تخلص بیتی

محمد علی عمران خان  اتوار 25 فروری 2024
اردو کے معروف شعراء کے انتخابِ تخلص کی دل چسپ داستاں ۔ فوٹو : فائل

اردو کے معروف شعراء کے انتخابِ تخلص کی دل چسپ داستاں ۔ فوٹو : فائل

(آخری حصہ)

غ، م، طاؤسؔ

ڈاکٹر شفق ؔسوپوری، غ، م، طاؤسؔ کی حیات و ادبی خدمات پر تحریر شدہ اپنی کتاب میں رقم طراز ہیں،’’کشمیر کے علاقے سری نگر کے رہنے والے میر غلام محمد، زمانہ طالب علمی میں سری نگر کے پرتاپ کالج میں گیارہویں جمات میں زیرتعلیم تھے۔ بانڈی پورہ کا رہنے والا ان کا ایک ہم جماعت دوست غلام علی جو کہ شعر و شاعری کا ذوق رکھتا تھا اور بلبلؔ تخلص کرتا تھا، ان کو لے کر سری نگر کی معروف ادبی شخصیت اور شاعر میرغلام رسول نازکیؔ کے روبرو پیش خدمت ہوا۔

نازکی اؔدبی حلقوں میں استاد شعراء میں شمار کیے جاتے تھے۔ دورانِ گفتگو نازکی ؔنے میر غلام محمد سے شعر گوئی کی بابت پوچھا، تو غلام محمد نے جواب دیا کہ ’’گاہے گاہے باز خواں۔۔۔مگر بغیر از تخلص۔‘‘ چند لمحوں بعد ذکر اقبالؔ پر نازکی ؔصاحب نے اقبالؔ کا ایک شعر پڑھا:

؎کر بلبل و طاؤس کی تقلید سے توبہ

بلبل فقط آواز ہے، طاؤس فقط رنگ

شعر پڑھ کے انہوں نے غلام علی اور میری جانب دیکھا اور بولے غلام علی بلبلؔ اور غلام مصطفی طاؤسؔ۔ بس اسی دن سے انہوں نے اپنا تخلص طاؤس ؔرکھ لیا۔

تخلصؔ بھوپالی

صفیہ ودود تخلصؔ بھوپالی کی حیات و خدمات کے حوالے سے اپنی کتاب میں بیان کرتی ہیں،’’بھوپال کے معروف صحافی، ادیب اور مزاح گو شاعرعبدالاحد خان نے جب شاعری کی دنیا میں قدم رکھا تو اپنے لیے نہایت منفرد اور انوکھے تخلص کا انتخاب کیا۔ انہوں نے لفظِ تخلصؔ کو ہی بطور تخلص اختیار کیا۔

جب اس تخلصؔ کی بابت ان سے استفسار کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ میں نے شعرگوئی کا سفر شروع کیا تو برائے تخلص میں نے سنجیدہ و مزاحیہ تمام شعراء کے ادبی ناموں کا مطالعہ کیا، جس کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ شعراء تقریباً تمام قابلِ استعمال الفاظ کو بطور تخلص استعمال کرچکے ہیں۔ اس لیے بہ امر مجبوری لفظ تخلص ؔکو ہی اپنے لیے تخلص کے طور پر استعمال کرنا پڑا۔ علاوہ ازیں یہ نام اپنی انفردایت کے سبب ادبی دنیا میں بھی ایک نیا تعارف تھا۔‘‘

لطائف ِتخلص

قارئین کی ضیافت طبع کے لیے ذیل میں شعراء و ادباء کے تخلص سے متعلق چند ادبی لطائف بیان کیے جا رہے ہیں جو یادگار کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اردو شاعری کے اولین دور کے شاعر خواجہ ابراہیم غنی ؔکا ابتدائی تخلص ’’مفلسؔ‘‘ تھا۔ ایک دن ’’ریاست سچین‘‘ کے نواب ابراہیم خان یاقوت، جو فن شاعری کے دل دادہ تھے، نے خواجہ سے فرمایا کہ آپ کا تخلص ’’مفلسؔ‘‘ بے جا ہے، ’’غنی‘ؔ‘ تخلص اختیار کرلیں۔‘‘ اس تجویز پر خواجہ صاحب نے برجستہ کہا:

؎کب تک رکھے گا مفلس ؔاے چرخِ بد گہرتو

یاقوتؔ خاں نے مجھ کو اب تو غنی ؔکیا ہے

اردو شاعری کے متقدمین شعراء میں شامل شیخ قائم علی قائم ؔابتدا میں ’’امیدوار‘‘ تخلص کرتے تھے۔ جن دنوں سوداؔ فرخ آباد میں مقیم تھے ان دنوں شیخ قائمؔ، انعام اللہ خان یقین ؔکے صاحب زادے مقبول نبی خان مقبول ؔکی وساطت سے سودا ؔکے حضور شاگردی کی خواہش لیے حاضرِخدمت ہوئے۔ دعا سلام کے بعد مدعا پیش کیا تو سود ا ؔنے کچھ سنانے کی فرمائش کی۔ قائم ؔنے چند غزلیں سنائیں، جب سودا ؔنے تخلص کی بابت دریافت کیا تو جواب ملا ’’امیدوار۔‘‘ سودا ؔتخلص سن کے چند ثانیے خاموش رہے اور پھر بولے:

؎ہے فیض سے کسی کے یہ نخل ان کا باردار

اس واسطے کیا ہے تخلص امیدوارؔ

قائم یہؔ سن کر شرمندہ ہوئے اور واپس آکر اپنا تخلص ’’امیدوار‘‘ سے ’’قائمؔ‘‘ میں بدل دیا، اور پھر کسی کی شاگردی اختیار نہ کی۔

ہر صاحبِ فن کی طرح غلام ہمدانی مصحفیؔ بھی اپنے زمانے کے لوگوں کی ناقدری ٔ فن سے شاکی تھے۔ بالخصوص وہ اہلِ ہند کی مردہ پرستی کا گلہ جا بجا اپنے کلام میں کرتے نظر آتے ہیں۔ ایک جگہ اہالیانِ ہند کی اس عادت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

؎مصحفیؔ خلق ہے اس وقت کی سب مردہ پرست

بد نہ تھا ہم بھی تخلص جو ’’مزاری‘‘ کرتے۔

پنڈت دیا شنکر نسیمؔ اور اور عبدالحلیم شرر ؔکے مابین قلمی معرکہ آرائی چل رہی تھی۔ نسیم ؔکے شاگرد چکبست ؔنے فرضی ناموں سے شرر ؔکے خلاف لکھنؤ کے رسالے اودھ پنچ میں رباعیاں لکھیں جو ان کے دیوان صبح وطن میں بھی شامل ہیں۔ اسی نوعیت کی رباعی میں وہ دونوں حضرات کے تخلص کی رعایت سے کہتے ہیں:

؎بت کی وقعت نہیں خدا کے آگے

کیا زاغ کا رتبہ ہے ہما کے آگے؟

بے کار نسیم ؔسے بگڑتے ہیں شرؔر!!

چنگاری ہے کیا چیز ہوا کے آگے؟؟

محمد میر سوز ؔنے شروع میں اپنا تخلص میرؔ رکھا، مگر بعد ازآں میر تقی میر ؔ کی شہرت کے بعد انہوں نے ازروئے ادب سوز ؔتخلص اختیار کرلیا۔ اس تبدیلی کا اظہار انہوں نے اپنے اس شعر میں بھی کیا ہے:

؎کہتے تھے پہلے میر میر تب نہ ہوئے ہزار حیف

اب جو کہے ہیں سوز ؔسوز ؔیعنی سدا جلا کرو

مرزاغالب کے احباب میں اما م بخش صہبائیؔ کا نام نمایاں ہے۔ اما م بخش اپنے تخلص ’’صہبائی‘‘ کے برعکس پابندِ صوم و صلوٰۃ اور متشرع شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی شخصیت اور تخلص کے اس تضاد سے متعلق غالب کہا کرتے تھے،’’ستم ظریفی دیکھیے، عمر بھر ’صہبا‘ کا ایک بھی چلو نصیب نہ ہوا، مگر تا عمر ’’صہبائی‘‘ کہلاتے رہے۔

احسن ؔمارہروی کتاب ’’بزمِ داغ‘‘ میں لکھتے ہیں،’’نواب مرزا داغ  ؔکے ہاں ایک بار ان کی محبوبہ مُنّی بائی حجابؔ کی فوٹو کھینچنے کا اہتمام ہوا۔ مرزا بضد تھے کہ دونوں ایک ساتھ فوٹو میں آئیں، مگر حجابؔ کو اس پر اعتراض تھا۔ کافی تکرار کے بعد بالآخر مرزا صاحب حجاب کے تنہا فوٹو کھنچوانے پر راضی ہوگئے۔ فوٹوگرافی کا عمل مکمل ہونے کے بعد مرزا صاحب نے اپنے تخلص کی رعایت سے درج ذیل دو اشعار لکھ کر منی بائی کو پیش کیے:

؎تم گر فلکِ حسن پہ ہو ماہِ منیر

سائے کی طرح ساتھ ہے داغِ ؔدلگیر

خال ِلب ِ گلفام ہے شاہد اس کا

بے ’داغ ‘نہ کھنچ سکی تمہاری تصویرؔ

ایک مرتبہ الطاف حسین حالی ؔسہارنپور تشریف لے گئے اور وہاں ایک معزز رئیس کے ہاں ٹھہرے جو بڑے زمیںدار بھی تھے۔ گرمی کے دن تھے۔ حالی ؔایک کمرے میں آرام فرما رہے تھے۔ اس وقت اتفاق سے ایک کسان آگیا۔ رئیس صاحب نے اس

سے کہا کہ یہ جو بزرگ لیٹے ہوئے ہیں ان کو پنکھے سے ہوا دو۔ وہ پنکھا کھینچنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے رئیس سے پوچھا،’’یہ جو بزرگ آرام فرما ہیں یہ کون ہیں؟‘‘ رئیس نے جواب دیا،’’کم بخت تو انہیں نہیں جانتا!، حالاںکہ یہ پورے ہندوستان میں مشہور ہیں یہ مولانا حالی ؔہیں۔‘‘ نام سنتے ہی کسان نے تعجب سے کہا،’’کمال ہے۔ کبھی ہالی (بمعنی موالی) بھی مولانا ہوئے۔‘‘ الطاف حسین حالی ؔجو نیم خوابیدہ حالت میں تھے، کسان کا فقرہ سن کر پھڑک اٹھے، فوراً اٹھ کر بیٹھ گئے اور ہنستے ہوئے رئیس صاحب سے کہنے لگے،’’حضرت!! مجھے اپنے تخلص کی داد آج ملی ہے۔‘‘

ایک مشاعرے میں جہاں عزیزؔ لکھنوی موجود تھے، مرزا واجد علی یگانہ ؔنے اپنی باری آنے پر غزل کا مطلع پڑھنے کا ارادہ کیا اور پشت پر موجود عزیز ؔلکھنوی کو متوجہ کر تے ہوئے کہنے لگے،’’عزیز ؔصاحب ! مطلع ملاحظہ فرمائیے گا، اس شعر کی داد خصوصاً آپ سے چاہوں گا۔‘‘ عزیز ؔصاحب نے ہمہ تن گوش ہوتے ہوئے فرمایا، ارشاد۔ یگانہ ؔنے مطلع پڑھا:

؎محرومیوں میں گزری، ناکامیوں میں گزری

’’عمرِعزیز‘‘ گزری اور خامیوں میں گزری

مطلع کا پڑھنا تھا کہ عزیز ؔصاحب کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا اور سامعین مشاعرہ بڑی دیر تک اس شعر سے محظوظ ہوتے رہے۔

لکھنؤ کے شاعر بحر ؔلکھنوی کے کسی بات پر اپنے زمانے کے معروف ناول نگار عبدالحلیم شرر ؔسے تعلقات بگڑ گئے، جس پر بحر ؔلکھنوی نے عبدالحلیم کے تخلص شرر ؔپر چوٹ کرتے ہوئے درج ذیل ہجویہ شعر لکھا:

؎فلک نے ہم کو دکھایا یہ سردو گرمِ جہاں

کہ آئے قطرے کی صور ت گئے ’’شرر‘‘ کی طرح

خواجہ حیدر علی آتشؔ کے شاگرد میر دوست علی خلیل ؔنے اپنی ایک غزل کے مقطع میں اپنے استاد آتش اؔور اپنے تخلص خلیل ؔکی رعایت سے تلمیحاً حضرت ابراہیمؑ خلیل اللہ کا آتش نمرود میں ڈالے جانے اور اس کے گل زار بن جانے کے واقعے کو کس خوب صورتی سے استعمال کیا ہے، ملاحظہ ہو:

؎اپنے شعر اس لیے ہیں غیرتِ گلزار خلیلؔ

ہم انہیں حضرتِ آتشؔ کو دکھا دیتے ہیں

جگرؔ مرادآبادی سردار عبدالرب نشتر ؔسے ملنے ان کے دفتر تشریف لے گئے۔ اس وقت وہ وزیر تھے، سو ان تک رسائی کچھ آسان نہ تھی۔ چوکی دار نے سمجھا کوئی مانگنے والا فریاد لے کر آیا ہوگا۔ چناںچہ اس نے بے اعتنائی برتی۔ اس کے رویے سے نالاں ہوکر جگرؔ صاحب نے کاغذ کے ایک پرزے ایک مصرعہ لکھا اور سردار عبدالرب نشترؔ کی طرف بھجوایا۔ مصرع درج ذیل ہے:

؎نشتر ؔکو ملنے آیا ہوں میرا جگرؔ بھی دیکھ

جونہی کاغذ کا ٹکڑا اندر گیا تو سردار عبدالرب نشتر ؔبنفس نفیس اپنے دفتر سے باہر تشریف لائے اور جگر ؔصاحب کو عزت و احترام سے ساتھ لے گئے۔

معروف افسانہ نگار حیات اللہ انصاری نے بچوں کے لیے ایک قاعدہ لکھا، جس کی بڑی شہرت ہوئی۔ جدھر دیکھیے ہر ایک زباں پر تھا ’’حیات اللہ قاعدہ۔‘‘ مجاز نے اپنے گردونواح سے جب متواتر یہ نام سنا تو ایک دن جھنجھلا کے بولے،’’کیا حیات اللہ نے اپنا تخلص قاعدہ ؔرکھ لیا ہے۔‘‘

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایک مشاعرے میں جب صاحبِ نظامت نے اسرار الحق مجاز کاؔ نام پکارا تو مجاز ؔصاحب جھومتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھے اور اسٹیج پر موجود جگر ؔمرادآبادی اور دل ؔشاہ جہاں پوری کے درمیان آکر بیٹھ گئے، اور وہیں سے بہ آواز بلند کہا سامعین مطلع پیش خدمت ہے:

؎جگرؔ اور دلؔ کو بچانا بھی ہے

نظر آپ ہی سے ملانا بھی ہے

میرٹھ کے معروف وکیل اور شاعر مولوی محمد یحییٰ تنہا ؔنے، الطاف حسین حالی ؔکو اپنی شادی پر پانی پت مدعو کیا۔ شادی کے بعد حالیؔ، اسماعیلؔ میرٹھی اور بعض دوسرے بزرگ بیٹھے آپس میں گفتگو کر رہے تھے کہ اسماعیلؔ میرٹھی نے مسکراتے ہوئے مولوی محمد یحییٰ تنہا ؔسے کہا،’’اب آپ اپنا تخلص بدل لیں، کیوںکہ اب آپ تنہا نہیں رہے۔‘‘ اس پر حالی ؔکہنے لگے،’’نہیں اسماعیل صاحب! یہ بات نہیں۔ حقیقی معنوں میں  یحییٰ صاحب ’تن ہا‘ تو اب ہوئے ہیں۔‘‘ تمام مجلس حالی صاحب کی اس نکتہ آفرینی پر اش اش کر اٹھی۔

مشہور مزاح گو شاعر احمق ؔپھپھوندوی ایک مشاعرے میں بلائے گئے، جہاں بہت سے ان کے ناپسندیدہ شعراء بھی شریک مشاعرہ تھے۔ اس صورت حال پر انہوں نے اپنے تخلص کا سہارا لیتے ہوئے ان پر اس طرح چوٹ کی:

؎ادب نوازیٔ اہلِ ادب کا کیا کہنا

مشاعروں میں اب احمقؔ بلائے جاتے ہیں

ایک محفل میں کچھ شعراء بیخود دؔہلوی اور سائل ؔدہلوی کا ذکر کر رہے تھے۔ ایک شاعر نے دونوں کے اشعار سنائے جن میں دونوں نے اپنے تخلص کو نظم کیا تھا۔ وہاں حیدر دہلوی بھی موجود تھے۔ شعر سن کے کہنے لگے،’’ان اشعار میں سائل ؔ اور بیخودؔ صرف نام معلوم ہوتے ہیں، کمال تو یہ تھا کہ شعر میں تخلص اس طرح نظم ہوں کہ محض نام معلوم نہ ہوں۔‘‘ کسی نے کہا،’’یہ کیسے ممکن ہے؟‘‘ حیدر دہلوی نے برجستہ یہ شعر کہہ کے سب کو حیران کر دیا:

؎پڑا ہوں میکدے کے در پہ اس انداز سے حیدرؔ

کوئی سمجھا کہ بیخود ؔہے کوئی سمجھا کہ سائلؔ ہے

شفاء الملک حکیم فقیر محمد چشتی سے ملنے چراغ حسن حسرت ؔاور مظفر حسین شمیم ؔحاضر ہوئے۔ حکیم صاحب نے شمیم ؔسے پوچھا،’’آپ کا وطنِ مالوف؟‘‘ جواب ملا ’’رائے پور۔‘‘ کہنے لگے،’’رائے پور، سی پی میں ہے نا!!‘‘جس پر شمیم ؔصاحب نے جواب دیا،’’جی ہاں۔‘‘ تو شفاء الملک بولے’’اچھا!! تو یوں کہیے،آپ سی پی سے تشریف لائے ہیں تو پھر شمیم ؔتخلص کیا؟ موتی ؔتخلص کیا کیجیے۔‘‘

تخلص کی افادیت کے ایک انوکھے پہلو کو قلم بند کرتے ہوئے راغب ؔمراد آبادی لکھتے ہیں:

؎شکست موت نے کھائی ہے آج پہلی بار

خدا کے فضل سے نیچا دکھا دیا میں نے

پلٹ گیا ملک الموت آ کے بالیں پر

بجائے نام تخلص بتا دیا میں نے

تخلص کا ذُومعنی استعمال

غزل کے مقطع میں تخلص کا ذُومعنی استعمال اعلٰی پائے کے شعراء کا خاصا رہا ہے، جو ان کی شاعرانہ مہارت اور ان کے تخلص کی معنویت کا ثبوت بھی ہے، جب کہ اس عمل کو شعری اصطلاحات کی زبان میں ’’استشہاد‘‘ کہا جاتا ہے۔ قارئین کی دل چسپی کے لیے چند ایسے اشعار پیش خدمت ہیں:

؎پینے پہ جب آجاتے ہیں پھر بس نہیں کرتے

مئے خانے میں سنتے نہیں سرشار ؔکسی کی

پنڈت رتن ناتھ سرشارؔ

……………

تخلص کی وہ چنگاری تھی جس نے یہ جہاں پھونکا

اِدھر چمکی، اُدھر سلگی، یہاں پھونکا، وہاں پھونکا

عبدالحلیم شررؔ

……………

؎بڑھا بڑھا کے جفائیں، جھکا ہی دو گے کمر

گھٹا گھٹا کے ؔقمر کو ہلال کر دو گے

قمرؔ جلالوی

……………

رکھا ہے تخلص بہ مجبور سائلؔ، ہوئی احتیاجوں کی جب اتنی مشکل

ملے دانہ کھانے کو جب دانہ مانگو، میسر ہو پینے کو پانی کہو تو

سائل ؔدہلوی

……………

؎مجھے پوچھتے ہیں وہ اس طرح، مرا نام لی کے وہ غیر سے

سرِشام کیا وہی شمسؔ تھا، جو ابھی یہاں سے گزر گیا

شمسؔ جالنوی

……………

بڑھ کے رحمت نے لیا آغوش میں

مجھ سے بیکسؔ کی یہ خاطرداریاں!

بیکس ؔبھیاروی

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔