹر ہے، لیکن اس نے چاول کی برآمد پر جزوی پابندی لگا دی تاکہ ملک میں چاول کی قلت پیدا نہ ہو۔ چاول کی قیمت میں اضافہ نہ ہو اور چاول کا اسٹاک وافر مقدار میں جب ہوگا تو قیمت میں اضافے کو روکا جا سکے گا۔ اب جولائی 22 تا جنوری 23 چاول کی برآمدات کے اعداد و شمار سامنے آتے ہی معاملہ حل ہو جاتا ہے۔

وہ اس طرح سے کہ اس مدت کے دوران پاکستان کے علاوہ باسمتی دیگر اقسام کے چاول صرف 16 لاکھ 61 ہزار 523 میٹرک ٹن برآمد کی تھی جس سے 74 کروڑ64 لاکھ 34 ہزار ڈالر کی آمدن ہوئی۔ اب بات واضح ہوگئی۔

دکاندار صحیح کہہ رہا تھا کہ جب چاول کی بڑی مقدار برآمد کر دی جائے گی تو قیمت تو بڑھے گی۔ جمع تفریق کرنے کے بعد مسئلہ حل ہوتا نظر آرہا تھا۔ یعنی رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں گزشتہ مالی سال کے پہلے 7 ماہ کے مقابلے میں 12 لاکھ 63 ہزار میٹرک ٹن زائد چاول برآمد کر دیے گئے تھے۔ اب جو نظر ڈالی مالیت پر تو 91کروڑ21 لاکھ 80 ہزار ڈالر کی زائد آمدن ہوئی۔

اب ذہن کبھی اس بات پر کہ ملکی ضروریات ملک میں قیمت کم رکھنے کی خاطر اگر تھوڑی برآمد کم کرلی جائے اور ملکی صورت حال کو مدنظر رکھ لیا جائے تو شاید چاول کے وافر اسٹاک ہونے کی بدولت مافیاز اور دیگر عوامل مل کر قیمت بڑھانے سے دور رہ سکتے ہیں۔

میں یہ سوچ رہا تھا کہ اگر ہم صرف ایک چوتھائی دیگر اقسام کے چاول جوکہ سستے برآمد کیے جاتے ہیں یعنی 3 لاکھ 16 ہزار میٹرک ٹن کم برآمد کر لیتے تو زائد آمدن یعنی 91 کروڑ22 لاکھ کا ایک چوتھائی 22 کروڑ80 لاکھ ڈالر کے زرمبادلہ سے محروم رہتے ہیں۔

بین الاقوامی معاشیات و تجارت کے ماہرین تو یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ جب زائد فصل ہو یا پیداوار ہو تو اسے برآمد کرکے زرمبادلہ کمایا جاتا ہے۔ اب ہم نے زرمبادلہ بھی زیادہ سے زیادہ کمانا ہے کیونکہ ملک کو ایک ایک ڈالر کی سخت ضرورت ہے یہاں پر میں باسمتی چاول کی برآمد پر کوئی بات نہیں کر رہا۔ البتہ 3لاکھ میٹرک ٹن و دیگر اقسام کی سستی ترین چاول کی برآمد کم کرنے سے 22 کروڑ ڈالر آمدن کی کمی کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اصل سوال یہ ہے۔ لیکن یہ مدت تو گزر چکی، اب پچھلے اعداد و شمار کو مد نظر رکھ کر ہی آیندہ کچھ احتیاط کرسکتے ہیں اور ایسا ضروری بھی ہے کیونکہ غریب آدمی چند ماہ قبل جو چاول 120روپے کلو خرید رہا تھا اب 180 روپے سے 200روپے تک جا پہنچا ہے۔ اگلی فصل آنے تک اگر چاول کی ملک میں کھپت اس کی رسد مارکیٹ میں وافر مقدار کو یقینی بنانے کے لیے اب دو سے تین لاکھ میٹرک ٹن چاول کم برآمد کرتے ہیں تو چاول کی قیمت میں کچھ کمی ہو جائے گی جس سے ہر غریب کا بھلا ہو جائے گا اور مہنگائی میں کمی ہوگی ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔