انداز حکمرانی بدلنے کی ضرورت

محمد سعید آرائیں  منگل 27 فروری 2024
m_saeedarain@hotmail.com

[email protected]

ماضی میں بار بار اقتدار میں رہنے والی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں ایک بار پھر شراکت اقتدار کے معاملات طے ہوگئے جس کے بعد پرانے چہروں والے نئے حکمران پھر اقتدار میں آجائیں گے۔

وفاق، پنجاب اور کے پی کے کی اسمبلیوں میں نئے چہرے زیادہ نظر آئیں گے اور پنجاب میں پہلی بار ایک خاتون وزیر اعلیٰ بن چکی ہیں ، ان کے والد اور چچا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے سربراہ رہے ہیں مگر اس بار پہلی دفعہ انھیں وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کا موقعہ ملا ہے اور انھوں نے اپنوں کا انداز حکمرانی قریب سے دیکھا ہے اور ملک کے سب سے بڑے صوبے کا اقتدار اب ان کے ہاتھ میں ہوگا اور وفاق میں ان کے وہی چچا برسر اقتدار ہوں گے جو پنجاب کے متعدد بار وزیر اعلیٰ رہے اور خود کو خادم اعلیٰ قرار دیتے تھے ۔ تیرہ پارٹیوں کی اتحادی حکومت میں وزیر اعظم بھی رہے اور اب ان کے کچھ گزشتہ اتحادیوں نے وزیر اعظم بنوایا ہے۔

پنجاب کے برعکس سولہ ماہ وفاق میں اپنے اقتدار میں کوئی اچھی مثال قائم نہ کرنے والے اتحادی وزیر اعظم کو پہلے جیسا خوشگوار ماحول میسر نہیں ہوگا اور اسی قومی اسمبلی میں جہاں وہ پی ٹی آئی وزیر اعظم کو سلیکٹڈ قرار دیتے تھے، اب ایوان میں فرینڈلی اپوزیشن نہیں بلکہ ایک حقیقی اپوزیشن بلکہ سیاسی دشمنوں جیسی ایک سخت اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑے گا جو انھیں انتہائی سخت ٹف ٹائم دے گی اور ان کی اتحادی حکومت نہیں چلنے دے گی جو سابق اپوزیشن سے مختلف ہوگی۔

اس بار جے یو آئی کے سربراہ خود اور ان کے تین ارکان بھی اس اتحادی حکومت میں شامل نہیں ہوں گے بلکہ پی ٹی آئی کے ساتھ اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔

16 ماہ کی اتحادی حکومت میں شامل رہنے والی چند نشستوں والے سابق اتحادی بھی اپنی کم نشستوں کے باعث حکومتی ضرورت تو ہوں گے مگر وہ بھی اب اپوزیشن میں بیٹھنا پسند کریں گے کیونکہ پہلے زائد نشستوں کے باوجود ان کی اتحادی حکومت میں وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکے تھے اور اب وہ بھی اپنی سابق اتحادی حکومت پر تنقید کریں گے۔

(ن) لیگ کے سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے ووٹوں سے ہی (ن) لیگی وزیراعظم کو اپنے بعض سخت فیصلوں کے باعث ایوان میں اپنی ہی حلیف پیپلز پارٹی کی سخت تنقید کابھی سامنا ہوگا کیونکہ مسلم لیگ (ن) اپنے منشور پر اور پیپلز پارٹی اپنے منشور پر عمل کرانے کی کوشش کریں گی۔

دونوں بڑی اتحادی پارٹیوں کی اپنی پالیسی اور اپنے نظریات ہیں جنھیں حالات کے جبر نے ایک بار پھر مل کر اتحادی حکومت بنانے پرمجبور کر دیا ہے اور اب 2008 کے حالات نہیں جب ججز بحالی کے مسئلے پر (ن) لیگ پی پی حکومت سے الگ ہوگئی تھی مگر پی پی حکومت برقرار رہی تھی اور صدر آصف زرداری نے ایم کیو ایم اور (ق) لیگ کو ساتھ ملا کر حکومتی مدت پوری کرلی تھی اور پی پی کا وزیر اعظم اکثریت سے برسر اقتدار رہا۔

اب آصف زرداری صدر مملکت تو ہوں گے مگر وزیر اعظم مسلم لیگ (ن) کے میاں شہبازشریف ہوں گے جنھیں 16 ماہ تک پی پی کو ساتھ لے کر چلنے کا تجربہ بھی ہو چکا ہے اور بالاتروں کی حمایت بھی نئی اتحادی حکومت کو حاصل ہوگی جو کمزور حکومت کہلائے گی اور (ن) لیگ کو ہر حال میں پی پی اور صدر مملکت کو ساتھ لے کر چلنا پڑے گا جس کی توقع کم ہے کیونکہ آصف زرداری اپنی شرائط پر ہی (ن) لیگ سے ساتھ نبھائیں گے اور وزارتیں لینے پر آمادہ ہوں گے اور پلڑا پی پی کا بھاری رہے گا۔

آصف زرداری کی صدارت میں سندھ و بلوچستان میں ان کے اپنے وزیر اعلیٰ ہوں گے مگر پنجاب میں اب مریم نواز وزیر اعلیٰ اور مضبوط ہوں گی۔ دونوں بڑی پارٹیوں کے قائدین نے رات گئے جس پریس کانفرنس میں مل کر حکومت بنانے کا اعلان کیا اس میں شرکت اقتدار کا فارمولا تو طے ہو گیا عوام کے مسائل کے حل کے لیے عوام کو کوئی یقین دہانی کرائی گئی نہ عوام کو خواب دکھایا گیا ۔

ممکن ہے اقتدار سنبھالتے ہی اتحادی وزیر اعظم کوئی یقین دہانی کرائیں مگر کہا یہی جائے گا کہ ملک کے معاشی حالات عوام کو کوئی ریلیف دینے کی اجازت نہیں دیتے اس لیے عوام کو دو تین سال انتظار کرنا ہی پڑے گا۔ مریم نواز نے اپنے وعدوں کی تکمیل کے لیے پانچ سال کی مدت دی ہے مگر اب عوام مزید ایک دو سال بھی مزید مہنگائی، بے روزگاری اور بجلی و گیس کے مہنگے نرخ برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔

نگراں حکومت اپنے عوام دشمن فیصلوں سے عوام کو عذاب میں مبتلا کر چکی ہے، اگرچہ نئی اتحادی حکومت نے عوام کو جس عذاب میں پھنسایاہے اس سے عوام سخت مشکل میں ہیں اور انھیں فوری ریلیف درکار ہے۔

نئی اتحادی حکومت کو اپنے ماضی کے برعکس اپنا انداز حکمرانی بدلنا ہوگا اور سادگی اختیار کرنا ہوگی اور عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے اپنے حکومتی اخراجات فوراً کم کرکے عوام کو فوری ریلیف ہر حال میں دینا ہوگاورنہ مضبوط اپوزیشن عوام کو سڑکوں پر لانے میں دیر نہیں کرے گی۔ اب اتحادی حکمرانوں کو بھارتی حکمرانوں کی تقلید میں اپنا طرز حکمرانی بدلنا ہوگا کیونکہ حالات بدل چکے۔ حکومت اب مشکل فیصلے عوام کے لیے نہیں اپنے لیے کرے اور عوام کااعتماد حاصل کرے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔