پاکستان انتخابی نتائج کے بعد

ڈاکٹر فاروق عادل  پير 26 فروری 2024
farooq.adilbhuta@gmail.com

[email protected]

پاکستان آج حالت جنگ میں ہے۔ ایک طرف پاکستان ہے اور دوسری جانب اسٹیٹس کو کی قوتیں۔ یہ قوتیں کیا چاہتی ہیں؟ یہی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مقاصد اور منصوبے شاید زیادہ سمجھ میں آئیں اگر آج کی صورت حال کو حالیہ انتخابات کے بعد پیدا ہونے والے حالات کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے۔

پاکستان کی جمہوری قوتوں نے اپنے تحفظات کے باوجود انتخابی نتائج کو تسلیم کیا اور آگے بڑھنے کا راستہ نکالا جیسے پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ وہ انتخابات میں کام یاب ہونے والے تمام لوگوں کا مینڈیٹ تسلیم کرتے ہیں۔ ان کا مینڈیٹ بھی جو کسی جماعت کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے اور ان کا مینڈیٹ بھی جو آزاد حیثیت میں منتخب ہوئے۔ انھوں نے ان سب سے اپیل کی کہ آئیے، ہم سب مل کر اپنے وطن کو مسائل کے چنگل سے نکالنے کے لیے مل کر کام کریں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے بھی کم و بیش ایسا مؤقف ہی اختیار کیا گیا۔ نئے حکمراں اتحاد کی پہلی مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جن کی نشستیں زیادہ ہیں، ہم حکومت سازی ان کا حق سمجھتے ہیں لیکن وہ خود اس کام میں سنجیدہ نہیں۔

زیادہ نشستوں والے سنجیدہ کیوں نہیں اور وہ کس جانب بڑھ رہے ہیں؟ یہ سوال کچھ ایسا پیچیدہ نہیں۔ انتخابات کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے بہ تکرار کہا گیا کہ ہم حکومت بنائیں گے اور نہ کسی کو حکومت کرنے دیں گے۔ اس سلسلے میں لطیف کھوسہ کا بیان خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ بعد میں جب نیا حکمراں اتحاد وجود میں آ گیا تو کہا گیا کہ اسے حکومت کرنے کا حق کس طرح دیا جا سکتا ہے، وغیرہ۔

اس کے ساتھ چند دیگر واقعات بھی توجہ طلب ہیں۔ انتخابات میں دھاندلی کی بات تو پی ٹی آئی کی طرف سے انتخابی نتائج آنے سے بھی پہلے کر دی گئی تھی لیکن یہ دھاندلی ہوئی کیسے؟ اس کی بنیاد فارم 45 کو قرار دیا گیا۔ دھاندلی کے ضمن میں یہ ایک مضبوط ثبوت ہو سکتا تھا۔ اس مقصد کے لیے پی ٹی آئی نے ایک جلسہ نما پریس کانفرنس بھی کی۔

یہ ثبوت بہت مؤثر ہوتا اگر پی ٹی آئی فارم 45 کی بنیاد پر مقدمہ آگے بڑھاتی لیکن بدقسمتی سے ایسانہیں ہوا۔ یہ جماعت اپنی ویب سائٹ پر تیس پینتیس سے زیادہ فارم 45 اپ لوڈ نہیں کر سکی۔ یوں انتخابی دھاندلی کا بیانیہ نامکمل رہ گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ اسی کمزوری کو دور کرنے کے لیے کمشنر راول پنڈی کا سہارا لیا گیا۔

کمشنر ایپی سوڈ بڑا دل چسپ تھا۔ پی ایس ایل کے نام پر بلائی گئی پریس کانفرنس میں کمشنر صاحب نے دھماکا کر دیا۔ ان کے الزامات کی بنیاد بھی فارم 45 پر تھی۔ اپنے ان دھماکا خیز الزامات کے بعد کمشنر صاحب جب منظر عام پر آئے تو معلوم ہوا کہ انھوں نے یہ کارنامہ کسی یعنی پی ٹی آئی کے اکسانے پر کیا تھا۔ اس قسم کی اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ پروگرام کے مطابق کمشنر راول پنڈی کے انکشافات کے بعد ان ہی جیسے سرکاری افسران کی طرف سے انکشافات اور استعفوں کا ایک سیلاب آ جانا تھا۔

اس اطلاع کی تصدیق سوشل میڈیا کے اس پروپیگنڈے سے بھی ہوتی ہے جس میں کمشنر راول پنڈی کے انکشافات سے قبل بتایا جا رہا تھا کہ فلاں فلاں علاقوں کے ریٹرننگ افسروں نے دھاندلیوں کے خلاف استعفے دے دیے ہیں۔ یہ پروپیگنڈا ہوا ضرور لیکن حقیقت میں کوئی استعفیٰ آیا نہیں۔ اسی طرح کمشنر راول پنڈی کے انکشافات کے بعد بھی کوئی طوفان نہیں آیا۔ یہ ہے دھاندلی کے الزامات کے خلاف کسی ٹھوس ثبوت کہ اصل حقیقت۔ گویا جو کچھ بھی پروپیگنڈے کے محاذ پر ہے۔ ورنہ حقیقت وہ ہے جس کی نشان دہی سینیٹر عرفان صدیقی صاحب نے اپنی ایک گفتگو میں کی۔

انھوں نے انتخابات پر اعتراضات کے جو مصدقہ اعداد و شمار پیش کیے ہیں، وہ حیران کن اور توجہ طلب ہیں۔ انھوں نے بتایا ہے کہ انتخابی عمل کے خلاف قومی سطح پر صرف 87 شکایات الیکشن کمیشن کو موصول ہوئی ہیں جب کہ صرف 22 حلقوں کے انتخابات چیلنج ہوئے، ان میں سے 10 حلقے خیبر پختونخوا کے ہیں۔ 7 حلقوں کا تعلق پنجاب سے ہے اور باقی پانچ کا دیگر دو صوبوں سے۔ یہ ہے دستاویزی حقیقت انتخابات میں دھاندلی کی۔

ان واقعات کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے آئی ایم ایف کو خط لکھنے کا انکشاف سامنے آیا جس سے اب یہ جماعت پیچھے ہٹتی دکھائی دیتی ہے۔ قومی سطح پر اس احمقانہ فیصلے کی مذمت کے بعد ہی سہی پیچھے ہٹنا مناسب ہے لیکن اس کے باوجود اس معاملے کو سمجھنا اور اس پر تبادلہ خیال کرنا بہت ضروری ہے کہ پی ٹی آئی کی طرف سے بار بار ایسے فیصلے سامنے آتے کیوں ہیں؟

یقینا لوگ ابھی نہیں بھولے ہوں گے کہ سال بھر قبل جب پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام میں جا رہاتھا تو اس موقع پر پی ٹی آئی حکومت کے وزیر خزانہ شوکت ترین حرکت میں آئے تھے جنھوں نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومتوں کے وزرائے خزانہ کو ہدایت کی کہ وہ آئی ایم ایف کو خط لکھ دیں کہ ان کے صوبے آئی ایم ایف میں جانے کے وفاقی حکومت کے فیصلے کی حمایت نہیں کرتے۔

پی ٹی آئی کی طرف سے اس قسم کے طرز عمل کے بارے عام طور پر کہا جاتا ہے کہ یہ بانی پی ٹی آئی کی افتاد طبع کے عین مطابق ہے کہ وہ اپنی جماعت حتیٰ کہ ملک پر بھی اپنی ذات اور اپنی سیاست کو ترجیح دیتے ہیں۔ دست یاب شواہد کے مطابق یہ گمان کچھ ایسا غلط بھی نہیں لیکن اس کا ایک سبب اور بھی ہے۔

سبب کیا ہے؟ یہ سبب ہے اس جنگ کا جس کے ذکر سے ان سطور کا آغاز کیا گیا ہے۔ پاکستان 1953 ء سے ایک اسٹیٹس کو شکار ہے جس کا پہلا خوف ناک نتیجہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں برآمد ہوا۔ اس کے بعد سے میثاق جمہوریت تک سیاسی قوتیں ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہو کر اسٹیٹس کو کومضبوط کرتی رہیں لیکن بعد میں صورت حال بدلی تو پی ٹی آئی کی صورت میں ایک نئی سیاسی حقیقت وجود میں آئی۔

اس جماعت سے ایک بار پھر اسٹیٹس کو کو برقرار رکھنے کا کام لیا گیا لیکن اس جماعت اور اس کے لیڈر کی کارکردگی اتنی خراب تھی کہ ریاست کے تمام اسٹیک ہولڈر سوچ میں پڑ گئے اور ان کے درمیان پاکستان کواس دلدل سے نکالنے پر ایک وسیع تر اتفاق رائے ہو گیا۔ انتخابی عمل کے دوران سے لے کر اب تک جو واقعات مختلف ‘ دھماکوں ‘ کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں، عمومی طور پر ان کا تعلق اسٹیٹس کو کی اسی سوچ کے ساتھ ہے۔

وقت اور حالات نے پی ٹی آئی ، جی ڈی اے اور بعض دیگر سیاسی گروہوں کو ان قوتوں کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ گویا اسٹیٹس کے خلاف وہ قوتیں اپنی آخری جنگ لڑ رہی ہیں جن کا سب سے بڑا جھگڑا ریاست کے ساتھ ہے کہ کیوں وہ تباہی کے گڑھے سے نکل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کے لیے یک سو ہیں۔

اس جنگ میں نوجوانوں کے غصے اور احساس محرومی پر خاص طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس محرومی کا تعلق سماجی اور معاشرتی ناہمواری کے ساتھ ہے جو صدیوں سے ہمارے سماج کا حصہ رہا ہے جس کے خلاف لوگ اب پھٹ پڑے ہیں۔ اس ناانصافی کی ہزاروں شکلیں ہیں جن کا سامنا لوگوں روزانہ کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی وڈیرا یا اس کی اولاد کالے شیشوں والی گاڑی خواہ راہ چلتے لوگوں کو کچل کر گزر جائے یا کراچی کے واقعے کی طرح گولیوں سے بھون ڈالے تو، اس کا بال تک بیکا نہیں ہوتا جب کہ اس کے مقابلے میں عام آدمی کی ذلت کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں۔

آج کی نئی نسل ترقیاتی کاموں اور اس جیسے دیگر منصوبوں کو اپنا حق سمجھتی ہے لیکن برابری اور عزت کا مطالبہ کرتی ہے۔ یہی مطالبہ ہے جسے بنیاد بنا کر اسٹیٹس کو کی قوتوں نے نوجوانوں کو متاثر کر رکھا ہے۔ نوجوان تو ویسے ہی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں لیکن انھیں مطمئن کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی نا تجربہ کاری کی وجہ سے منفی قوتوں سے متاثر ہو رہے ہیں جو خود سماجی نا انصافی کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آج کے پاکستان میں اسٹیٹس کو کی قوتیں کامیاب ہوں گی یا پھر ملک کو اس گڑھے سے نکالنے کے خواہش مند کامیاب ہوں گے جو گزشتہ تیس چالیس برس سے اس مقصد کے لیے مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں؟ بے نظیر بھٹو کو انتہائی شقی القلبی کے ساتھ منظر سے ہٹا نہ دیا جاتا تو یہ سفر نواز شریف اور ان کی قیادت میں ایک ساتھ ہوتا لیکن اب ساری ذمے داری نواز شریف کے کاندھوں پر ہے اور وہ پوری تن دہی ساتھ اس قومی جدوجہد کی قیادت کر رہے ہیں۔

اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں کہ میاں صاحب جنوبی ایشیا کے سب سے زیادہ تجربہ کار سیاست دان ہیں جو معاملہ فہمی کے ساتھ سب کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ توقع نہیں بلکہ یقین ہے کہ پاکستان کی یہ جدوجہد کامیاب ہو گی۔ البتہ درمیان میں چھوٹی موٹی رکاوٹیں آتی رہیں گی جیسے حالیہ انتخابات کو متنازع بنانے کے لیے ہو رہی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔