چینی پاورکمپنیوں کے واجبات 493 ارب روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے

شہباز رانا  ہفتہ 24 فروری 2024
چینی حکومت ادائیگیوں کیلیے سفارتی ذرائع سے دباؤ ڈال رہی، مزید قرضے بھی مشروط کردیے۔ فوٹو: سی پیک

چینی حکومت ادائیگیوں کیلیے سفارتی ذرائع سے دباؤ ڈال رہی، مزید قرضے بھی مشروط کردیے۔ فوٹو: سی پیک

اسلام آباد: سی پیک کے تحت قائم کیے گئے چینی پاور پراجیکٹس کا گردشی قرضہ 493 ارب روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جب کہ ان قرضوں میں تین چوتھائی اضافہ گزشتہ سات ماہ کے دوران ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا کہ جنوری کے اختتام تک چینی پاور جنریشن اور ٹرانسمیشن پراجیکٹس کے قرضے 493 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ گزشتہ سال جون میں یہ قرضے 214 ارب روپے کی سطح پر تھے، اس طرح گزشتہ سات ماہ کے دوران ان قرضوں میں 77 فیصد اضافہ ہوا ہے، چینی حکومت ان ادائیگیوں کیلیے بار بار سفارتی ذرائع سے دباؤ ڈال رہی ہے اور یہ معاملہ پاک چین معاشی تعلقات پر منفی اثرات ڈالنے کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ چین نے 600 ملین ڈالر کا تجارتی قرض چینی پاور پلانٹس کے واجبات کی ادائیگیوں سے مشروط کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاور سیکٹر کا 1.27 ٹریلین قرض ادائیگی، آئی ایم ایف سے منظوری کی ہدایت

یاد رہے کہ پاکستانی حکام نے معاہدہ کیا تھا کہ پاکستان ایک ریوالونگ فنڈ قائم کرے گا اور اس میں پاور کمپنیوں کی جمع کرائی گئی انوائسز کے 21 فیصد رقم جمع رکھے گا، لیکن حکام ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں اورجس سے گردشی قرضوں میں خوفناک اضافہ ہوا ہے، جبکہ پاکستان نے فنڈ قائم کرنے کے بجائے اسٹیٹ بینک میں 48 ارب روپے سالانہ کا پاکستان انرجی روالونگ اکاؤنٹ کھولا ہے، جس سے ماہانہ 4 ارب روپے نکلوائے جاسکتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے صرف 4 ارب روپے کی ادائیگی کی اجازت دی ہے، جو کہ مسئلے کو حل کرنے میں حکومت کی غیر سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق 493 ارب روپے میں سے پاکستان کو امپورٹڈ کوئلے سے چلنے والے ساہیوال پاور پلانٹ کو 97 ارب روپے، حب پاور پراجیکٹ کو 82 ارب، پورٹ قاسم پاور پلانٹ کو 80 ارب اور تھرکول پراجیکٹ کو 79 ارب روپے ادا کرنے ہیں، چینی حکومت ان ادائیگیوں کیلیے بار بار سفارتی ذرائع سے دباؤ ڈال رہی ہے، اور یہ معاملہ پاک چین معاشی تعلقات پر منفی اثرات ڈالنے کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔