درہ بولان... مشکاف ، ڈھاڈر سے کولپور تک

ڈاکٹر عرفان احمد بیگ  اتوار 25 فروری 2024
قدیم ترین تہذیب و تمدن کے آثار کا مرکز اور برصغیر پر حملہ آور ہونے والے بادشاہوں کی گزر گاہ  ۔ فوٹو : فائل

قدیم ترین تہذیب و تمدن کے آثار کا مرکز اور برصغیر پر حملہ آور ہونے والے بادشاہوں کی گزر گاہ ۔ فوٹو : فائل

بلوچستان رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے وسیع اور بڑا صوبہ ہے، جس کی طویل ترین سرحدیں مغرب اور شمال مغرب میں ایران اور افغانستان سے ملتی ہیں ، اور شمال مغرب میں ڈسٹرکٹ چاغی میں دالبندین کے نزدیک افغانستان کی سرحد جہاں ملتی ہے ، اس مقام پر سنٹرل ایشیا کے اہم ملک ترکمانستان اور پاکستان کے درمیان صرف سو کلومیٹر کا افغانستان کا علاقہ ہے۔

بلوچستان کے جنوب میں ملک کے 1000 کلومیٹرساحل میں سے 770 کلو میٹر ساحل بلوچستان کے پاس ہے،یوں بلوچستان جغرافیائی اوردفاعی اسٹریٹجی کی بنیاد پر ہمیشہ سے اہم رہا ہے۔ بلو چستان ہر اعتبار سے تنوع کا حامل خطہ ہے۔ جغرافیائی طور پر اہمیت کے ساتھ ساتھ اس کا موسمیاتی تنوع بھی اسے خطے میں تہہ دار بناتا ہے۔

دنیا کے اکثر بڑے ملکوں میں دو تین سے زیادہ ایکالوجیکل زون ہو تے ہیں ، جب کہ بلوچستان میں تقریباً سات ایکالوجیکل زون ہیں ،اور اِن میں سے دو کا منفرد ایکو سسٹم ہے۔ ضلع بو لان بلو چستان کے 33 اضلا ع میں سے ایک اہم اور منفردہ ڈسٹرکٹ ہے جس کا سرکاری نام ضلع بولان / کچھی ہے مگر اِسے عام طور پر ضلع بولان ہی کہا جاتا ہے، ضلع بولان کا رقبہ 5682 مربع کلومیٹر ہے ،جب کہ آبادی 310649 ہے اور آبادی کی گنجانیت 54.7 افراد فی مربع کلومیٹر ہے، یہاں مجموعی طور پر شرح خواندگی 43% ہے جب کہ مردوں میں یہ شرح خواندگی 59% اور خواتین میں شرح خواندگی صرف 23 فیصد ہے۔

اس ضلع کی چار تحصلیں ہیں۔ نمبر1 ۔ تحصیل بھاگ ، نمبر2 ڈھاڈر، نمبر 3 مچھ نمبر4 سنی ۔ ضلع کا ہیڈ کوار ٹر ڈھاڈر ہے، جو سبی شہر سے تقریباً 25 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ۔ بولان کی سرحدیں شمال مغرب میں ضلع مستونگ، شمال مشرق میں ضلع سبی اور ضلع کوہلو سے ملتی ہیں۔ مشرق میں ضلع ڈیرہ بگٹی ہے اور جنوب میں نصیرآباد اور جعفرآباد کے اضلاع ہیں ، جب کہ ضلع کوئٹہ ، خضدار اور قلات بھی اس کے نزدیک واقع ہیں ۔

ضلع بولان کی بڑی تاریخی اہمیت ہے،اور یہ قبل از تاریخ بھی اہم ترین رہا ہے ۔ قبل از تاریخ اگر ہم اس علاقے کو دیکھیں تو یہاں دنیا کے قدیم ترین آثار قدیمہ مہر گڑھ کی صورت میں مو جود ہیں ۔اِن آثار قدیمہ کو 1974 ء میں فرانس کے ماہر آثارقدیمہ پروفیسر ڈاکٹر جیریج اور اُن کی اہلیہ نے مسلسل دس برسوں کی تحقیق اور کھدائی کے بعد دریافت کیا ، اور یہ ثابت کیا کہ یہ آ ثار قدیمہ ساڑھے تقریباً دس ہزار سال پرانے ہیں۔ اِن آثار قدیمہ سے ہزاروں سال کی تہذیب کے ارتقائی مراحل بھی یہاں زمین کی کھدائی کے بعد زمین کی پرتوں میں تہہ درتہہ ملے ہیں ۔

پروفیسر ڈاکٹر جیریج کے مطابق اُنہوں نے یہاں سے دریافت ہونے والے برتنوں،اوزار وں، مجسموں اور دیگر اشیا پر لیبارٹری تحقیق کے بعد ثابت کیا ،کہ یہاں انسان نے اپنی تہذ یب کی ابتدا کی اور دنیا میں سب سے پہلے یہاں جنگلی جانوروں یعنی بیل ،گائے، بھینس، بھیڑ بکری گھوڑوں اور اونٹوں کو پالتو بنایا۔

بولان میں ڈھاڈر سے چند کلومیٹر دور واقع مہر گڑھ کے مقام پر ہی یہاں ساڑھے دس ہزار سال پہلے نہ صرف انسان نے خودرو گندم ، چاول اور دیگر اناج کو دریا فت کر کے، اِن فصلوں کی کاشت کی بلکہ یہاں ہی انسان نے دنیا میں سب سے پہلے گندم کو پیس کر آٹا بنایا۔ آٹا گوندھا اور اس آٹے کی روٹی بنائی، البتہ یہ روٹی آج کی روٹی سے مختلف تھی۔

اس کے پکانے کا طریقہ کار بھی مختلف تھا ، پروفیسر ڈاکٹر جیریج نے لیبارٹری ٹسٹوں کے بعد یہ ثابت کیا کہ یہاں انسان نے روٹی اس طرح پکائی کہ پہلے لکڑیوں کی آگ چولہے میں جلائی اور جب لکڑیوں کے انگارے بن گئے، تو سیب کے سائز کے گول گول پتھروں کو پانی سے اچھی طرح دھویا اور اِن پر گوندھے ہوئے آٹے کو منڈھ یا لپیٹ دیا اور پھر اِن کو دھکتے ہوئے انگاروں پر پکایا اور پک جانے کے بعد اِن کو اِن پتھروں سے اتار کر کھایا۔ تعریف کی بات یہ ہے کہ آج بھی ضلع بولان کچھی سے قریب ضلع بگٹی میں جب روائتی انداز کی دعوتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے، تو سجی یعنی آگ پر بھونے جانے والے بکرے یا دمبے کے گوشت خصوصاً رانوں کے، ساتھ یہی قدیم روٹی اسی طرح پکائی جاتی ہے اور اس روٹی کو مقامی بلوچی زبان میں کاک کہتے ہیں، بدقسمتی سے ہمارے ہاں اِن بنیادوں پر زیادہ تحقیق نہیں کی جاتی ، جس کی مثال ابھی ہمارے سامنے ہے کہ موہنجوداڑو جس کو سر جان مارشل نے تقریباً 100 برس قبل دریافت کیا تھا،21 نومبر2023 ء کو یہاں سے سونے اور تانبے کے ہزاروں سکے اتفاقیہ مل گئے۔

یوں اس علاقے میں ابھی قدیم انسانی تہذیب کے آثار کی بنیاد پر بہت کچھ موجود ہے ،جس کو تلاش کرنے اور اُس پر تحقیق کرنے کی ضرورت ہے، پھر زمانہ قبل از تاریخ سے تاریخ یعنی 3500 قبل مسیح پر آجائیں جب انسان نے حروف تہجی ایجاد کر کے اپنی تاریخ کو کسی حد تک بنیادی انداز میں محفوظ کرنا شروع کر دیا۔ اس زمانے کے قدیم آثار بھی بلوچستان کے مختلف علاقوں کی طرح ڈسٹرکٹ کچھی بولان میں بھی د کھائی دیتے ہیں ۔

قیام پاکستان سے صدیوں قبل بھی ہم دیکھیں تو ہندوستان یا برصغیر کا دنیا کے دوسرے ملکوں سے خشکی سے رابطہ درہ ِخیبر اور درہِ بولان ہی سے رہا ہے۔ جہاں تک تعلق ہمسایہ ملک چین کا ہے، تو تاریخی لحاظ سے چین کے باشندوں نے ہزاروں سال سے دنیا کے ساتھ تجارتی بنیادوں پر تو رابط رکھا، مگر چین کی جانب سے کو ئی فتوحات یا ہمارے علاقے میں کوئی حکومتی عمل دخل تاریخی طور پر نہیں ملتا اور تقریبا ڈھائی ہزار سال سے جو بھی حملہ آوراور فاتحین برصغیر میں آئے وہ براستہ ایران اور افغانستان ہی آئے۔

اِن کے راستے درہ خیبر اور درہ بولان ہی تھے۔ مستند تاریخ میں ہمیں امیر تیمور سے ظہیر الدین بابر کے ابتدائی حملوں کی قدرے دھندلی تاریخ درہ بولان سے ملتی ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے، کہ اُس وقت بلوچستان کا پورا علاقہ انتہائی کم آباد تھا، اس لیے یہاں آنے والے حملہ آور آتے ہی واپس چلے گئے،جیسے حضرت عمرؓ کے زمانے میں ایک چھوٹا سا اسلامی فوجی دستہ بلوچستان میں مکران کے علاقے میں آیا۔ اور یہ جائزہ پیش کیا کہ یہاں زمین سخت دشوار اور بنجر ہے۔

اس رپورٹ کے بعد یہاں اس علاقے میں دلچسپی ترک کر دی گئی،اس کے بعد تاریخی طور پر بڑا واقعہ ہمایوں کا ہندوستان سے فرار ہو کر ، بلوچستان کے راستے ایران جانا تھا۔ ظہیر الدین بابر کے انتقال کے بعد ہندوستان میں ہمایوں کے بھائیوں نے ، اقتدار کے حصول کے لیے ہمایوں کے خلاف کاروائیاں شروع کر دیں۔

اِس صورتحال سے فا ئد اٹھاتے ہوئے بنگال میں واقع سراسرم کی جاگیر سے تعلق رکھنے والے، شیر شاہ سوری نے ہندوستان میں اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ پھر شیر شاہ سوری نے پانچ سال ہندوستان پر حکومت کی۔

سوری کی وفات کے بعد اُس کے جانشین نااہل ثابت ہوئے، اور ایران کی مدد سے ہمایوں کی واپسی بلوچستان کے راستے ہوئی۔ پھر جب انگریز ہندوستان سمندر کے راستے آئے، تو ابھی اُن کے قدم برصغیر میں جمے نہیں تھے، یعنی 1757 ء تک بنگال میں سراج الدولہ کو انگریزوں نے شہید نہیں کیا تھا اور میسور میں 1799 ء تک فتح علی ٹیپو سلطان کو بھی شہید نہیں کیا تھا۔

اس دوران مغل بادشاہ محمد شاہ( رنگیلے شاہ) کی حکوت کابل تک تھی، تو پہلے نادر شاہ افشار نے ہند وستان پر حملہ کیا ،اور اِس کی بہت سی سپاہ بلوچستان درہ بولان سے گئیں۔اس کے بعد احمد شاہ ابدلی نے ہندوستان پر حملہ کیا، تو اس کی فوجیں بھی بلو چستان سے ہندوستان پر حملہ آور ہوئیں تھیں،اور اس کے لیے بلوچستان کا راستہ درہِ بولان کا استعمال کیا گیا تھا۔

اسی طرح سید احمد بریلوی شہید نے، جب آج کے پنجاب خیبر پختونخواہ اور کشمیر و لداخ کو سکھوں سے آزاد کر انے کے لیے، تحریک شروع کی تو اُس وقت چونکہ پنجاب پر رنجیت سنگھ کا قبضہ تھا، اس کے لیے سید احمد شہید نے سندھ اور بلوچستان کا راستہ اختیار کیا اور بلوچستان درہ بولان سے ہوتے ہوئے پہلے قندھار پہنچے، اور افغانستان میں مسلح تحریک کو منظم کیا اور شروع میں خیبرپختونخوا میں، بہت علاقے سکھوں سے چھین لیئے، مگر بدقسمتی سے اِن کے لشکر میں پھوٹ ڈال دی گئی، اور اختتام پر سید احمد بریلوی بالاکوٹ کے مقام پر سکھوں سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔

یہ درہ بولان سبی کے بعد ڈھادر ہی سے شروع ہوتا ہے جو دریائے بولان کے کنا رے کنارے چلتا ہے۔ آب گم کے مقام پر سطح سمندر سے بلندی ساڑھے چار پانچ سو فٹ ہے۔ مگر اس کے بعد اس بلند ی میں اضافہ شروع ہو جاتا ہے اور مچ پر یہ بلندی ساڑھے تین ہزار فٹ کے قریب پہنچتی ہے لیکن ڈھاڈر سے مچ تک گرم علاقہ ہے، یعنی یہاں موسم گرما میں بلا کی گر می پڑتی ہے، واضح رہے کہ سبی اور ڈھا ڈر کے شہروں کا شمار دنیا کے گرم ترین شہر وںمیں ہوتا ہے۔ لیکن سردیوں میں یہاں موسم بہت خوشگوار ہو تا ہے، اس کے بعد مچ کا علاقہ شروع ہوتا ہے جو بتدریج بلند ہوتا چلا جاتا ہے۔

آگے ہیرک دوذان اور کولپور تک اس کی بلندی ساڑھے چھ ہزار فٹ ہو جاتی ہے۔ جہاں سردیوں میں کئی کئی فٹ برف پڑتی ہے اور درجہ حرارت منفی 18سنٹی گریڈ تک گر جاتا ہے۔ واضح رہے کہ اس کے ساتھ جو اضلاع جیسے مستونگ اور نزدیکی اضلاع قلات اور کوئٹہ ہیں وہ بھی بلوچستان کے سرد ترین علاقے ہیں ۔ اور اِن اضلاع میں بھی سردیوں کے موسم میں درجہ حرات نقط انجماد سے18 درجے سنٹی گریڈ تک گر جاتا ہے۔

یوں ضلع بولان اپنے تاریخی درہ بولان کے ساتھ ساتھ موسموںکی شدت بھی رکھتا ہے۔ 1830ء تک انگریز برصغیر کی ایک بڑی اور مستحکم طاقت بن چکا تھا۔ انگریز نے ہندوستان میں آمد کے بعد اچھی طرح تحقیق کی اور اس بنیاد پر پہنچا تھا کہ ہندوستان پر تاریخ میں جتنے بھی حملہ آور اور فاتحین آئے، وہ تمام سنٹر ل ایشیا سے افغانستان اور ایران سے آئے تھے۔ اور ہند وستان کے اکثر حکمران ہندوستان کی سرحد سے تین چار سو کلو میٹر اندر پانی پت کے میدان میں دفاعی جنگ لڑتے تھے۔

انگریز نے اپنی دفاعی حکمت عملی اسی تنا ظر میں بنائی اور یہ منصوبہ بند ی کی کہ انگر یز افغانستان سے جنگ کر ے، اور دفاعی جنگ کی بجائے جارحانہ انداز اختیار کرے۔ اور طے کیا کہ افغانستان پر حملہ کر کے وہاں قبضہ کر لے ۔ اور وہاں اپنی تابعدار حکومت قائم کرے، یوں انگریز نے 1839 ء میں پہلی اینگلو افغان جنگ کی لڑی۔ یہ جنگ بلوچستان اور خصوصاً درہ ِ بولان کے تناظر میں تاریخی اعتبار سے بہت اہم تھی۔ واضح رہے کہ بلوچستان کی تاریخ کے اہم ترین خان آف قلات یعنی بلوچستا ن کے مضبوبط اور خودمختار حکمران نصیر خان نوری تھے۔

جہنوں نے احمد زئی خاندان اور سلطنت کی بنیادکو مضبوط اور مستحکم کیا تھا۔ وہ احمد شاہ ابدالی کے لشکر میں اپنے بڑے قبائلی لشکر ساتھ شریک ہوئے تھے۔ اور فاتح ہو نے کی صورت میں افغانستان اور اُن کے تعلقات بہت مضبوط اور گہرے ہو گئے تھے۔ 1839ء میں بلوچستان کے حکمران ’’خان آف قلات‘‘ میر محراب خان تھے اور پنجاب میں رنجیت سنگھ کی حکومت تھی راجہ رنجیت سنگھ سے انگریزوں نے رابطہ کیا کہ رنجیت سنگھ کی حکومت اُن کو پنجاب اور آج کے خیبر پختونخوا کے راستے افغانستان پر حملے کی اجازت دے۔ راجہ رنجیت سنگھ بہت سمجھدار حکمران تھا۔

اُس نے انگریز سے کہا کہ وہ انگریزوں کی فوجی مدد کر ے گا اور پنجاب سے اور آج کے خیبر پختونخوا کے راستے اپنی سولہ ہزار فوج کے ساتھ جلال آباد سے ہوتا ہوا کابل پہنچے گا اور انگریزوں کی جانب سے اس لشکر میں علامتی شرکت کے لیے رنجیت کی فوج میں بارہ جو نیئر انگریز فوجی افسر شامل ہو ں، جب کہ انگریز کو چاہیے کہ وہ سند ھ اور بلوچستان کے راستے ہو تا ہوا قندھار سے آگے کابل آئے۔

یوں تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ بیرونی ملک کی کوئی فوج ہند وستان سے ہوتی ہوئی درہ بولان بلوچستان کے راستے بغیر کسی اجازت کے افغانستان پر حملہ آور ہوئی۔ اُس وقت بلوچستان میں قلا ت کے خان یعنی بلوچستان کے حکمران میر محراب خان تھے۔ یوں جب انگریزوں کی فوجیں یہاں درہ بولان سے گزریں تو یہاں کے بلوچوں نے درہ بولان میں پہاڑوں سے اِن پر گوریلا طرز کے حملے کئے اور انگریزوں کی تقریباً 26 ہزار فوج کو کچھ پریشان کیا۔

1839 ء کی پہلی اینگلو افغان جنگ میں انگریزوں نے رنجیت سنگھ کی فوجی مدد سے کابل پر قبضہ کر لیا۔ لیکن واپسی میں انگریز جنرل نے ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے وائسرائے سے اجاز ت لے کر بلو چستان پر چڑھائی کر دی۔ اور اپنے بھاری توپ خانے کے ساتھ درہ بولان سے ہوتا ہوا قلات پہنچا۔ یہاں جنگ ہوئی اور میر محراب خان اپنے ساتھیو ں کے ساتھ انگریزی فوج سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔

اگرچہ انگریزوں نے میر محراب خان کو شکست دے کر شہید کر دیا، لیکن وہ بلوچستان پر اپنا قبضہ مستحکم نہ کر سکے۔ بلوچ قبائل نے یہاں خصوصاً درہ بولان میں مزاحمت جاری رکھی ۔ یہ مزاحمت گوریلا طرز کی تھی۔ 1842 ء کے موسم سرما تک انگریز اپنی ہندوستان فوج کے ساتھ اٖفغانستان پر قابض رہا ۔ لیکن سردیوں کے موسم میں افغانیوں نے انگریزوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ کی۔ اور انگریز کی تمام بارہ ہزار فوج کو ہلاک کر دیا۔ اور عبرت کے لیے صرف ایک ڈاکٹر برائیڈن کو زندہ چھوڑا۔ اس شکست کے خطے پر بڑے منفی اثرات مرتب ہوئے، زار روس شہنشاہیت نے اپنے دفاع کے لیے یہ اسٹرٹیجی اختیار کی کہ افغانستان کے بعد سنٹرل ایشیا کی مسلم ریاستوں پر چڑھائی کر کے قبضہ کرنا شروع کر دیا۔

یہاں بلوچستان میں کابل میں انگریزوں کی شکست سے بلوچوں کے حوصلے بھی بہت بڑھ گئے۔ اور بلوچ قبائل کی انگریزوں کے خلا ف کاروائیاں تیز تر ہو گئیں۔ اس دور میں درہ بولان میں آمد ورفت اور خصوصاً انگریزوں کی فوجی حرکت و عمل کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یوں اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ وہ تاریخی موڑ ہے جب بلوچستان اور خصوصاً درہ بولان کی اسٹرٹیجی بہت بڑھ گئی تھی۔

اب انگریز ہر صورت میں بلوچستان پر اپنا قبضہ کرنا چاہتا تھا۔ انگر یز کو 1846 ء تک بہت گھبراہٹ رہی۔ رنجیت سنگھ 1839 ء ہی میں انتقال کر گئے تھے۔ اس کے بعد رنجیت سنگھ کے خاندان کے افراد میں اقتدار کے حصول کے لیے کشاکش شروع ہو گئی۔ پھر پنجاب کی سکھ حکومت نے انگریز سے جنگ چھڑ دی ۔ اس جنگ میں سکھوں کو شکست ہوئی۔ رنجیت سنگھ سلطنت جو پنجاب کشمیر، لداخ اور آج کے پختوانخوا کے علاقے ہیں یہاں اب انگریز مستحکم ہو گیا۔ اُس وقت تک روس کی زار سلطنتِ نے سنٹرل ایشیا کی تقریباً تمام مسلم ریاستوں پر اپنی پوزیش مستحکم کر لی۔

اگر چہ سکھوں کو شکست دینے کے بعد پنجاب اور خیبر پختونخوا کے علاقوں پر انگریز قبضہ کر چکا تھا۔ پھر بھی انگریز وں کے لیے بلوچستان اور درہ بولان کی اہمیت کہیں زیادہ تھی۔

اب یہاں صورتحال یہ تھی کہ اُس وقت کی ایک بڑی قوت جو خود کو دنیا کی سپر پاور تصور کرتی تھی وہ برطانیہ تھا۔ اور اس کے علاوہ دو بڑی قوتیں فرانس اور روس تھیں۔ اب چونکہ برطانیہ کی سب سے اہم نو آبادی برصغیر تھی۔ اور 1839 ء کی پہلی اینگلو افغان جنگ کے بعد افغانستان سیاسی اور عسکری طور پر سینڈوچ بن گیا تھا۔کیونکہ روس سنٹرل ایشیا میں افغانستان کی سرحد پر پہنچ گیا تھا اور 1839 ء میں انگریز بلوچستان تک آگیا تھا اور 1846 ء میں پنجاب کے سکھ حکمرانوں کو شکست دینے کے بعد، انگریز انڈیا کی سر حد آج کے خیبر پختونخوا تک لے گیا۔

اب انگریز اگرچہ روس کو یہ بتا چکا تھا ۔ وہ ہندوستان کو اب عسکری اور دفاعی طور پر مضبو ط کر چکا ہے۔ مگر برطانیہ کو اب بھی اطمینان نہیں تھا۔ اور وہ چاہتا تھا کہ افغانستان میں انگریز کی اپنی مرضی اور تابعدار حکومت قائم کرے۔ اس کے ساتھ ہی انگریز کی کوشش یہ تھی کہ کسی طرح بلوچستان میں مزاحمت کو ختم کیا جائے۔

پنجاب سندھ میں انگر یز سرکاری کا پورا کنٹرول ہو گیا تھا۔ خیبر پختو نخوا میں بھی اگرچہ مزاحمت تھی، لیکن سکھوں کی حکومت کے دوران یہاں حکو مت کا انتظام مضبوط ہو چکا تھا۔ اس کے برعکس بلوچستان ایک دشوار گزار رقبے کے اعتبار سے بہت وسیع اور سخت موسموں کا خطہ تھا۔ جہاں صدیوں سے یہاں کے لوگ آزاد تھے۔ یہاں پر مقامی آبادی کی جانب سے انگریز کے خلاف گوریلا طرز کی جنگ انگریز سرکار کے لیے مستقل درسر تھی۔ اور گوریلا حملے زیادہ تر درہ بولان ہی میں ہوتے تھے۔ طویل عرصے تک کی سوچ بچار کے بعد بلوچستان کی سر حد کے قریب ڈیرہ غازی خان میں تعینات ایک انگریز اسسٹنٹ کمشنر سر رابٹ سنڈیمن نے، بلوچستان میں حکومت کرنے کا ایک قابلِ عمل منصوبہ نبایا۔ اور اس پر گفت وشنید کے ذریعے خان آف قلات سمیت قبائلی سرداروں کو آمد کر لیا، واضح رہے کہ انگریزوں نے بلوچستان میں 1839 ء کے بعد سبی کو اپنا مرکز بنایا تھا۔

اس کے بعد زیارت ٹاؤن کا علاقہ وہاں کے قبائل سے خریدا۔ اسی طرح کوئٹہ کا شہر تعمیر اور آباد کرنے سے قبل یہاں بھی زمینیں انگریزوں نے خریدیں۔ 1877 ء میں سرابرٹ سنڈے من نے خان آف قلات سے معاہدہ کر لیا۔ اور قبائلی سرداروں سے بھی معاملات طے پا گئے۔ یوں بلوچستان کا تقریباً 95% رقبہ انگریز کے بجائے آزاد اور اندرونی طور پر خودمختار تھا۔ اور یہاں قبائلی قوانین ہی نافذ العمل تھے۔ 1878 ء میں انگریزوں نے بلوچستان کے تقریباً درمیان اور درہ بولان کے بالکل آغاز پر کوئٹہ شہر اور ایک بڑی چھاؤنی تعمیر کی۔ اسی سال یعنی 1878 ء دوسری اینگلو افغان جنگ ہوئی۔

جس میں درہ بولان کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ اور سبی اور کوئٹہ درمیان مچھ کے چھوٹے سے ٹاؤن میں بھی ایک نئے انداز کی زندگی وجود میں آئی۔ یہاں یہ بھی وضاحت ضروری ہے کہ ضلع کچھی بولان کا صدر مقام ڈھاڈر اُس وقت بھی خاص اہمیت رکھتا تھا، کیونکہ ابھی کوئٹہ شہر پوری طرح آباد اور تعمیر نہیں ہوا تھا، اور سبی انگریز حکومت کا مرکزی مقام تھا، اور گرمیوں میں انگریز اس مرکز کو زیارت منتقل کر دیا کر تھا۔ اور آج بھی سبی کمشنر آفس گرمیوں میں زیارت منتقل ہو جا تا ہے۔ اُ س وقت انگریز وں کی طرح خان آف قلات کا دارالحکومت اگرچہ قلات تھا، جو سردیوں میں سرد ترین ہو جاتا ہے تو اُس زمانے میں خان آف قلات نے اپنا سرمائی دارالحکومت ڈھاڈر بنایا ہوا تھا۔

دوسری اینگلو افغان جنگ 1878 ء سے1880 ء تک جاری رہی۔ اسی دوران درہ بولان سے انگریز کی ہندوستانی فوج ہزاروں کی تعداد میں گزری ۔ اور پھر دو سال تک اسی درہ بولان سے افغانستان میں جنگ لڑنے والی انگریزوں کی فوج اسلحہ اور خوراک کی سپلائی بھی اسی درہ بولان سے جاری رہی اور آج تک بھی افغانستان جو ایک لینڈ لاک ملک ہے، یعنی اُس کے پاس بندرگاہ نہیں ہے، اس لیے پاکستان نے سمندر سے بیرونی تجارت کے لیے افغانستان کوراہداری دے رکھی ہے ۔ اور افغانستان کی تجارت کا زیادہ مال بھی اسی درہ بولان سے آتا جا تا ہے۔ دوسری اینگلو افغان جنگ میں انگریزوں کو کامیابی ہوئی۔ کابل میں انگریز جنرل سر فیڈریک رابرٹ سے Gandamak گنڈامیک معاہدہ ہو ا۔ اور افغانستان کے حکمرانوں نے ایک بڑی رقم سالانہ کی سبسڈی کے عوض ملک کے دفاع اور امور خارجہ کو انگریز کے حوالہ کر دیا ۔

برطانیہ میں 1825 میں جارج اسٹیفن نے اسٹیم انجن سے ایک ٹرین چلانے کا عملی اور کامیاب مظاہرہ کیا تھا۔ اور پھر آئندہ دس برسوں میں برطانیہ سمیت فرانس، جرمنی ، روس اور یورپ کے دیگر ملکوں کے علاوہ امریکہ میں بھی ریلوے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے، ریلوے کا جال بچھا دیا، اِن ملکوں میں ریلوے کی دفاعی اہمیت تسلیم کیا۔ آج کے پاکستانی علاقے میں 1861 ء میں کراچی سے کوٹری تک 105 میل لمبی ریلوے لائن بچھائی گئی۔

اس کے چند برسوں کے اندر اندر پنجاب اور سندھ میں کراچی، روہڑی راولپنڈی تک، ریلوے کا نظام مستحکم کر دیا گیا۔ اور اس کے فوراً بعد خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی ریلوے لائنوں کو بچھانے کے منصوبوں پر عملدر آمد شروع ہو گیا۔ 1879 ء میں جب افغانستان میں قتل عام ہوا تو اسٹرٹیجک ریلوے لائن انگریز کی فوری ضرورت بن گئی۔ ریلوے اسٹیشن رک اور سکھر سے بلوچستان میں درہ بولان سے 25 کلومیٹر دور سبی تک 133 میل ریلوے لائن ہزاروں مزدوروں کی مدد کے ساتھ 101 دن میں مکمل کر لی گئی۔

جنوری1880 ء میں پہلی ٹرین بلوچستان میں داخل ہو کر درہ بولان سے 25 کلومیٹر نزدیک سبی پہنچ گئی ۔ اب انگریز نے سبی سے دو جانب دو ریلوے لائنوں کی تعمیر شروع کر دی ایک ہرنائی کی جانب سے اور دوسری درہ بولان میں ریلوے لائن کی تعمیر شروع ہو گئی ۔ اور یہ دنیا میں اُس وقت تعمیر ہو نے والی دشوار گزار ریلوے تھی جو سبی سے چند کلومیٹر کے بعد درہِ بولان داخل ہوتی ہے ۔ سبی سے کو ئٹہ تک اس کی کل لمبائی 142.15 کلومیٹر ہے۔ انگریزوں نے بہت پہلے ہی یہ موازنہ کیا تھا کہ 2500 اُونٹ اور گھوڑے جتنا سامان 15 دنوں ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچاتے تھے۔

اُتنا ہی سامان سولہ گھنٹوں میں ٹرین پہنچا دیتی تھی۔ 1885 ء میں درہ بولان میں اس شاہکار ریلوے لائن پر کام شروع ہوا اور1897 ء تک یہاں کام ہو تا رہا ۔ اس دوران یہاں تیس ہزار سے زیادہ مزدو ر اور 30000 اونٹ روزانہ کام کرتے رہے ۔ مزدوروں کے لیے روزانہ 900 اونٹوں پر کھانا سبی سے آتا تھا۔

یہاں اُس وقت دیگر انگریز انجینئروں کے علاوہ مشہور ناول امراؤ جان ادا کے مصنف مرزا ہادی رسوا نے، بھی بطور سب انجنئیر کام کیا اور چند برس یہاں درہ بولان کے پہاڑوں میں خیمہ زن رہے۔ اسی دوران انگریزوں نے یہاں مچ کا چھوٹا سا ٹاؤن آباد کیا جو اب شہر بن چکا ہے۔ مچ کی شہرت کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ درہ بولان کے درمیان میں واقع اس شہر میں مچ سنٹرل جیل ہے جو اپنی تاریخی اہمیت رکھتی ہے اور اس کے علاوہ مچ کے علاقے میں معدنی کو ئلے کی سینکڑوں کانیں ہیں۔ اور یہاں سے نکالا جا نے والاکوئلہ ملک بھر کے کارخانوں خصوصاً اینٹ بنانے والے بھٹوں میں استعما ل ہوتا ہے۔

شروع میں یہی کوئلہ یہاں ٹرینوں کو چلانے والے اسٹیم انجنوں میں بھی استعمال ہوتا تھا۔ درہ بولان دریائے بولان کے ساتھ ساتھ اگر چہ ہزاروں سال پر انا روائتی راستہ مو جود ہے جس پر انگریزوں ہی کے زمانے میں پختہ سٹرک بھی بنا دی گئی تھی ۔ لیکن درہ بولان میں اب بھی اسٹرٹیجک اہمیت ریلوے لائن ہی کی ہے جو پہلی جنگ عظیم سے بڑھ گئی 1918 ء میں جنگ عظیم اوّل کا خاتمہ ہوا ۔ لیکن اس سے ایک سال پہلے 1917 ء میں روس میں لینن اور اسٹالن اشتراکی انقلاب لے آئے اور روس کو ا تحادیوں سے نکال لیا ۔ 1919 ء میں افغانستان کے بادشاہ امیر حبیب اللہ خان کو قتل کر دیا گیا ۔اور غازی امان االلہ خان افغانستان کے بادشاہ بنے۔ اور اُنہوں نے گڈمیک معاہدے سے انکار کر دیا۔

اس کے بعد انگریز نے خیبر پختومخوا اور بلوچستان میں اسٹرٹیجی ریلوے لائن بچھانے کا منصوبہ شروع کیا ۔ کیونکہ روس نے افغانستان کی سرحد کے قریب گوشک اور تر مر تک ریلوے لائن بچھا نے کا کام شروع کر دیا ۔ انگریز نے جلدازجلد اس ریلوے لائن کو مکمل کیا اور اس ریلوے لائن ہی سے بلو چستان میں کو ئٹہ سے30 کلومیٹردور سپیزنٹ سے پاک ایران سرحد تک 650 کلو میٹر ریلوے سے جوڑ دیا پھر اسی ریلوے لائن سے منسلک کوئٹہ سے پاک افغان سرحدی ریلوے اسٹیشن چمن تک 140 کلومیٹر ریلوے لائن ہے۔

مگر بلوچستان کو ایران اور ایران سے آگے ترکیہ اور مغربی یورپ پھر افغانستان سے سنٹرل ایشیا اور اس سے آگے روس اور پھر پولینڈ سے مشرقی یورپ تک کو ملانے والا اہم راستہ درہ بولان ہی ہے اور یہی درہ بولان نہ صرف بلوچستا ن کو ملک کے باقی صوبوں سے ملاتا ہے۔ بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کو بھی ایران اور افغا نستان اور اس سے آگے تک خشکی کے راستے فراہم کرتا ہے۔ اور اگر مستقبل میں بھارت ،اور بنگلہ دیش کو پاکستان نے ریلوے کی سہولت فراہم کی تو یہی درہ بولان اہم ہو گا ۔ ضلع بولان میں ایک زمانے میں ہرن مارخور خرگوش کے علاوہ چکو روں کا بہت شکار ہوتا تھا۔ یہاں سو سال قبل چیتے بھی ملتے تھے ، بھیڑے اور لومڑیاں اور جنگلی بلیاں یہاںاب بھی ملتی ہیں۔

ضلع کچھی بولان کے گرم علاقوں میںکجھور سمیت گرم علاقوں میں ہونے والے پھل پید ا ہوتے ہیں ۔ اور سرد علاقوں میں ہونے والے تمام پھل سیب، انگور، بادام، انار اور دیگر پھل بھی پیدا ہوتے ہیں ۔ بولان کا علاقہ ایسا علاقہ ہے کہ یہاں صرف 70 کلومیٹر کے علاقے میں گرم اور سرد علاقے ہیں ۔ جہاں گرمیوں سردیوں میں لوگ بڑی تعداد میں پکنک کرتے ہیں۔ یہاں لینڈ اسکیپ کے اعتبار سے بہت خوبصورت مناظر ملتے ہیں ۔ یوں اگر ہم بولان کے علاقے پر توجہ دیں ۔ تو مہرگڑھ کے آثار قدیمہ اور یہاں کی وادیوں کے خوبصورت مناظر میں اتنی جاذبیت ہے کہ یہاں سالانہ لاکھوں سیاح آسکتے ہیں۔ اور ہم سالانہ کروڑوں ڈالر کا زرمبالہ کما سکتے ہیں۔ ڈھاڈر اگر چہ ضلع ’’کچھی بولان‘‘ کا ہیڈکوارٹر ہے لیکن تجارتی، اقتصادی اور تعلیمی طور پر مرکزی اہمیت مچ کو حاصل ہے۔

یہاں بوائز اور گرلز کالجوں کے علاوہ ہائی اسکول اور سرکاری ہسپتال ہیں۔ کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے بچوں کے لیے بھی لیبر مین پاور کی جانب سے بھی اسکول اور ڈسپنسریاں کھولی گئی ہیں، لیکن یہاں ایک بات اہم یہ ہے کہ گذشتہ چند برسوں سے درہ بولان اور دریائے بولان کے علاقے میں متواتر اور شدید سیلابوں کا شکار رہے ہیں جس کی وجہ سے سٹرکوں اور ریلوے لائنوں کو نقصان پہنچتا رہا ہے۔

یہاں تک کہ کوئٹہ سے ریل کا رابط بھی منقطع ہو گیا تھا۔ اسی طرح مچ کو سڑک سے ملانے والا پل بھی ٹوٹ گیا تھا۔ اگرچہ ریلوے لائن اور سڑک کے پل تعمیرکروا دیئے گئے لیکن یہاں مستقل بنیادد ں پر منصو بہ بندی کی ضرورت ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔