سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے مثبت اشارے

ایڈیٹوریل  اتوار 25 فروری 2024
تحفظات جیسے بھی ہوں، انھیں دور کرنے کے لیے ریاست نے کئی ادارے تشکیل دیے ہیں (فوٹو : فائل)

تحفظات جیسے بھی ہوں، انھیں دور کرنے کے لیے ریاست نے کئی ادارے تشکیل دیے ہیں (فوٹو : فائل)

ایم کیو ایم، مسلم لیگ ق، استحکام پاکستان پارٹی اوربلوچستان عوامی پارٹی کے قائدین نے اپنے اپنے وفود کے ساتھ گزشتہ روز میاں شہبازشریف سے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں۔ مسلم لیگ ن کے وفد نے بھی ان سے ملاقات کی ہے۔

میاں شہباز شریف کواتحادی جماعتوں نے وزارت عظمیٰ کے لیے اپنا امیدوار نامزد کر رکھا ہے۔میڈیا کی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ان ملاقاتوں میں پاکستان کو معاشی خطرات سے بچانے کے لیے مل کرچلنے پراتفاق کیا گیا۔

ایم کیوایم کے وفد میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری، مصطفی کمال اور ڈاکٹر فاروق ستارشامل تھے۔ اس ملاقات میں ملکی صورتحال اور سیاسی تعاون کے حوالے سے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جو خاصی مثبت رہی ہے۔

میاں شہبازشریف نے ایم کیوایم کے تعمیری اور مثبت جذبے کو سراہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے مینڈیٹ کا احترام کرنا ہی ووٹ کو عزت دینا ہے، ہم سب جماعتوں کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں، سب کی ذمے داری ہے کہ مل کر ملک کو معاشی خطرات سے بچائیں۔

نامزد وزیراعظم نے تحریک عدم اعتماد اور پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے میں ایم کیو ایم کے کردار کو سراہا۔ فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عوام کی خدمت کے لیے ہم سب متحد ہوکر آگے بڑھیں گے۔

ایم کیو ایم وفد کا کہنا تھا کہ شہبازشریف 16 ماہ کے دوران تمام اتحادیوں کو بڑی خوش اسلوبی سے ساتھ لے کر چلے ،امید ہے کہ آپ کی قیادت میں پاکستان اور عوام کو مسائل سے نجات ملے گی۔

مسلم لیگ (ق) نومنتخب رکن اسمبلی چوہدری سالک حسین اور استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبد العلیم خان نے بھی الگ الگ ملاقات کی اور ملکی صورتحال و سیاسی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔ قائدین نے پاکستان کے مفادات کے تحفظ کے لیے سیاسی مفادات سے بالا تر ہوکر تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔

بلوچستان عوامی پارٹی کے وفد نے ڈاکٹر خالد حسین مگسی کی قیادت میں شہبازشریف سے ملاقات کی اور حکومت سازی کے لیے مسلم لیگ (ن) کی غیر مشروط حمایت کردی۔ قائد ین نے اتفاق کیا کہ ملک کو درپیش معاشی خطرات سے نمٹنے کے لیے سیاسی استحکام ضروری ہے، اس کے لیے اتحاد اور سیاسی تعاون کو فروغ دیاجائے گا۔

اپنے ایک بیان میں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک کسی صورت انتشار کا متحمل نہیں ہوسکتا، پاکستان کے لیے سب کو مل بیٹھنا ہوگا۔ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ افہام و تفہیم اور باہمی اتحاد سے ہی کیا جا سکتا ہے، پاکستان ہم سب کا ہے اور ہم سب نے ملکر اسے سنوارنا ہے۔ ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرنا میری اولین ترجیح ہے۔ یوں دیکھا جائے تو یہ ملاقاتیں قومی اسمبلی کے اجلاس کے تناظر میں تھیں اور وزیراعظم کے انتخاب کے لیے حکمت عملی پر بھی یقیناً غور کیا گیا ہوگا۔

گزشتہ روز ہی مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے اپنی پارٹی کے نومنتخب ارکان صوبائی اسمبلی کے اعزاز میں اپنی رہائش گاہ چوہدری ظہور الہی رو ڈ لاہور میں پرتکلف ظہرانہ دیا۔ اس موقع پر انھوں نے نومنتخب ارکان اسمبلی کو حلف لینے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آپ سب مل کر صوبے، ملک اور جماعت کی مضبوطی کے لیے کام کریں گے۔ ملک کو اس وقت اتحاد کی ضرورت ہے، معاشی صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے ہماری جماعت حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔

ادھر وفاقی کابینہ کی توانائی کمیٹی نے گزشتہ روز پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے پہلے مرحلے میں 80کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھانے کی منظوری دے دی ہے، پائپ لائن بچھانے سے پاکستان 18ارب ڈالر جرمانے کی ادائیگی سے بچ جائے گا۔

وزارت توانائی کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق توانائی کمیٹی نے ستمبر 2023میں وزیر اعظم کی تشکیل کردہ آئی پی پروجیکٹ کے لیے وزارتی نگرانی کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دی ہے۔تمام متعلقہ ڈویژنز نے عوام کو گیس فراہمی کے لیے اس منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے مثبت منظوری دی ہے۔ایران، فرنچ قانون کے تحت 18 ارب ڈالر جرمانے کا نوٹس واپس لے گا۔

وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ ایرانی سرحد سے گوادر تک پائپ لائن بچھانے کا فیصلہ پاکستان کی بہترین مفاد میں ہے،ایران سے ملنے والی سستی گیس سے صنعتوں کو خطیر فائدہ ہوگا،پاکستان امریکا سے آئی پی منصوبے پر پابندیوں سے استثنیٰ بھی مانگے گا۔

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ گو پاکستان کی گیس ضروریات کے لیے ضروری ہے تاہم اس کی تکمیل کی راہ میں کئی مشکلات درپیش ہیں، ان مشکلات کو حل کرنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ اگر پاکستان یہ منصوبہ مکمل نہیں کرپاتاتو کئی قانونی مشکلات ہوگی، بہرحال نئی منتخب کو یہ مسلہ بھی بڑے تدبر سے حل کرنا ہوگا۔

ادھرایک خبر کے مطابق سی پیک کے تحت قائم کیے گئے چینی پاور پروجیکٹس کا گردشی قرضہ 493 ارب روپے ہو گیا، ان قرضوں میں تین چوتھائی اضافہ گزشتہ سات ماہ کے دوران ریکارڈ کیا گیا ہے جب کہ گزشتہ سال جون میں یہ قرضے 214 ارب روپے کی سطح پر تھے، اس طرح گزشتہ سات ماہ کے دوران ان قرضوں میں 77 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق 493 ارب روپے میں سے پاکستان کو امپورٹڈ کوئلے سے چلنے والے ساہیوال پاور پلانٹ کو 97 ارب روپے، حب پاور پروجیکٹ کو 82 ارب، پورٹ قاسم پاور پلانٹ کو 80 ارب اور تھرکول پروجیکٹ کو 79 ارب روپے ادا کرنے ہیں۔

ایک اچھی پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے معاملات درست سمت میں جا رہے ہیں، جو خوش آیند بات ہے۔ نگران حکومت کے اقدامات پر آئی ایم ایف کے اعتماد، میکرو اکنامک استحکام کے لیے نئی حکومت کے ساتھ کام کرنے پر آمادگی اور پاکستان کی 6ارب ڈالر کے نئے قرض پروگرام کے حوالے سے مثبت اشاروں جیسے عوامل کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو بھی تیزی کا تسلسل برقرار رہا۔کرنسی اور صرافہ بازار میں بھی استحکام رہا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ انتخابات کے بعد کی صورتحال کو کاروباری طبقہ مثبت انداز میں دیکھ رہا ہے۔

ایک اچھی خبر یہ ہے کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے آیندہ تین سال میں پچاس کروڑ ڈالر کے اسمارٹ فون برآمد کرنے کا ہدف مقرر کردیا، ادھر رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ میں موبائل فونز کی درآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 138فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

حکام وزارت آئی ٹی کے مطابق وزارت نے موبائل فون مینو فیکچررزکو تحقیق اورترقی کے لیے3 فیصد الاؤنس دینے کی منظوری دی جسے 8 فیصد تک بڑھایا جائے گا۔ پاکستان سیلولرفون کی7 ویں بڑی مارکیٹ اور تقریباً 19کروڑ افراد موبائل فون کے مالک ہیں، 2023 میں مقامی طور پر 2 کروڑ 13لاکھ موبائل فون تیار جب کہ 15کروڑ ڈالر مالیت کے ڈھائی لاکھ فون برآمد کیے۔

ادھر ادارہ شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں موبائل فونز کی درآمدات پر 988 ملین ڈالر خرچ ہوئے، جوکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں موبائل فونز کی درآمدات پر خرچ415 ملین ڈالر کے مقابلہ میں 138 فیصد زائد ہے۔

ملک میں آئین اور قانون کے مطابق جمہوری عمل تکمیل کے مراحل طے کر رہا ہے۔ چند دنوں میں نومنتخب وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنا کام شروع کر دیں گی۔ اب تک ملک کا جو منظرنامہ تشکیل پا رہا ہے، وہ حوصلہ افزاء ہے۔ آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے بھی مثبت اشارے سامنے آئے ہیں۔ یوں نئی منتخب وفاقی حکومت کے لیے کام کرنے کے لیے حالات سازگار نظر آتے ہیں۔ ملک کے داخلی حالات بھی بہتر ہیں۔

پی ٹی آئی، جماعت اسلامی، جے یو آئی اور جی ڈی اے انتخابی نتائج پر تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں، عوام مظاہرے بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں لیکن یہ سب کچھ آئین اور قانون کے دائرے میں ہو رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی سنی اتحاد کونسل کے پلیٹ فارم سے جمہوری عمل کا حصہ بن چکے ہیں جو ایک اچھی پیش رفت ہے۔

تحفظات جیسے بھی ہوں، انھیں دور کرنے کے لیے ریاست نے کئی ادارے تشکیل دیے ہیں جب کہ پارلیمنٹیرینز نے ان اداروں کے لیے قانون سازی کی ہے لہٰذا آئین میں جو کچھ لکھا ہے، قوانین میں جو ترمیم واضافہ ہوا ہے، جو بھی ادارہ جاتی ضوابط لکھے گئے ہیں، پارلیمنٹیرینز ان کی ذمے داری سے خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے۔

آج اگر الیکشن کمیشن کے اختیارات وفرائض میں کوئی ابہام پیدا ہوا ہے، کہیں اضافت ہوئی ہے یا کہیں کمی ہوئی ہے تو اس کی ذمے داری بھی ارکان پارلیمنٹ پر ہی عائد ہوتی ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ارکان پارلیمنٹ اور سیاسی قیادت اپنی ذمے داری تسلیم کریں۔ اگر کہیں قوانین میں ابہام ہے، کمی بیشی ہے تو پارلیمنٹ میں رہ کر انھیں دور کیا جائے۔ یہی آئین اور قانون کی حکمرانی کہلائے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔